Anwar-ul-Bayan - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان بخشش کردیا وہ اچھا بندہ تھا بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ وہ اچھے بندہ تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ مال اور دولت اور ملک اور حکومت سے نواز تھا اول ان کے بارے میں فرمایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) کہ وہ اچھے بندے تھے اور ساتھ ہی (اِنَّہٗ اَوَّابٌ) بھی فرمایا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ گھوڑوں کا پیش کیا جانا آخر میں متنبہ ہونا اس کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے پاس گھوڑے بندھے ہوئے تھے اندازہ یہی ہے کہ یہ گھوڑے جہاد کی ضرورت کے لیے پال رکھے تھے گھوڑے بھی اصیل تھے، اور عمدہ تھے صافناتٌ یہ صافنٌ کی جمع ہے صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو سامنے کے ایک پاؤں کو موڑ کر باقی تین پاؤں پر کھڑا ہو، اصیل گھڑوں کی یہ صفت بتائی جاتی ہے۔ ایک دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے معائنہ فرمانے کے لیے گھوڑوں کو طلب کیا آپ ان کے دیکھنے میں اتنے مشغول ہوئے کہ سورج چھپ گیا اس سے پہلے جو فرض یا نفل نماز پڑھا کرتے تھے وہ رہ گئی (اگر فرض نماز تھی تو بھولنے کی وجہ سے گناہ میں شمار نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ حاضرین میں سے کسی نے یاد بھی نہ دلایا ہو، اور اگر نفل نماز تھی تب تو اس کے چھوٹ جانے میں گناہ ہی نہیں) لیکن انہوں نے ہر حال میں اس نماز کے چھوٹنے کو اچھا نہ سمجھا ہو اور گو کہ گھوڑوں کی مشغولیت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے تھی لیکن پھر بھی چونکہ ذکر بالواسطہ ذکر حقیقی یعنی ذکر بالواسطہ سے غافل ہونے کا سبب بن گیا اس لیے جب مذکورہ نماز کے فوت ہوجانے کا احساس ہوا تو فرمایا کہ ان گھوڑوں کو واپس کرو جب گھوڑے واپس لوٹائے گئے تو انہیں ذبح کرنا شروع کردیا ان کی گردنیں تو کاٹی ہی تھیں پنڈلیاں بھی کاٹ دیں اور فرمایا کہ مال کی محبت نے مجھے اپنی طرف اتنا لگایا کہ اپنے رب کی طرف سے غافل ہوگیا یہ ذبح کرنا مال ضائع کرنے کے طور پر نہیں تھا بلکہ بطور قربانی کے تھا البتہ یہ اشکال رہ جاتا ہے کہ پنڈلیوں کو کیوں کاٹا ؟ یہ تو جانور کو بلاوجہ تکلیف دینا ہے اور احقر کے خیال میں یوں آتا ہے کہ گردنیں کاٹنے کے بعد پنڈلیاں کاٹی ہوں گی جب کہ ان کی جان نکل چکی ہوگی اور گھڑے میں چونکہ پنڈلی ہی اصل چیز ہے اس سے گھوڑا دوڑتا ہے اس لیے غیرت کے جوش میں پنڈلیاں بھی کاٹ دیں یعنی اس کام میں جلدی کردی ورنہ کھانے پینے کے لیے تو کاٹنا ہی تھا چونکہ تقدم ذکری تقدم عملی کو مستلزم نہیں ہے اس لیے یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ آیت شریفہ میں پہلے پنڈلیوں کا ذکر ہے یہاں رعایت فواصل کے لیے لفظ الاعناق کو مؤخر کردیا گیا ہے یہ بلاغت میں ہوتا رہتا ہے جیسا کہ سورة طٰہٰ میں (رَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُوْسٰی) فرمایا ہے اور دوسری جگہ (رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ ) فرمایا ہے۔
Top