بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Jalalain - Al-Muminoon : 1
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ
قَدْ اَفْلَحَ : فلائی پائی (کامیاب ہوئے) الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن (جمع)
بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے
بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی امانتوں کی امانات جمع اور مفرد دونوں قرأتیں ہیں آپسی (معاملات) اور اپنے اور اللہ کے درمیان عہد و پیمان (مثلاً ) نماز وغیرہ کی حفاظت کرنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی صلوات جمع اور مفرد دونوں قرأتیں ہیں، ان کے اوقات میں پابندی کے ساتھ قائم کرنے والے ہیں ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں نہ کہ دوسرے جو فردوس کے وارث ہوں گے وہ اعلیٰ درجہ کی جنت ہے (اور) وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے، اس (آیت) میں معاد (انجام) کی جانب اشارہ ہے اس کے بعد مبدا کا ذکر مناسب ہے، قسم ہے ہماری ذات کی کہ ہم نے انسان آدم کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا اور سلالۃ سَلَلْتُ الشئَ من الشئِ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا اور وہ جو ہر مٹی کا خلاصہ ہے، مِنَ الطین کا تعلق سلالۃً سے ہے، پھر ہم نے انسان یعنی نسل آدم کو نطفہ منی سے بنایا جو کہ ایک محفوظ جگہ میں رہا وہ رحم ہے پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا (یعنی) بستہ خون بنایا، پھر ہم نے خون کے اس لوتھڑے کو چبائے جانے کے لائق (چھوٹی) گوشت کی بوٹی بنادیا پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا، اور ایک قرأت میں دونوں جگہوں پر (عظام کے بجائے) عظم ہے۔ اور خَلَقْنَا تینوں جگہوں پر صَیَّرنا کے معنی میں ہے پھر ہم نے اس کو اس میں روح پھونک کر ایک دوسری ہی مخلوق بنادیا سو کیسی شان ہے اللہ کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر صانع ہے اور خالقین بمعنی مقدرین (اندازہ کرنے والا) ہے اور اَحْسَنَ کی تمیز خلّقًا اس کے معلوم (متعین) ہونے کی وجہ سے محذوف ہے پھر تم اس کے بعد بالیقین مرنے والے ہو پھر تم یقیناً اس کے بعد قیامت کے دن حساب اور جزاء کیلئے اٹھائے جانے والے ہو اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق بمعنی آسمان ہے اور طرائق طریقۃ کی جمع ہے اس لئے کہ آسمان فرشتوں کے راستہ ہیں اور ہم آسمان کے نیچے مخلوق سے بیخبر نہ تھے کہ آسمان ان کے اوپر گرجائے پس وہ ہلاک ہوجائیں بلکہ ہم آسمانوں کو تھامے ہوئے ہیں جیسا کہ ایک آیت میں ہے یمسک السماءَ أنْ تَقَعَ عَلَی الاَرضِ اور ہم نے (مناسب) مقدار کے ساتھ بقدر کفایت آسمان (بادل) سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس (پانی) کو زمین پر ٹھہرا دیا اور ہم اس (پانی) کو معدوم کردینے پر بھی قادر ہیں سو سب کے سب معہ اپنے جانوروں کے پیاس سے مرجائیں پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے مذکورہ دونوں چیزیں عرب میں بکثرت پیدا ہونے والے میوے (پھل) ہیں ان میں سے تم کھاتے بھی ہو گرمی اور سردیوں میں اور ہم نے ایک درخت پیدا کیا جو سیناء پہاڑ میں پیدا ہوتا ہے سَیِنا سین کے کسرہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ ہے اور غیر منصرف مانا گیا ہے علمیت کی وجہ سے اور بقعہ کے معنی میں ہونے کی وجہ سے تانیث کے پائے جانے کی سبب سے جو اگتا ہے تیل لئے ہوئے تنبتُ میں رباعی اور ثلاثی دونوں درست ہیں، پہلی (یعنی رباعی کی) صورت میں با زائدہ ہے، اور دوسری (یعنی ثلاثی کی) صورت میں با تعدیہ کیلئے ہے اور وہ زیتون کا درخت ہے اور کھانے والوں کیلئے سالن لئے ہوئے اس کا عطف الدھن پر ہے یعنی سالن جو رنگ دیتا ہے لقمہ کو اس میں ڈبونے کی وجہ سے اور وہ نیل ہے اور تمہارے لئے مویشیوں میں یعنی اونٹ گائے اور بکریوں میں عبرت ہے، یعنی نصیحت ہے کہ جن سے تم عبرت حاصل کرسکتے ہو، کہ ہم تم کو ان کے جوف کی چیز میں سے یعنی دودھ پینے کیلئے دیتے ہیں نسقیکم نون کے ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ ہے اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان سے اور اونٹوں کے بالوں سے اور گائے (وغیرہ) کے بالوں سے اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو اور اونٹوں پر اور کشتیوں پر (سوار ہوکر) کودے پھرتے ہو۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قَدْ تحقیق کیلئے ہے یعنی جب ماضی پر داخل ہوتا ہے تو ثبات پر دلالت کرتا ہے اسی وجہ سے ماضی کو حال کے قریب کردیتا ہے اور متوقع کو ثابت کردیتا ہے مومنین چونکہ فضل خداوندی کے امیدوار تھے اس لئے ان کی بشارت کو قد سے شروع فرمایا، اور چونکہ اس بشارت کا وقوع یقینی ہے اس لئے ماضی کے صیغہ سے تعبیر فرمایا۔ قولہ : اَفلحَ فلاح لغت میں مقصد میں کامیابی اور مکروہات سے نجات کو کہتے ہیں (کما فی ابو سعود) اور بعض حضرات نے فرمایا فلاح بقاء فی الخیر کو کہتے ہیں۔ قولہ : للذکوۃ فاعلون، زکوٰۃ معنی مصدری یعنی زکوٰۃ ادا کرنے اور مال زکوٰۃ کو کہتے ہیں یہاں معنی مصدری مراد ہیں اس لئے کہ فاعل معنی حدثی کا ہوتا ہے نہ کہ محل فعل کا، یعنی وہ لوگ کامیاب ہوئے جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اب رہا یہ سوال کہ اداء زکوٰۃ کے سلسلہ میں معروف تعبیر مثلاً ایتاء الزکاۃ یؤتونَ الزکوٰۃ یا اٰتَوْ الزکوٰۃ کو چھوڑ کر للزکوٰۃِ فاعِلُوْنَ کی تعبیر کیوں اختیار فرمائی، جواب یہ ہے کہ للزکوٰۃ فاعلون بھی کلام عرب میں مستعمل ہے، امیہ بن ابی صلت نے کہا المُطْعِمون الطَّعامَ فی السنۃِ الاَّزمَۃِ والفاعلون للزکوٰۃ (روح البیان) دوسرا جواب یہ ہے کہ فواصل کی رعایت مقصود ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہاں عین زکوٰۃ بھی مراد ہوسکتی ہے مگر مضاف محذوف ماننا ہوگا ای والَّذِینَ ھُمْ لتادیتہ الزکوٰۃ فاعلون۔ قولہ : والَّذِیْنَ ھُمْ لفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ اس آیت سے حرمت متعہ پر استدلال کیا ہے، اَخْرَجَ ابن ابی حاتم عن القاسم بن محمد انہ سُئِلَ عن المتعۃِ فقرأ ھٰذہ الآیۃ قال فَمن ابتغٰی وراءَ ذٰلک فَھوَ عادٍ ، وروی عن ابن ابی ملیکۃ سألتُ عائشۃ ؓ عن المتعۃِ فقالت بینی وبینھمُ القرآن، ثم قرء الآیۃ قالت فمَن ابتغٰی وراءَ ذٰلک غیر مازوجہ اللہ او ملکہ یمینہٗ فَقَدْ عَدا۔ قولہ : ای من ازواجھم اس میں اشارہ ہے کہ علی بمعنی مِن ہے۔ قولہ : اَوْمَا ملکت، ما سے مراد باندیاں ہیں مَنْ کی بجائے ما سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عورتیں ناقصات العقل ہوتی ہیں اور خاص طور پر جو مملوکہ بھی ہوں لہٰذا مشابہ بالبہائم ہونے کی وجہ سے ما سے تعبیر فرمایا ہے مَا ملکت اپنے عموم کی وجہ سے اگرچہ غلام اور باندی دونوں کو شامل ہے مگر یہاں صرف باندیاں ہی مراد ہیں اس لئے کہ مالکن کا اپنے غلام سے وطی کرنا بالاتفاق جائز نہیں ہے غیر ملومین میں اس طرف اشارہ ہے کہ اسی کو مقصد بنا لینا کوئی قابل ستائش بات نہیں ہے ہاں البتہ انسانی طبعی ضروریات کو پورا کرنا کی حد تک اجازت ہے۔ قولہ : کالاستمناء بالید امام مالک (رح) اور شافعی (رح) نیز ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک استمناء بالید حرام ہے امام احمد بن حنبل (رح) نے فرمایا کہ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے (1) زنا میں مبتلا ہونے کے اندیشہ کے پیش نظر (2) مہر ادا کرنے یا باندی خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں (3) یہ اپنے ہاتھ سے ہو نہ کہ اجنبی یا اجنبیہ کے ہاتھ سے، (حاشیہ جلالین) ۔ قولہ : سَرَاری سُرِّیَّۃ کی جمع ہے بمعنی باندی، یہ سرِّ سے ماخوذ ہے جس کے معنی جماع یا اخفا کے ہیں اس لئے کہ بسا اوقات انسان باندی کے ساتھ ہمبستری اپنی آزاد بیوی سے مخفی رکھنا چاہتا ہے اسی لئے اس کو سریہ کہتے ہیں یا پھر سرور سے مشتق ہے جس کے معنی خوشی کے ہیں چونکہ مالک باندی سے خوش ہوتا ہے اس لئے اس کو سرّیہ کہتے ہیں۔ قولہ : فإنھم غیر ملومین یہ استثناء کی علامت ہے۔ قولہ ؛ اولئک ھم الوارثون لاغیرھم لاغیرھم کا اضافہ جملہ معرفۃ الطرفین سے حصر مستفاد کو ظاہر کرنا، جملہ جب معرفۃ الطرفین ہو جیسا کہ مذکورہ جملہ ہے تو اس سے حصر مستفاد ہوتا ہے، نیز طرفین کے درمیان ضمیر ھم یہ بھی حصر پر دلالت کرتی ہے، یہاں حصر سے حصر اضافی مراد ہے نہ کہ حقیقی، اس لئے کہ یہ بات ثابت ہے کہ مذکورہ اشخاص کے علاوہ مثلاً بچے اور مجانین وغیرہ بھی جنت میں داخل ہوں گے اور اگر حصر حقیقی مراد ہو تو جنت الفردوس کے اعتبار سے ہوگا یعنی جنت الفردوس میں مذکورہ اشخاص ہی داخل ہوں گے گو دیگر جنتوں میں دیگر اشخاص بھی داخل ہوں گے۔ قولہ : ویناسبہ ذکر المبداء بعدہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس آیت اور سابقہ آیت کے درمیان مناسبت ربط کو بیان کرنا ہے قولہ : واللہ لقَدْ خلقنا لفظ اللہ کو محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ واؤ قسمیہ ہے اور لقد میں لام جواب قسم پر داخل ہے۔ قولہ : جعلناہ ای الانسان نسل آدم ہٗ ضمیر ماقبل میں مذکور انسان کی طرف راجع ہے مگر مراد نسل آدم ہے اور انسان سے جو کہ مرجع ہے، آدم مراد ہے غرضیکہ یہاں کلام میں صنعت است خدام ہے، صنعت است خدام اس کو کہتے ہیں کہ مرجع سے ایک معنی مراد ہوں اور مرجع کی طرف لوٹنے والی ضمیر سے دوسرے معنی مراد ہوں۔ قولہ : وانشانا شَجَرَۃً انشانا محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ شجرۃ کا عطف جنات پر ہے۔ قولہ : اَحْسَنُ الخالقین ای المقدرین، المقدرین کے اضافہ کا مقصد اس شبہ کو دور کرنا ہے کہ اسم تفصیل مشارکت کا تقاضہ کرتا ہے حالانکہ خدا کے سوا کوئی خالق نہیں ہے تو جواب دیا کہ خلق سے مراد تقدیر و تصویر ہے نہ کہ ایجاد و تخلیق لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں قولہ : للعلم بہ چونکہ لفظ خالقین خلقاً پر دلالت کرتا ہے لہٰذا اس قرینہ کی وجہ سے تمیز کو حذف کردیا۔ قولہ : فوقکُمْ سَبْع طرائقِ فوق سے مراد مطلقاً علو ہے نہ کہ انسانوں کے سروں کے اوپر اس لئے کہ جس وقت آسمانوں کو پیدا کیا گیا تھا اس وقت انسان موجود نہیں تھا تو پھر فوقکم کہنا کس طرح درست ہے، معلوم ہوا فوقکُمْ سے مطلقاً علو مراد ہے۔ تفسیر و تشریح قد افلح المؤمنون، لفظ فلاح قرآن و سنت میں بکثرت استعمال ہوا ہے اذان و اقامت میں بھی پانچوں وقت مسلمانوں کو صلاح و فلاح کی طرف دعوت دی جاتی ہے، فلاح کے معنی یہ ہیں کہ ہر مراد حاصل ہو اور ہر تکلیف دور ہو، اور یہ ظاہر ہے کہ مکمل فلاح کہ ایک مراد بھی ایسی نہ رہے کہ جو پوری نہ ہو اور ایک بھی تکلیف ایسی نہ ہو کہ دور نہ ہو یہ دنیا میں کسی بڑے سے بڑے انسان کے بس میں نہیں چاہے دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہفت اقلیم کا مالک ہی کیوں نہ ہو، یا بڑے سے بڑا رسول اور پیغمبر ہی کیوں نہ ہو اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی چیز خلاف طبع پیش نہ آئے اور ہر خواہش ہر وقت پوری ہوجائے، یہ متاع گراں مایہ تو ایک دوسرے عالم یعنی آخرت ہی میں جنت میں مل سکتی ہے، البتہ اکثری حالات کے اعتبار سے فلاح دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرما سکتے ہیں، آیات مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے کا وعدہ ان مؤمنین سے کیا ہے جن میں وہ سات صفات موجود ہوں جن کا ذکر ان آیات کے اندر آیا ہے۔ فلاح کیلئے مومن کامل کے سات اوصاف : سب سے پہلا وصف تو مومن ہونا ہے، ایمان کے اصل الاصول اور بنیادی اصول ہونے کی وجہ سے الگ ذکر فرمایا ہے (پہلا وصف) نماز میں خشوع و خضوع ہے، خشوع کے لغوی معنی قلب وجوارح میں سکون کا ہونا یعنی دل اللہ کی طرف مائل اور اعضاء بدن میں سکون ہو عبث اور فضول حرکتیں نہ کرے، حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نماز کے وقت اپنے بندے کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک وہ دوسری طرف التفات نہ کرے جب بندہ دوسری طرف التفات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے رخ پھیر لیتے ہیں (رواہ احمد و النسائی وغیرہ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز میں اپنی ڈاڑھی سے کھیل رہا ہے تو آپ نے فرمایا لو خَشِبَ قلبُ ھٰذا لخشعَتْ جوارحُہٗ (رواہ حاکم والترمذی بسند ضعیف) یعنی اگر اس شخص کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی سکون ہوتا۔ (مظہری) نماز میں خشوع کا درجہ : امام غزالی و قرطبی اور بعض دوسرے حضرات کے نزدیک نماز میں خشوع فرض ہے اگر پوری نماز بغیر خشوع کے گذر جائے تو نماز ادا ہی نہ ہوگی، دیگر بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خشوع نماز کی روح ہے اس کے بغیر نماز بےجان ہوتی ہے مگر رکن کی حیثیت سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خشوع کے بغیر نماز ہی درست نہ ہوگی، اس کا اعادہ ضروری ہوگا، حکیم الامت حضرت تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ خشوع صحت صلوٰۃ کے لئے موقوف علیہ نہیں ہے ہاں البتہ قبولیت صلوٰۃ کیلئے موقوف علیہ ہوسکتا ہے۔ دوسرا وصف : لغو سے پرہیز کرنا ہے، لغو کے معنی فضول کلام یا فضول کام کے ہیں یعنی جس میں کوئی فائدہ نہ ہو لغو کا اعلیٰ درجہ معصیت اور گناہ سے اجتناب لازم ہے، اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ نہ مفید ہو اور نہ مضر، اس کا ترک کم از کم اولیٰ اور موجب مدح ہے، آپ ﷺ نے فرمایا من حسن اسلام المرأ ترکہ مالا یعنیہ یعنی انسان کا اسلام جب اچھا ہوتا ہے جب وہ بےفائدہ چیزوں کو چھوڑ دے تیسرا وصف زکوٰۃ : زکوٰۃ کے معنی لغت میں پاک کرنے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں مال کا ایک مخصوص حصہ کچھ شرائط کے ساتھ صدقہ کرنا ہے، اور قرآن کریم میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے، اس آیت میں یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں، اس پر یہ شبہ کہ آیت مکی ہے اور زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی ہے، اس کا جواب ابن کثیر مفسرین وغیرہ نے یہ دیا ہے کہ اصولی طور پر زکوٰۃ کی فرضیت مکہ ہی میں ہوچکی تھی، سورة مزمل جو بالاتفاق مکی ہے اسمیں اقیموا الصلوٰۃ کے ساتھ آتو الزَّکوٰۃ کا ذکر موجود ہے، مگر اس کے نصاب کی تفصیلات اور سرکاری طور پر اس کے وصول کرنے کا نظام ہجرت کے بعد ہوا ہے، بعض حضرات نے یہاں زکوٰۃ کے لغوی معنی مراد لئے ہیں یعنی تزکیہ نفس اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں زکوٰۃ سے اصطلاحی کے معنی مراد لئے گئے ہیں وہاں ایتاء الزکوٰۃ، یوتون الزکوٰۃ، وآتوالزکوٰۃ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے یہاں عنوان بدل کر للزکوٰۃ فاعلون کی تعبیر اختیار فرمائی ہے، یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں زکوٰۃ کے اصطلاحی معنی مراد نہیں ہیں اگر یہاں زکوٰۃ کے اصطلاحی معنی مراد لئے جائیں تو بغیر تاویل کے نہیں ہوسکتا لہٰذا یہاں تزکیہ نفس ہی مراد ہوگا یعنی اپنے نفس کو رذائل سے پاک صاف کرنا تو وہ بھی فرض ہی ہے کیونکہ شرک، ریاء، تکبر، حسد، بغض وغیرہ رذائل نفس کو پاک کرنا تزکیہ کہلاتا ہے۔ چوتھا وصف : شرمگاہ کی حفاظت حرام سے، والذین ھم لفروجھم حافظون الا علیٰ ازواجھم او ما ملکت ایمانھم یعنی وہ لوگ جو اپنی بیویوں اور شرعی لونڈیوں کے علاوہ سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ناجائز شہوت رانی نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کیلئے بھی فلاح کی ضمانت ہے فانھم غیر ملومین اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس ضرورت کو ضرورت کے درجہ میں رکھنا چاہیے، مقصد زندگی نہیں بنانا چاہیے ایسا کرنے والا قابل ملامت نہیں۔ فمن ابتغی۔۔۔۔ العدون، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی باندی سے شرعی قاعدے سے قضاء شہوت کرنے کے علاوہ کوئی صورت حلال نہیں ہے اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت اس پر شرعاً حرام ہے اس سے نکاح بھی بحکم زنا ہے، اسی طرح متعہ نیز اپنی بیوی سے حالت حیض و نفاس میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے یعنی کسی مرد یا جانور سے شہوت پوری کرنا بھی اور جمہور کے نزدیک استمناء بالید بھی (بیان القرآن، قرطبی بحوالہ معارف) پانچواں وصف : امانت کا حق ادا کرنا والذین ھم لأمانتھم کے لغوی معنی ہر اس چیز کو شامل ہیں جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اٹھائی ہو اور اس پر اعتماد بھروسہ کیا گیا ہو اس کی قسمیں چونکہ بیشمار ہیں اسی لئے مصدر ہونے کے باوجود صیغۂ جمع کے ساتھ لایا گیا ہے تاکہ امانت کی تمام قسموں کو شامل ہوجائے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے حقوق اللہ سے متعلق تمام فرائض و واجبات کا ادا کرنا اور تمام محرمات و مکروہات سے اجتناب کرنا اور حقوق العباد سے متعلق امانات میں مالی امانت تو مشہور و معروف ہے ہی، اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی سے کہی اور ظاہر کرنے سے منع کردیا بھی یہ امانت ہے بغیر شرعی اذن کے کسی کا راز ظاہر کرنا امانت میں خیانت ہے، اسی طرح مزدور و ملازم کو جا کام سونپا گیا ہے اس کیلئے جتنا وقت صرف کرنا طے کیا گیا ہے اس کو اس کام میں لگانا بھی امانت ہے، کام کی چوری یا وقت کی چوری خیانت ہے۔ چھٹا وصف : وعھدھم راعون عہد پورا کرنا، ایک عہد تو وہ ہوتا ہے جو طرفین سے ہوتا ہے اس کو عرف میں معاہدہ کہتے ہیں اس کو پورا کرنا فرض اور اس کے خلاف کرنا غدر اور دھوکا ہے، دوسرا وہ جس کو وعدہ کہتے ہیں مثلاً کسی کو کچھ دینے یا کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرلے اس کا پورا کرنا بھی شرعاً لازم ہے، حدیث شریف میں ہے العِدۃُ دین یعنی وعدہ ایک قسم کا قرض ہے، جس طرح قرض کی ادائیگی واجب ہے وعدہ پورا کرنا بھی واجب ہے بلاعذر شرعی اس کا خلاف کرنا گناہ ہے فرق دونوں میں یہ ہے کہ معاہدہ کو پورا کرانے کے لئے فریق ثانی کو بذریعہ عدالت بھی مجبور کرسکتا ہے یک طرفہ وعدہ کو پورا کرنے کیلئے بذریعہ عدالت مجبور نہیں کرسکتا، دیانۃً اس کا بھی پورا کرنا لازم ہے۔ (معارف) ساتواں وصف : نماز کو وقت پر آداب و حقوق کی رعایت کے ساتھ ادا کرنا، دنیوی معاملات میں پڑ کر عبادت الٰہی سے غافل نہ ہونا، یہ ہیں مومنین مصلحین کی سات صفات، یہ بات قابل گور ہے کہ ان سات اوصاف کو شروع بھی نماز سے فرمایا اور ختم بھی نماز پر کیا گیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز خدا تعالیٰ کے نزدیک کس قدر اہم ہے اگر نماز کی پابندی اور آداب کی رعایت کے ساتھ پڑھا جائے تو باقی اوصاف اس میں خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں۔ اولئک ھم الوارثون، اوصاف مذکورہ کے حاملین کو اس آیت میں جنت الفردوس کا وارث فرمایا گیا ہے لفظ وارث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح مورث کا مال اس کا وارث کو پہنچنا ضروری ہے اسی طرح ان اوصاف کے حاملین کا جنت میں داخل ہونا یقینی و ضروری ہے۔ ولقد خلقنا۔۔۔ طین، اللہ تعالیٰ نے عبادت کی ترغیب اور عبادت پر اور جنت الفردوس کے وعدہ کے بعد مبداء کو بیان فرمایا سابقہ آیت میں معاد کا ذکر فرمایا تھا مبدأ اور معاد میں مناسبت ظاہر ہے۔ قولہ : ولقد، لقد قسم محذوف کا جواب ہے ای واللہ لَقَدْ ۔ قولہ : سُلالۃ بمعنی خلاصہ، جوہر۔ قولہ : طین گیلی مٹی، مطلب یہ ہے کہ زمین کے خاص اجزاء نکال کر اس سے انسان کو پیدا کیا گیا، انسان کی تخلیق کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی ابتدا اس مٹی کے خلاصہ سے ہوئی اس لئے ابتدائی تخلیق کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس کے بعد ایک انسان کا نطفہ دوسرے انسان کی تخلیق کا سبب بنا، اگلی آیت ثم جعلناہ نطفۃ میں اسی کا بیان ہے۔ تخلیق انسانی کے سات مدارج : آیات مذکورہ میں تخلیق انسانی کے سات مدارج ذکر کئے گئے ہیں سب سے پہلے سُلٰلۃ مِنْ طِین دوسرے دور میں نطفۃ تیسرے دور میں علقہ چوتھے دور میں مضغہ پانچویں دور میں عظام یعنی ہڈیاں چھٹے دور میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانا۔ ساتواں دور۔ تخلیق کا ہے یعنی روح پھونکنے کا۔ چم انشاناہ۔۔۔ خلقاً ، آخر کی تفسیر حضرت ابن عباس، مجاہد، شعبی، عکرمہ، ضحاک، ابو العالیہ وغیرہ نے نفخ روح سے فرمائی ہے، اس روح سے روح حیوانی مراد ہے، روح حیوانی جسم لطیف مادی شئ ہے جو جسم انسانی کے ہر ہر جز میں سمایا ہوا ہوتا ہے، اطبا اور فلاسفہ اسی کو روح کہتے ہیں اس کی تخلیق بھی تمام اعضاء انسانی کی تخلیق کے بعد ہوتی ہے، اس لئے اس کو لفظ ثم سے تعبیر کیا گیا ہے، اور روح حقیقی جس کا تعلق عالم ارواح سے ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں أمر رب کہا گیا ہے وہیں سے لاکر اس روح حیوانی کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ حق تعالیٰ اپنی قدرت سے پیدا فرما دیتے ہیں، جس کی حقیقت کا پہچاننا انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اس روح حقیقی کی تخلیق تو تمام انسانوں کی تخلیق سے بہت پہلے ہے، انہیں ارواح کو حق تعالیٰ نے ازل میں جمع کرکے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ فرمایا اور سب نے بلیٰ کے لفظ سے ربوبیت کا اقرار کیا، البتہ اس کا تعلق جسم انسانی کے ساتھ تخلیق اعضاء انسانی کے بعد ہوتا ہے اس جگہ اگر نفخ روح سے یہ مراد لیا جائے کہ روح حیوانی کے ساتھ روح حقیقی کا تعلق اس وقت قائم فرمایا گیا تو یہ بھی ممکن ہے اور درحقیقت حیات انسان اسی روح حقیقی سے متعلق ہے جب یہ تعلق منقطع ہوجاتا ہے تو روح حیوانی بھی اپنا کام چھوڑ دیتی ہے اسی کو موت کہا جاتا ہے۔
Top