Baseerat-e-Quran - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطاء کیا جو (اللہ کے) بہترین بندے اور ( اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 40 :۔ نعم ( بہترین) الصافنات ( صافنۃ) (اصیل اور عمدہ گھوڑے) الجیاد (نہایت عمدہ ، بہترین) الخیر (مال ، دولت ، بھلائی) تورات ( چھپ گئی ( چھپ گیا) ردوا ( لوٹائو) طفق (وہ شروع ہوگیا) مسح ( ہاتھ پھیرنا ، ہاتھ صاف کرنا) السوق (پنڈلیاں) الاعناق ( عنق) (گردنیں) جسد ( جسم ، دھڑ) لا ینبغی (سزا اور نہ ہو ، میسرنہ ہو) رخائ (نرمی) بنائ (معمار ، تعمیر کرنے وال) غواص ( پانی میں) غوطہ لگانے والا) مقرنین ( جکڑے ہوئے) الاصفاد (زنجیریں) امنن (تو احسان کر) امسک (روک لے) زلفی (قرب ، قریب ہونا) حسن ماب ( بہترین ٹھکانہ) تشریح : آیت نمبر 30 تا 40 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پیغمبر ہیں جنہیں اللہ نے ایک عظیم الشان حکومت و سلطنت سے نوازا تھا ۔ جس کا مقصد ساری دنیا میں اللہ کا دین پہنچانا تھا ۔ اللہ نے ان کے خلوص کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر انہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا نیک ، پارسا بیٹا عطاء فرمایا جو اللہ کے نبی ، حسن انتظام کے مالک حکمران ، ہر بات میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور جذبہ جہاد سے سر شار تھے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ ایک دن جہاد کے لئے تیار کئے گئے بہترین پلے ہوئے ، سبک رفتار اصیل گھوڑوں کی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے تو آپ نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو تعلق ، انسیت اور محبت ہے وہ دنیا کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے پروردگار کی وجہ سے ہے۔ اس ارشاد کے درمیان جب وہ گھوڑے نظروں سے ذرا اوجھل ہوئے تو آپ نے ان کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ جب وہ گھوڑے دوبارہ قریب آئے تو آپ نے آگے بڑھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر چمکارنا شروع کردیا ( ابن جریر طبری ، امام رازی) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں نہایت عاجزی کے ساتھ یہ درخواست پیش کی ۔ الٰہی مجھے ایک ایسی حکومت و سلطنت عطاء فرما جو اس سے پہلے کسی کو نہ دی گئی ہو اور نہ آئندہ دی جائے گی ، چناچہ اللہ نے ان کی دعا کو قبول کر کے ایسی سلطنت عطاء کی جو اس سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھی اور آئندہ بھی نہ دی جائے گی ۔ ہوا کو ان کے حکم کے تابع کردیا ۔ طوفانی ہوا جب ان کے تخت کو لے اڑتی تو اس تخت پر بیٹھنے والوں کے لئے ایسی نرم اور خوش گوار رفتار سے چلنے والی ہوا ہوتی تھی کہ بیٹھنے والوں کو اس کی برق رفتاری کا احساس تک نہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمام جنات کو ان کے حکم کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے بڑی سے بڑی عمارتیں تعمیر کرتے تھے چناچہ بیت المقدس کی تعمیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نگرانی میں ان جنات ہی نے کی تھی ۔ وہ جنات بھی آپ کے تابع تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کر قیمتی موتی اور جواہرات نکالتے تھے۔ اگر ان جنات میں سے کسی سے کوئی غلطی اور کوتاہی ہوجاتی تو وہ ان کو قید کرلیا کرتے تھے اور پھر جب چاہتے ان سے کام لے لیتے تھے۔ غرضیکہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بن دائود (علیہ السلام) کو بیشمار نعمتوں سے نواز کر فرما دیا تھا کہ جو نعمتیں ہم نے تمہیں عطاء کی ہیں ان میں تمہیں پورا پورا اختیار ہے جس کو جتنا دینا چاہیں دیدیں روکنا چاہیں روک لیں ان سے اس کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا کیونکہ اللہ نے ان کو اپنا قرب اور ہر کام کے بہترین انجام سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطاء کیا لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا بیٹا ان کا جانشینی کا حق ادا نہ کرسکا بلکہ وہ تخت سلیمانی پر ایک بےجان لاشہ کی طرح سے تھا۔ تاریخ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا بیٹا ان کا جانشینی کا حق ادا نہ کرسکا اور اتنی عظیم سلطنت چند برسوں میں بکھر کر رہ گئی۔ ٭حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات زندگی بیان کرنے کے لئے اسرائیلی روایات کو جس طرح پیش کیا گیا ہے ان کو اس لئے یہاں نقل نہیں کیا گیا کہ جب ان واقعات کے پیچھے قرآن حکیم اور احادیث رسول اللہ ﷺ کی کوئی وضاحت نہیں ہے تو ان اسرائیلی روایات کو نقل کرنا ذہنوں کو منتشر کرنا ہے۔ ٭ان آیات سے ثابت ہوا کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا ہر کام محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے ۔ اس میں ان کی اپنی ذاتی غرض نہیں ہوتی۔ ٭جہاد انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ جہاد کے لئے اس کے اسباب کی تیاری اور اس میں دلچسپی کا اظہار حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جہاد کے لئے تیار کئے گئے گھوڑوں کو ایک دفعہ دیکھنے کے بعد دوبارہ طلب کیا در حقیقت عام لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ وہ بھی جذبہ جہاد زندہ و تابندہ رکھیں۔ بالکل اسی طرح نبی کریم ﷺ گھنٹوں کھڑے ہو کر نیزہ بازی اور جہاد کے لئے تیار کئے گئے گھوڑوں کی دوڑ کو دیکھا کرتے تھے۔ اصل میں جس چیز میں بڑے اور بزرگ دلچسپی لیتے ہیں اس میں ان کے بچے اور نوجوان بھی دلچسپی لیتے ہیں ۔ ہمارے دین نے یہ بتایا ہے کہ ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہنا اور اس کی تیاری کرتے رہنا بہت بڑی عبادت ہے ۔ جو قوم جہاد کا راستہ چھوڑ دیتی ہے وہ درحقیقت اپنی موت کے پروانے پر دستخط کردیتی ہے۔ جہاد کے جذبوں کو زندہ رکھنے سے ہی اس امت کی زندگی ہے ، آج کفار و مشرکین اس خوف سے سخت پریشان ہیں کہ کہیں ان میں پھر سے کوئی خالد بن ولید اور طارق بن زیاد پیدا نہ ہوجائے جو ان کی صفوں کو الٹ دے اور اپنی کشتیوں کو جلا کر جذبہ جہاد کو زندہ اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھتا چلا جائے ۔ اس خوف سے انہوں نے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے کر اسلامی جہاد کو بد نام کرنے کی بھر پور مہم شروع کر رکھی ہے تا کہ اقتدار سے چمٹی ہوئی طاقتیں خوف کے ما رے ” دین فروشی “ تک پر راضی ہوجائیں اور ہر اس طاقت کو کچل ڈالیں جہاں جذبہ جہاد کا شائبہ بھی موجود ہو ۔ ہمیں یقین ہے کہ کفر کی یہ طاقتیں جہاد کو اور اس کے جذبے کو تو مٹا نہ سکیں گی بلکہ خود ہی مٹ جائیں گی اور اللہ کا دین ہر مذہب پر غالب آ کر رہے گا ۔ انشاء اللہ۔
Top