Tafseer-e-Baghwi - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا امتحان تفسیر 21۔ ، وھل اتاک نبا النخصم اذتسوروالمحراب، اس آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا امتحان تھا۔ اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایک روز تمنا کی کہ ان کو بھی ان اسلاف ابراہیم اسحاق اور اسرائیل کا ہم مرتبہ بنادیا جائے اور اللہ سے دعا کی کہ جس طرح تونے میرے بزرگوں کا امتحان لیا اور امتحان کے بعد ان کو مراتب عنایت کیے اسی طرح مجھے بھی ان کی طرح مرتبہ میرا امتحان لینے کے بعد عطا فرمادیا جائے۔ سدی ، کلبی اور مقاتل رحمہم اللہ نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اپنی اپنی اسناد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے وقت کے تین حصے کر رکھے تھے۔ ایک روز تو لوگوں کے فیصلوں کے لیے مخصوص کردیا تھا۔ ایک دن اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص تھا اور ایک روز اپنی عورتوں اور دوسرے مشاغل کے لیے ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) جو آسمانی کتابیں پڑھتے تھے ان میں حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی فضیلت کا تذکرہ تھا۔ ایک روز انہوں نے دعا کی اے رب ! میں سمجھتا ہوں کہ ساری خوبیاں میرے آباؤاجواد لے گئے جو مجھ سے پہلے گزرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ان کو تو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا۔ ویسی آزمائشوں میں آپ کو مبتلا نہیں کیا گیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا امتحان تو نمرود کی طرف سے ایذاؤوں کی شکل میں اور بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دے کرلیا گیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا امتحان یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے غم کی شکل میں لیا گیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! اگر ان کی طرح تو میرا بھی امتحان لے گا تو میں بھی ثابت قدم رہوں گا۔ اللہ نے وحی بھیجی اچھا تمہارا امتحان فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو لیا جائے گا چو کنے رہنا۔ جب اللہ کی مقررکردہ امتحانی تاریخ آئی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے عبادت خانے کے اندرجاکرزبور پڑھنے میں مشغول ہوگئے ۔ دوران قرأت شیطان کبوتر کی شکل میں سامنے آیا وہ کبوتر سونے کا بنا ہوا تھا ، ہر خوبصورت رنگ اسی میں موجود تھا۔ بعض نے کہا کہ اس کے پر موتیوں اور زبر جد کے تھے، وہ آپ کے دونوں پاؤں کے درمیان آکربیٹھ گیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اس کی خوبصورتی اچھی لگی۔ انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس کو پکڑلیں اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کو بنی اسرائیل کو دکھلائیں۔ جب انہوں نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو وہ تھوڑاسادورجاکربیٹھ گیا۔ پھر وہ وہاں اس کو پکڑنے کے لیے چلے اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایاتا کہ اس کو پکڑلیں ۔ پھر وہ وہاں سے اڑکرروشن دان میں جاکر بیٹھا، وہاں گئے تاکہ اس کو پکڑیں وہ وہاں سے اڑکردورجاکر بیٹھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اس کو دیکھتے رہے تا کہ اس کے شکار کے لیے کو بھیجیں تو ا س وقت ان کی نظر باغ میں ایک خوبصورت عورت پر پڑی ۔ اس کے حسن پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کو تعجب ہوا۔ اتفاقا عورت کی نظر بھی پڑگئی اور اس نے کسی مرد کی پرچھائی دیکھ لی تو فورا اپنے بال بکھیر کر جسم کو چھپالیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کوا س پر اور تعجب ہوا۔ آپ نے لوگوں سے اس عورت کے متعلق پوچھا تو ان کے پوچھنے پر بتلایا کہ یہ عورت تشایع بنت شایع ہے، اور یاء بن حنانا کی بیوی ہے۔ اس کا شوہر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بھانجے ایوب بن صوریا کے ساتھ ۔ غزوہ میں گیا ہوا ہے جو بلقاء کے نام سے مشہو رہے اور بعض نے اس کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال آیا کہ اور یاء جہاد میں شہید ہوجائے تو میں اس کی بیوی سے نکاح کروں اور بعض نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایوب کی بہن کے بیٹے کو لکھا کہ اور یاء کو دوسری جگہ جہاد کے لیے بھیج دو اور اس کے لیے تابوت بھیج دیا اور اس زمانے میں یہ اصول تھا کہ جس کمانڈر کے لیے تابوت بھیج دیاجاتاتو اس کے لیے واپسی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ اس شہر کو فتح نہ کرلے یاجام شہادت نوش نہ کرلے ۔ اس کو دوسری جگہ جہاد کے لیے بھیجا ، اس کو وہاں سے بھی فتح حاصل ہوگئی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لکھا گیا کہ اس نے شہر کو فتح کرلیا۔ پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے لکھا کہ اس کو فلاں فلاں کے مقابلے میں بھیج دو ۔ اس کو اس جگہ کی طرف بھیجا گیا حتی کہ وہاں سے بھی اس کو فتح حاصل ہوگئی ۔ پھر دوبارۃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لکھا گیا کہ اس کو وہاں سے بھی فتح حاصل ہوگئی۔ پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے تیسری لکھا بارلکھا کہ اس کو فلاں فلاں دشمن کے مقابلے میں بھیج دو ۔ اس کو بھیجا گیا تو وہ تیسری مرتبہ ہلاک ہوگیا۔ پھر جب عورت کی عدت مکمل ہوگئی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔ یہ حضرت ام سلیمان (علیہما السلام) تھیں۔ حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ گناہ تھا کہ انہوں نے ایک عورت کے بدلے میں ایک شخص کو شہید کروادیا۔ بعض اہل مفسرین کا قول ہے کہ یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے مباح تھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی نہیں تھے کیونکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دنیا کی طرف رغبت کی جبکہ ان کے پاس اپنی بیویوں میں کثرت تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سب چیزوں سے مستغنی کردیا تھا جو چیزیں اللہ نے دوسروں کو دی تھیں ان سے بھی غنی کردیا تھا۔ حسن (رح) سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک دن بیویوں کے لیے اور ایک دن عبادت کے لیے اور ایک دن بنی اسرائیلیوں کے فیصلے کے لیے اور ایک دن بنی اسرائیل کے ساتھ مذاکرہ کرنے اور ذکر و اذکار کرنے ، ایک روزبنی اسرائیل کو وعظ کہنے کا آپ نے مقررکردیاتھابنی اسرائیل کے ساتھ مل کر آپ ذکر خدا کرتے ، خود بھی روتے اور ا ن کو بھی رلاتے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے امتحان کا ایک اور واقعہ ایک روز بنی اسرائیل نے کہا کہ کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کا کوئی دن ایسا بھی گزرتا تھا جس میں کوئی گناہ نہ کرتا ہو ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں میں ایسا کرسکتا ہوں۔ بعض اہل روایت نے بیان کیا کہ ایک روز آپ کے سامنے عورتوں کا تذکرہ لوگوں نے کیا کہ ان کے جال سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا اگر میرا امتحان لیا گیا تو میں محفوظ رہوں گا۔ چناچہ جب آپ کی عبادت کا دن آیا تو آپ نے عبادت گاہ میں داخل ہوکر دروازے بند کروادیئے اور حکم دے دیا کہ کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ پھر آپ توریت کی تلاوت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے۔ اسی حالت میں سونے کا ایک بنا ہواکبوتر آپ کے سامنے آگیا۔ آگے واقعہ اسی طرح ہے جس طرح ہم نے پہلے ذکر فرمایا۔ اور یاء کے شہید ہوجانے کے بعد جب اس کی بیوہ سے آپ نے نکاح کرلیا تو کچھ ہی مدت گزری تھی کہ اللہ نے دوفرشتے دوآدمیوں کی شکل میں خاص عبادت کے دن بھیج دیئے اور انہوں نے عبادت خانے میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ پہریداروں کے انکار پر دونوں شخص دیوارپھاندکراندر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے تھے، آپ کو اس وقت علم ہواجب وہ آپ کے سامنے آکر بیٹھ گئے۔ یہ دونوں فرشتے حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے۔ اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا، وھل اتاک نبا الخصم ، یہ خب رہے خصم کی ، اذتسوروا المحراب ، جب وہ محراب پر چلے اور بلند ہوئے۔ تسوروادیوارپرچڑھنایہ لفظ سور سے ماخوذ ہے۔ یہاں پر فعل کو جمع کے صیغہ کے ساتھ ذکر کیا حالانکہ وہ تودوفرشتے تھے، کہتے تھے کہ خصم اسم ہے جو واحد تشنیہ جمع مذکر مؤنث کی صلاحیت رکھتا ہے اور جمع کا معنی دو میں صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ جمع کا معنی ہے ایک شئی کو دوسری شئی کے ساتھ ملانا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
Top