Mufradat-ul-Quran - Saad : 41
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں
وَمَا يَنْظُرُ ہٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَہَا مِنْ فَوَاقٍ۝ 15 نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں صاح الصَّيْحَةُ : رفع الصّوت . قال تعالی: إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] ( ص ی ح ) الصیحۃ کے معنی آواز بلندکرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی ( آتشین ۔ فُوَاقُ والْفُوَاقُ : ما بين الحلبتین . وقوله : ما لَها مِنْ فَواقٍ [ ص/ 15] ، أي : من راحة ترجع إليها، وقیل : ما لها من رجوع إلى الدّنيا . قال أبو عبیدة : ( من قرأ : مِنْ فَواقٍ بالضمّ فهو من فُوَاقِ الناقة . أي : ما بين الحلبتین، وقیل : هما واحد نحو : جمام وجمام) وقیل : اسْتَفِقْ ناقتَكَ ، أي : اترکها حتی يَفُوقَ لبنها، وفَوِّقْ فصیلَكَ ، أي : اسقه ساعة بعد ساعة، وظلّ يَتَفَوَّقُ المخض، قال الشاعر : حتی إذا فيقة في ضرعها اجتمعت الافاقتہ ( افعال ) کے معنی نشہ یاغش کے بعد ہوش میں آنے یا مرض کے بعد ہوش میں آنے یاز مرض کے بعد کمزور سے قوت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں نیز افاقتہ کے معنی دودھ دوہنے کے بعد دودھ کا پھر تھنوں میں ض لوٹ آبھی آتے ہیں اور جو دودھ تھنوں میں لوٹتا ہے اسے فوقتہ کہا جاتا ہے اور ایک دفعہ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ما لَها مِنْ فَواقٍ [ ص/ 15] جس میں شروع ہوئے پیچھے ) کچھ وقفہ نہین ہوگا ۔ جس کے معنی راحت کے ہیں اور بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹنا نہین ہے ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اگر فواق بضم الفاء پڑھا جائے تو یہ فواق لناقۃ کے محاورہ سے مشتق ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ فتحہ اور ضمہ فاء دونوں کے یاک ہی معنی ہیں جیسے جمام وجمام اور بعض نے کہا ہے کہ استفق ناقتک کے معنی یہ ہیں کہ اپنی اونٹنی کو چھوڑ دو تاکہ اس کے تھنوں میں دودھ اتر آئے اور فوق فصیلک کے معنی ہیں کہ اونٹ کے بچہ کو کچھ وقفہ کے بعد دودھ پلاؤ ظل یتعوق المحض وہ دن دن بھر وقفوں کے ساتھ دودھ بلوتا رہا ۔ شاعر نے کہا ہے ( 347 ) حتیا فیقۃ فی ضر عھا اجتمعت حتی کہ جب اس کے تھنوں میں دودھ دوبارہ جمع ہوگیا ۔
Top