Urwatul-Wusqaa - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بےفائدہ پیدا نہیں کیا یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں چناچہ کافروں کے لیے دوزخ کے عذاب کی سزا ہے
27۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کیا جا رہا ہے کہ آپ اپنے امتی لوگوں کو سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو عبث و بیکار پیدا نہیں کیا جیسا کہ آپ کے دور کے مشرک و کفار اور آپ سے پہلے کے منکرین و معاندین کا خیا ہے کہ زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے اس میں خوب عیش و عشرت کرلو ، خوب مزے اڑا لو ، دولت کمائو جتنی کما سکتے ہو اور حلال و حرام کے چکر میں نہ پڑو یہ تو ملائوں کی من گھڑت باتیں ہیں ، جاہ و منصب حاصل کرنے کے لیے کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو ہونے دو ، مکرو فریب سے کام نکلتا ہے تو نکالو ، اپنا مطمع نظر اچھی طرح قائم کرلو کہ بس فلاں چیز کو حاصل کرنا ہے اور پھر اس کو حاصل کرنے میں زندگی کھپائو۔ قیامت و یا مت کچھ نہیں ہے بس یہ ایسی ہی دھمکیاں ہیں ان لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مطمع نظر کا خیال نہ چھوڑ دو ۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر یہ تمہاری باتیں درست اور صحیح ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین و آسمان کا یہ سارا نظام عبث و بیکار اور بےمقصد بنایا گیا ہے جب کہ ایک مومن اور فاسق کے درمیان کوئی فرق بھی نہیں۔ بس جو کچھ ہے وہ یہی کچھ ہے کہ دب دب کے واہ اور رج رج کے کھا۔ گویا یہ دب دب کے واہنے کے لیے صحت و تندرستی اور طاقت و قوت کی کوئی ضرورت ہی نہیں ؟ اگر ہے تو آخر وہ کس نے دی ہے جب کہ خدا کوئی نہیں ایسے واہیات لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کان کھول کر سن لو ! اس کائنات کے خالق ہم ہیں اور ہم نے کوئی چیز بھی عبث اور بیکار پیدا نہیں کی اور یہ کہ ہمارا کوئی کام بےمقصد نہیں ہے اور ہماری کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہے۔ تم لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم نے تمہاری آزمائش کرلیے اس دنیا میں تم کو لا بسایا ہے تاکہ تمہارے اعمال کا اندازہ کریں کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی اس طرح جس طرح تم آگئے ہو ذرا بتائو کہ ہتم اپنی مرضی سے آئے یا اپنی مرضی سے جائو گے ؟ پھر جب تم خود بھی اپنے مرضی سے نہیں آئے اور اپنی مرضی سے نہیں جائو گے تو تم کو کیا حق ہے کہ آخر قیامت کا انکار کرو۔ بہر حال تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کے حق ہونے کا کیا تعلق ہم نے تو یہ دن مقرر ہی اس لیے کیا ہے کہ اس روز متقی اور پرہیزگار ہمارے انعامات اخروی سے مالا مال ہوں اور فاسق وفاجر ذلیل و رسوا ہوں۔ حق کا بول بالا ہو اور سارے غلط فہموں کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں اور کافروں کے حصہ میں جو آگ ہے ان کو اس میں پھینک دیا جائے تاکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں جلتے اور گلتے رہیں۔
Top