Asrar-ut-Tanzil - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ ایک چیخ کے منتظر ہیں جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں تو کائنات کی ہر شے اللہ کا ذکر کرتی ہے یہاں بطور خاص اور داود (علیہ السلام) کے معجزہ کے طور پر ارشاد ہے کہ پہاڑ اور پرندے تک ان کے ساتھ صبح و شام ذکر میں شریک ہوتے تھے کہ اجتماعی ذکر اور کسی خاص طریقے سے مل کر ذکر کرنے کی لذت بھی اپنی ہے اور فوائد بھی بہت زیادہ مرتب ہوتے ہیں ہر ذاکر پر اس کی الگ کیفیت وارد ہو کر پھر سب پر تقسیم ہونے لگتی ہیں اور یوں انوکھی فرحت بھی نصیب ہوتی ہے اور ترقی درجات بھی۔ ہم نے انہیں ایک بہت مضبوط سلطنت عطا فرما دی تھی اور جرات خطاب بھی عطا کی تھی کہ بےمثال خطیب بھی تھے۔ یہ سب ارشاد ہورہا ہے کہ آپ کو اس سے بڑھ کر نعمتیں عطا ہوئی ہیں تو سلطنت بھی اس سے بہت بڑی حاصل ہوگی لہذا آپ ان کی پرواہ نہ کیجیے۔ اللہ قادر ہے اور داود (علیہ السلام) کے پاس بھی کچھ لوگ دعوے لے کر ان کے خلوت کدہ میں جہاں وہ عبادت کیا کرتے تھے دیوار پھاند کر پہنچ گئے حالانکہ ایک مضبوط سلطنت کے مالک کی خلوت گاہ اور باہر کڑے پہرے تھے حضرت داود یہ دیکھ کر پریشان ہوگئے تو انہوں نے کہا آپ گھبرائیں نہیں ہم نہ آپ کے دشمن ہیں نہ کسی نقصان پہنچانے کے ارادے سے آئے ہیں ہاں ایک مقدمہ ہے جس میں آپ کا فیصلہ چاہیے اور آپ سے بھی امید ہے کہ بات انصاف کی کریں گے بےانصافی نہ ہوگی۔ بات یہ ہے کہ میرا یہ بھائی جو ننانوے بھیڑوں کا مالک ہے مھ سے ایک بھیڑ مانگ رہا ہے جبکہ میرے پاس صرف یہی ایک بھیڑ ہے اور باتوں باتوں میں مجھ پر دباؤ ڈالتا ہے۔ زبردستی کا چندہ : یہاں معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع (رح) نے لکھا ہے کہ کسی کا مال دباؤ ڈال کرلینے سے جائز نہیں ہوجاتا خصوصاً چندہ کرنے والے جب کسی کو زچ کرکے چندہ وصول کریں تو وہ جائز نہ ہوگا وہی جائز ہے جو خوش دلی سے دیا جائے تو آپ نے فرمایا یہ تو بہت زیادتی ہے کہ یہ تجھ سے ایک بھیڑ بھی چھیننا چاہ رہا ہے اور لوگوں میں جب شراکت کا معاملہ آئے تو اکثر زیادتی کرجاتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایماندار اور نیک ہوں جو کہ عموماً کم لوگ ہوتے ہیں۔ حضرت داود (علیہ السلام) کا واقعہ : یہاں بعض تفاسیر میں عجیب و غریب قصہ درج ہے کہ حضرت کی ننانوے بیویاں بھیں اور کسی اور یا نام سردار کی ایک بیوی۔ تو آپ نے اسے قتل کروا کر چھین لی وغیرہ۔ یہ سب اسرائیلیات ہیں جن کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسی کوئی بات حدیث شریف میں بھی بیان نہیں ہوئی۔ بےغبار بات یہ ہے کہ اللہ نے اس کڑے پہرے میں بندے بھیج کر بتا دیا کہ حکومت و سلطنت بھی اللہ کے مقابلے میں کسی کو روک نہیں سکتی۔ نیز غریب رعایا پر اقتدار و اختیار ہو تو سلطان یا طاقتور کو زیادتی کرنا زیب نہیں دیتا۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ نے ایسا کیا ہو مقصد راہنمائی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ بات سمجھ لی کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی چناچہ اللہ سے بخشش کے طالب ہوئے کہ اگر کوئی ایسا خیال بھی گزرا ہو تو معافی کا طالب ہوں اور فوراً رکوع میں جھک گئے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے اور ہم نے انہیں معاف کردیا اور بخش دیا کہ وہ ہمارے نبی تھے ان کا ہمارے نزدیک بڑا مقام و مرتبہ تھا چناچہ ارشاد ہوا کہ اے داود یہ شان و شوکت اور سلطنت تجھے ہم نے دی ہے وار لوگوں پر آپ ہمارے نائب اور خلیفہ ہیں لہذا اپنی پسند سے حکومت نہ کیجیے گا بلکہ ہمارے حکم کے مطابق لوگوں سے سلوک کیجیے گا کہ انسان کی ذاتی رائے اور پسند تو اس کو غلط راستے پر لے جاسکتی ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں انہیں بہت شدید عذاب سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور گمراہی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں پوری طرح ڈوب جاتے ہیں حتی کہ انہیں آخرت اور یوم حساب یاد تک نہیں رہتا۔
Top