Tadabbur-e-Quran - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو لگا دیا جو شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے
آیت) حضرت دائود کی ادابیت یہ حضرت دائود ؑ کی ادابیت کی وضاحت ہے کہ وہ شام و صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے اور جب وہ اپنے خاص لحن میں زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور پرندے بھی جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر انکے سر میں اپنے سر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پر سوز لحن اور ان کے درد مند دل میں ایسی تاثیر و تسخیر رکھی تھی کہ ان کے اردگرد کی پوری فضا ان کے صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی اور دشت و جبل، چرند و پرند سب توبہ و مناجات کے لئے ان کے شریک بزم بن جاتے … اس حقیقت کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے لیکن ہمارے نہ سمجھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ان کو نہیں سمجھتا حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پہاڑوں کو موم کردینے والا اور پرندوں کو جذب کر لنیے والا سزو و لحن بخشا تھا اسی طرح ان کو وہ گوش شنوا بھی عطا فرمایا تھا کہ وہ ان کی تسبیح و مناجات کو سمجھ سکیں پچھلی سورتوں میں ان باتوں کی وضاحت ہوچکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔
Top