Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
اور (اے پیغمبر) کیا ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر تجھ کو پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر دائود کی عبادت خانہ میں آگے13
13 اکثر علمائے تاویل کا قول ہے کہ یہ جھگڑنے والے دو فرشتے تھے جو آدمی کی شکل میں آئے تاکہ حضرت دائود ( علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر متنبہ کریں اور ان کا یہ مقدمہ بطور فرض تھا نہ کہ حقیقتاً ۔ پس ان فرشتوں کا جھوٹ بولنا لازم نہیں آتا جیسا کہ امام رازی (رح) نے اس لزوم کی بناء پر اس تاویل کی تردید کی ہے۔ ( قرطبی)
Top