Anwar-ul-Bayan - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
(38:18) سخرنا ماضی جمع متکلم تسخیر (تفعیل) سے مصدر ۔ ہم نے تابع کردیا۔ ہم نے بس میں کردیا۔ معہ یسبحن : ای یسبحن معہ یعنی حضرت داؤد کے ساتھ اور ان کی موافقت و متابعت میں پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھے۔ العشی۔ زوال آفتاب سے طلوع فجر تک کا وقت۔ شام۔ العشائ۔ وتوندی تاریکی۔ جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعشی جسے رتوندی کی بیماری ہو۔ اس کی مؤنث عشواء آتی ہے۔ عشی عن کذا۔ کسی چیز سے آنکھیں بند کرلینا۔ اندھا ہوجانا۔ قرآن مجید میں ہے ومن یعش عن ذکر الرحمن (43:36) اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے۔ الاشراق۔ کا معنی ہے روشنی کی چمک کا انتہاء کو پہنچ جانا۔ یہاں بمعنی صبح ہے ای وقت الاشراق۔ معہ یسبحن بالعشی والاشراق۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ (یعنی پہاڑ) اس کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے۔
Top