Fi-Zilal-al-Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے ان مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اس کے بالاخانے میں گھس آئے تھے ؟
آیت نمبر 21 تا 24 اس واقعہ کی تشریح یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے وقت کا ایک حصہ امور مملکت کو دیتے تھے ، لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے۔ کچھ وقت وہ خلوت تنہائی ، عبادت اور حمد و ثنا اور حمد الہٰی کے ترانے پڑھنے کے لیے دیتے تھے۔ جب آپ محراب میں خلوت گزیں ہوتے تو کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ جب تک کہ آپ خود باہر نہ آجائیں۔ ایک دن یوں ہوا کہ دو افراد دیوار پھلانگ کر اس خلوت گاہ میں گھس آئے۔ آپ ان کے اس طرح گھس آنے سے گھبراگئے۔ کیونکہ کوئی اہل ایمان یا کوئی ذمہ دار شخص یوں ان کی خلوت گاہ میں نہ آسکتا تھا۔ چناچہ ان دو افراد نے بھی آپ کے خوف کو محسوس کیا اور جلدی سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
Top