Ahkam-ul-Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
جج روزانہ عدالت لگانے کا پابند نہیں اور نہ ہی شوہر روزانہ بیوی کے پاس جانے کا پابند ہے قول باری ہے (وھل اتاک نبا الخصم اذ توسروا المحراب۔ بھلا آپ کو ان اہل مقدمہ کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آگئے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق سے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے عمروبن عبید سے، انہوں نے حسن سے اس قول باری کی تفسیر میں روایت کی کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اوقات کو چاردنوں پر تقسیم کررکھا تھا۔ ایک دن بیویوں کے لئے مخصوص تھا۔ ایک دن فیصلوں کے لئے، ایک دن عبادت کے لئے اور ایک دن بنی اسرائیل کے سائلین کے سوالات اور درخواستیں سننے کے لئے ۔ حسن نے باقی ماندہ روایت کا بھی ذکر کیا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قاضی کے لئے مقدمات کے فیصلوں کی خاطر ہر روز عدالت لگانا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لئے گنجائش ہے کہ ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کام کے لئے مخصوص کردے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے شوہر پر اپنی بیوی کے نزدیک ہر روز موجود گی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر چار دن میں ایک دن باری مقرر کردینا جائز ہے۔ محراب کسے کہتے ہیں ؟ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب کسی بٹیھک کی درمیان والی جگہ کو کہتے ہیں۔ اسی لئے محرب المسجد بنا ہے کیونکہ محراب وسط میں ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب بالا خانہ اور حجرہ کو کہتے ہیں۔ قول باری (اذتسوروالمحراب) اس پر دلالت کرتا ہے۔
Top