Jawahir-ul-Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
اور پہنچی ہے تجھ کو خبر دعوے والوں کی23 جب دیوار کود کر آئے عبادت خانہ میں
23:۔ وھل الخ۔ تسوروا : دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔ ولا تشطط : حق سے تجاوز نہ کرنا۔ نعجۃ : ولد الضان، دنبے کا بچہ۔ اکفلنیہا : وہ مجھے دیدے۔ عزنی : مجھ پر غالب آگیا۔ یہاں سے لے کر وقلیل ماھم تک ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچاند دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ایک دن عبادت خانے میں محو عبادت تھے۔ اور عبادت خانے کے دروازے اندر سے بند تھے کہ اچانک دو آدمی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) ان کے بلا اجازت اور پھر اس انداز سے داخل ہونے سے گھبرا گئے کہ شاید قتل کے ارادے سے آئے ہیں۔ آنے والوں نے کہا، گھبراؤ نہیں، ہم ایک جھگڑے کا فیصلہ لینے آئے ہیں۔ آپ صحیح فیصلہ صادر فرما کر ہماری راہنمائی فرمائیں۔ بات یہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے۔ اور یہ میرا بھائی وہ ایک دنبی بھی مجھ سے زبردستی لینا چاہتا ہے۔ اور گفتگو میں مجھ پر غالب آچکا ہے۔ حضرت داوٗد (علیہ السلام) نے ایک فریق کی بات سن کر فرمایا بیشک اس شخص نے تم پر ظلم کیا ہے اور لوگوں کا دستور ہی یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنے ساتھیوں پر ظلم و زیادتی کرتے ہی رہتے ہیں البتہ مؤمنین صالحین ایسا نہیں کرتے۔ لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اسکے بعد ارشاد ہے وظن داوٗد الخ، داوٗد (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ یہ تو میرا امتحان تھا لیکن مجھ سے لغزش ہوگئی اس لیے فورًا سجدے میں گر پڑے اور اللہ سے معافی مانگی۔ اس واقعہ میں چونکہ دیوار پھاندنے والوں اور حضرت داؤود (علیہ السلام) کی لغزش کا بالتعیین ذکر نہیں اس لیے ان دونوں کی تعیین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں دشمنانِ اسلام یہودیوں نے بھی اپنی خود ساختہ خرافات کو مسلمانوں میں رائج کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض مفسرین نے یہودیوں کی ان خرافات کو اپنی تفسیروں میں بلا نکیر ذکر کردیا ہے لیکن اکثر محققین مفسرین نے اس اسرائیلی قصے کو بالکلیہ رد کردیا ہے۔ اس اسرائیلی جھوٹے قصے کی رو سے حضرت داؤود (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں۔ اور ایک دن اپنے ایک امتی کی بیوی پر اتفاقاً نظر پڑگئی۔ اور اس کے حسن و جمال کی بنا پر وہ اسے چاہنے لگے۔ چناچہ اس کے خاوند کو جہاد میں بھیج کر مروا دیا۔ اور اس کی بیوی سے شادی کرلی اور اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھیج کر انہیں اس پر متنبہ فرمایا۔ یہ قصہ سراسر جھوٹا اور حضرت داؤود (علیہ السلام) پر افتراء اور ان کی شان بلند کے قطعا منافی ہے۔ یہ حرکت تو ایک کامل مومن سے بھی سرزد نہیں ہوسکتی۔ چہ جائیکہ ایک جلیل القدر پیغمبر اس کا ارتکاب کرے۔ چونکہ یہ واقعہ عصمت انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف ہے۔ اس لیے تمام محققین نے اسے باطل و مردود قرار دیا ہے۔ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ جو شخص حضرت داود (علیہ السلام) کے بارے میں یہ واقعہ بیان کرے گا میں اس کو ایک سو ساٹھ درے ماروں گا جو انبیاء (علیہم السلام) پر بہتان باندھنے کی سزا ہے۔ قال علی ؓ من حدثکم بحدیث داؤود (علیہ السلام) علی ما یرویہ القصاص جلدتہ مائۃ وستین وھو حد الفریۃ علی الانبیاء (مدارک ج 4 ص 29، 30، خازن ج 6 ص 49، بیضاوی ج 2 ص 245، روح ج 23 ص 185، قرطبی ج 15 ص 181، جامع البیان ص 391) ۔ مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں۔ قد ذکر المفسرون ھھنا قصۃ اکثرھا ماخوذ من الاسرائیلیات ولم یثبت فیہا عن المعصوم حدیث یجب اتباعہ (ابن کثیر ج 4 ص 31) ۔ امام قاضی عیاض فرماتے ہیں۔ لا یجوز ان یلتفت الی ما سطرہ الاخباریون من اھل الکتاب الذین بدلوا وغیروا ونقلہ بعض المفسرین ولم ینص اللہ تعالیٰ علی شیء من ذلک ولا ورد فی حدیث صحیح والذی نص علیہ اللہ فی قصۃ داود و ظن داوٗد (انما فتناہ ولیس فی قصۃ داوٗد اور یا خبر ثابت (خازن ج 6 ص 49) ۔ علامہ معین الدین بن صفی رقمطراز ہیں۔ وما یذکرہ القصاص لیس لہ اصل یعتمد علیہ (جامع البیان ص 391) ۔ امام بیضاوی تحریر فرماتے ہیں وما قیل انہ ارسل اور یا الی الجھاد مرادا وامر ان یقدم حتی قتل فتزوجہا، ھراء وافتراء (بیضاوی) ۔ امام ابو حیان فرماتے ہیں۔ و یعلم قطعا ان الانبیاء (علیہم السلام) معصومون من الخطایا لا یمکن وقوعہم فی شیء منہا، ضرورۃ اذ لوجوزنا علیہم شیئا من ذلک بطلت الشرائع ولم نثق بشیء مما یذکرون انہ اوحی اللہ بہ الیہم۔ فما حکی اللہ تعالیٰ فی کتابہ یمر علی ما ارادہ تعالیٰ وما حکی القصاص مما فیہ غض من منصب النبوۃ طرحناہ (بحر ج 7 ص 393) ۔ اب سوال یہ ہے کہ اصل لغزش کیا تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل لغزش جو بھی ہو، وہ ترک اولی کے قبیل سے ہوسکتی ہے، از قبیل گناہ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ باجماع اہل سنت حضرات انبیاء (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ البتہ اپنے منصب جلیل کے پیش نظر وہ ترک اولی کو بھی اپنے حق میں گناہ سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اس طرح الحاح و تضرع سے اس کی معافی مانگتے ہیں جس طرح ہمیں کبیرہ گناہوں پر مانگنی چاہئے۔ ولا بد من القول بانہ لم یکن منہ (علیہ السلام) الا ترک ما ھو الاولی بعلی شانہ والاستغار منہ وھو لا یخل بالعصمۃ (روح ج 23 ص 186) ۔ اصل لغزش کی تعیین میں مفسرین کے اقول مختلف ہیں۔ بعض کے نزدیک لغزش یہ تھی کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت عریاں نہا رہی تھی وہ کھڑکی کی طرف بڑھے تو اچانک بلا قصد و ارادہ ان کی نگاہ اس پر پڑگئی۔ لیکن انہوں نے فورًا نگاہ پھیرلی (قرطبی) یہ فعل اگرچہ گناہ نہیں۔ لیکن یہاں یہ مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورت میں دنبیوں کے ذکر کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔ بعض نے لکھا ہے کہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) نے ایک مسلمان سے کہا تھا کہ تم اپنی بیوی کو میری خاطر طلاق دے دو ۔ اور ایسا کرنا ان کے یہاں جائز اور مروج تھا لیکن حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی شان رفیع کے خلاف تھا اس لیے تنبیہہ کی گئی اور بعض نے کہا ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) نے ایک مسلمان کے خطبہ پر خطبہ کیا تھا وغیرہ (روح) ۔ لیکن سب سے زیادہ موزوں اور مناسب توجیہہ وہ ہے جو بعض مفسرین نے لکھ ہے۔ اور رئیس المفسرین حضرت الشیخ قدس سرہ نے جسے ترجیح دی ہے۔ اس توجیہہ میں نہ اسرائیلیات کا سہارا لینے کی ضرورت ہے۔ نہ ظواہر نظم کو ظاہر سے پھیرنے کی حاجت اور لغزش بھی خود سیاق نظم ہی سے متعین ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار پھاند کر اندر داخل ہونے والے انسان نہیں تھے بلکہ فرشتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے امتحان کے لیے بھیجا تھا۔ روی ان اللہ تعالیٰ بعث الیہ ملکین فی صورۃ انسانین فطلبا ایدخلا علیہ فوجداہ فی یوم عبادتہ فمنعہما الحرس فتسورا المحراب (مدارک ج 4 ص 29) ۔ اور پھر انہوں نے جو صورت قضیہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے سامنے پیش کی، وہ نفس الامر میں واقع نہیں تھی بلکہ ایک مفروضہ صورت تھی۔ گویا وہ یوں کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے درمیان یہ صورت پیش آجائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ جس طرح اہل نحو فاعل و مفعول کی تمثیل میں کہتے ہیں ضرب زید عمرا، حالانکہ فی الواقعہ وہاں ضرب نہیں ہوتی۔ قال الحسین بن الفضل، ھذا من الملکین تعریض وتنبیہ کقولہم ضرب زید عمرا وما کان ضرب و لا نعاج علی التحقیق کانہ قال نحن خصمان ھذہ حالنا، قال ابو جعفر النحاس واحسن ما قیل فی ھذا ان المعنی یقول خصمان بغی بعضنا علی بعض علی جہۃ المسئلۃ۔ کما تقول : رجل یقول لامراتہ کذا ما یجب علیہ (قرطبی ج 15 ص 173) اس کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) نے مدعی علیہ کو صفائی کا موقع دئیے بغیر ہی اپنا فیصلہ صادر فرمادیا۔ یہی لغزش تھا۔ قالا النحاس : فیقال ان ھذہ کانت خطیئۃ داوٗد علیہ السلا، لانہ قال، لقد ظلمک من غیر تثبیت بینۃ ولا اقرار من الخصم (قرطبی ج 15 ص 175) ۔ وقیل ان ذنب داوٗد الذی استغفر منہ لیس ھو بسبب اور یا والمراۃ وانما ھو بسبب الخصمین وکنہ قضی لاحدھما قبل سماع کلام الاخر (خازن ج 6 ص 50) ۔ حضرت داود (علیہ السلام) پہلے تو یہی سمجھے تھے کہ فریقین انسان ہیں۔ اور قضیہ واقعیہ کے بارے میں فیصلہ لینے آئے ہیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ فیصلہ سننے کے بعد دونوں سائل ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور پھر ان کے سامنے ہی آسمان کی طرف چڑھ گئے تو سمجھے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ابتلا تھا جس میں مجھ سے لغزش سرزد ہوگئی اس لیے فورًا سربسجود ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی وقیل لما قضی بینہما نظر احدہما الی صاحبہ فضحک ثم صعد الی السماء حیال وجہ فعلم بذلک انہ تعالیٰ ابتلاہ (روح ج 23 ص 182) ۔
Top