Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Qurtubi - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا
: اور ہم نے عطا کیا
لِدَاوٗدَ
: داؤد کو
سُلَيْمٰنَ ۭ
: سلیمان
نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ
: بہت اچھا بندہ
اِنَّهٗٓ
: بیشک وہ
اَوَّابٌ
: رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے
آیت
30
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن) (
1
) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔ یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پڑش کئے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کئے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جنہیں ان گھوڑوں کی ضرورت تھی، مثلاً بادشاہ وغیرہ سلیمان کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتی کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کردیا۔ سلیمن نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محب الٰہی کو غیر اللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا : (انی احبب ت حب الخیر) یہاں (احببت) (آثرت) کے معنی کو متضمن ہے یعنی میں نے ” خیر “ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔” خیر “ کے معنی عام طور پر ” مال “ لئے جاتے ہیں۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں : (آیت) ” اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔ “ سلیمان نے فرمایا :: (آیت) ” ان کو میرے پاس واپس لاؤ۔ “ حضرت سلیمان کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ (فطفق مسحا بالسوق والاعناق) تو سلیمان نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کردیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد فتنا سلیمن) یعنی ہم نے حضرت سلیمان سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ : (آیت) ” اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈاکل دیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے مقدر کردیا کہ ایک شیطان سلیمان کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصے کے دوران میں بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے۔ (
1
) (
1
) فاضل مفسر (رح) کا یہ بیان اسرائیلی روایات ہی سے ماخوذ ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیا ہے۔ پتا نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کر کے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیا تھی ؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا ؟ اور اس کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لئے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ ی) (ثم اناب) پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ (قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبع لاحد من بعد انک انت الوھاب) ” کہنے لگے اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کردی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضاعہ کردیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا ‘ شیاطین آپ کے لیے مسخر کردیے گئے ‘ آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرے تھے ‘ وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکلا کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کردیتے۔ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) سے کہا (ھذا عطآؤنا) ” یہ ہمارا عطیہ ہے “ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ (فامنن) جسے چاہیں عطا کریں۔ (او امسک) اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ (بغیر حساب) اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمان ( علیہ السلام) کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں ‘ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ‘ بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیر کثیر سے نوازا جائے گا ‘ اس لیے فرمایا : (وان لہ عندنا لزلفٰی وحسن ماٰب) ” اور بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں قریب اور عمدہ مقام ہے۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکزمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داود اور سلیمان ( علیہ السلام) کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں :
1
۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفٰی ﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھا تا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت ‘ ان کے صمر کی شدت اور ان کی انبت کا ذکر عرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صمر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی ‘ آپ کے او آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بد کلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صمر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داود ( علیہ السلام) کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔
2
۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے ‘ کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار ‘ اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی ‘ تیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بےکاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔
3
۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیا اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے ‘ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ (اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ) (الانعام :
6
؍
09
) ” یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا ‘ لٰہذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔ “
4
۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داود ( علیہ السلام) کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔
5
۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے ‘ اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے ‘ جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داود ( علیہ السلام) کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔
6
۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء ورسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتال میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہوجاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں جیسا کہ حضرت داود ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو آزمائش پیش آئی۔
7
۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں ‘ کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ‘ لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا اتکاب ہوجاتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کردیتا ہے۔
8
۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داود ( علیہ السلام) اپنے غالب احوال میں ‘ اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے ‘ اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھند کر محراب میں آنا پڑا ‘ کیونکہ حضرت داود ( علیہ السلام) جب اپنے محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جاسکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔
9
۔ حضرت داود ( علیہ السلام) کے قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکام کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے ‘ کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داود ( علیہ السلام) کی خدمت میں حضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا ‘ اس لیے حضرت داود ( علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری ‘ ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔
01
۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کانا گوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔
11
۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داود ( علیہ السلام) کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے ‘ کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ..... حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے ..... تو آپ ان سے ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ انھیں کوئی زجرو تو بیخ ہی کی۔
21
۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم مے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔” تو نے مجھ پر ظلم کیا “” اے ظالم ! “” اے مجھ پر زیادتی کرنے والے ! “ وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے کہا تھا (خصمان بغی بعضنا علی بعض) (
83
؍
66
) ” ہم مقدمے کے دو فریق ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔ “
31
۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو ‘ جب کوئی شخص خیر خواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے ‘ بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کرلینا چاہیے ‘ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داود ( علیہ السلام) کو نصیحت کی تو آپ نے برا مانا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپکو راہ حپ سے ہٹایا ‘ بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
41
۔ اس قصے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط ‘ دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے ‘ نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقوٰی اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جاسکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔
51
۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت ‘ خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود ( علیہ السلام) کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔
61
۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داود ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اکرام و تکریم ‘ اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا ‘ اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجے میں کوئی کمی واقع ہوگئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کردیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کردیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو بھی مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں ‘ کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان کے دلوں میں ان کا درجہ کم ہوجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کردیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔
71
۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے ‘ جسے یہ ذمہ واری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم ‘ محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حک شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے ‘ لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بےبہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
81
۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے ‘ کیونکہ نفس خوہشات سے خالی نہیں ہوتا ‘ بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔
91
۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) حضرت داود ( علیہ السلام) کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داود ( علیہ السلام) پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمان ( علیہ السلام) سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاو عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علٰی نور ہے۔
02
۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (نعم العبدانہ اواب) ” بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ “
12
۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیر کثیر اور ان پر احسان ہے کہ او انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ‘ پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے ‘ حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔
22
۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محت پر ترجیح دیتے تھے۔
32
۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کرلے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہوجائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔
42
۔ ان آیات کریمہ سے یہ بجہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے “ چناچہ سلیمان ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے ‘ سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کردیا ‘ جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کردیا ‘ جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصدو ارادہ کرتے ‘ صمح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کردیا جو ایسے کام کر بکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔
52
۔ سلیمان ( علیہ السلام) ایک بادشاہ اور نبی تھے دو اپنی مسن مرضی کرسکتے تھے ‘ لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبی عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تامع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے ‘ جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفٰی ﷺ کا حال تھا اور یہ کامل ترین حال ہے۔
Top