Asrar-ut-Tanzil - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو بےفائدہ پیدا نہیں فرمایا یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے بڑی خرابی دوزخ (کا عذاب) ہے
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 40: اسرار و معارف : مگر یہ ارض و سما یہ کائنات اس کا ایک مربوط نظام اور ہر کام کے کسی نہ کسی نتیجے کا اظہار خود اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ اتنا بڑا کام بھی ہرگز بےمقصد اور فضول نہیں ہوسکتا اس سارے نظام میں بھی ہر ایک کا ایک کردار ہے جس کا نتیجہ ہونا چاہیے یہ تو کفار کو وہم ہوچلا ہے کہ بس یہی دنیا ہے اور اگر یہاں مال و دولت یا اقتدار مل گیا تو بات بن گئی مگر انہیں اصل ارمان تب محسوس ہوگا جب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ میں داخل ہونا پڑے گا دنیا کے نظام میں بھی غلط طریقے سے کوئی کام درست نہیں ہوتا تو بھلا کیا ہم غلط کار اور بدکار کو ایک صحیح العقیدہ مومن اور نیک شخص کے برابر شمار کریں گے یا اپنے محبوب بندوں کو بدکاروں کے برابر جانیں گے ہرگز نہیں اور اس بارے میں کسی کو غلط فہمی کا شکار نہ ہونا چاہیے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرم ادی جو برکات کا خزانہ ہے کہ اس کے ارشادات میں غور کریں مگر غور فکر سے نتائج حاصل کرنے کے لیے تو عقل و شعور کی ضرورت ہے لہذا جن کی عقل سلامت ہے اور گناہوں سے تاریک نہیں ہوگئی وہ لوگ ہی بات سمجھ پائیں گے۔ ہم نے داود (علیہ السلام) پر مزید احسان فرماتے ہوئے اسے سلیمان (علیہ السلام) جیسا فرزند عطا فرمایا کیا ہی خوبصورت بندہ تھا اور بہت ہی زیادہ اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے بلکہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اللہ کی بارگاہ میں حضور کے طالب تھے یہاں تک کہ ایک شام بہت ہی اچھے اور خوبصورت گھوڑے شاہی معائنہ کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے اور آپ نے تا دیر ان کا معائنہ فرمایا اور جب فارغ ہوئے تو فرمایا میں نے اتنی دیر خوبصورت گھوڑوں کو دیکھنے میں صرف کردی اور اللہ کی یاد جو اس کی بارگاہ میں حضور کا سبب تھی اس سے اتنی دیر الگ رہا کہ سورج ڈوب گیا ہے سب گھوڑوں کو دوبارہ لایا جائے چناچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے سب کو ذبح کردیا اور بطور قربانی اللہ کے نام پر ان کی گردنیں کاٹ دیں گویا عبادت یا اذکار کا معمول چھوٹ جائے تو بطور کفارہ صدقہ دینا یا نوافل ادا کردینا یا کوئی بھی ایسا کام بطور کفارہ جس کی شرعاً اجازت ہو بہت مستحسن بھی ہے اور آئندہ کے لیے تنبیہ کا کام بھی کرتا ہے۔ پھر ہم نے انہیں ایک اور آزمائش میں ڈالا کہ تخت پر ایک دھڑ لا ڈالا۔ اس کی کوئی تفسیر حدیث شریف میں مذکور نہیں اور نہ ہی قرآن نے اس کی وضاحت فرمائی ہے مفسرین کرام نے کئی واقعات نقل فرمائے ہیں مگر مضمون قرآن اس پہ دلالت کرتا ہے کہ تخت پر ڈالنے سے مراد کسی نااہل کا ان کے تخت پر قابض ہوجانا ہی ہوسکتا ہے اور یہ بہت بڑا امتحان تھا کہ اتنی بڑی سلطنت کا یوں چھن جانا معمولی بات نہ تھی مگر آپ اللہ کے نبی اور محبوب تھے آزردہ خاطر ہونے کی بجائے مزید اللہ کی طرف رجوع ہوگئے کہ حکومت و سلطنت تو مقصد نہ تھا مقصد اللہ کی رضا سے تھا جو بہرحال حاصل تھی چناچہ وہ بات ٹل گئی تو آپ نے دعا کی بار الہا مجھے معاف فرما کہ میں ہمیشہ تیری رضا کا طالب ہی رہو مگر اپنے احکام کے نفاذ کے لیے مجھے اتنی عظیم اور بےمثل سلطنت اور طاقتور حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کوئی ایسی حکومت کا تصور بھی نہ کرسکے کہ تو سب کچھ عطا کرسکتا ہے یعنی بہت ہی عظیم الشان حکومت کہ تصور انسانی بھی اسے نہ پا سکے کہ ایسا بھی ہوتا ہے یہ ثابت ہوا کہ اقتدار فی نفسہ تو اچھی چیز نہیں لیکن اقامت دین مقصد ہو تو اس کا حصول بھی تکمیل مقصد کے لیے ضروری اور مستحسن ہے۔ چنانچہ ہم نے انہیں روئے زمین کی ہر شے پر حکومت بخش دی کہ ہوا تک ان کے تابع فرمان ہوگئی اور جہاں تشریف لے جانا چاہتے مزے مزے سے لاؤ لشکر سمیت اڑا کرلے جاتی۔ اور سارے جنات تک ان کے تابع کردئیے کوئی عمارتیں بناتے اور کوئی سمندروں کی تہہ سے جواہرات اور موتی نکال کر لاتے غرض ہر طرح کی خدمت کرتے جو اطاعت میں کوتاہی کرتے آپ انہیں سزا دیتے اور زنجیروں میں جکڑ دیتے تھے۔ اور فرمایا یہ ہماری عطا ہے اور ہم نے آپ کو اس ساری سلطنت کا مالک بنا دیا ہے کسی کو عطا کریں ی انہ اب آپ کے اختیار میں ہے اور اصل مرتبہ کا اظہار تو ہمارے پاس آ کر ہوگا کہ ہمارے نزدیک ان کا کتنا بڑا مرتبہ ہے اور انہیں کتنا خوبصورت انجام نصیب ہوگا۔
Top