Anwar-ul-Bayan - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے
(38:30) وھبنا۔ ماضی جمع متکلم وھب وھبۃ مصدر باب فتح ۔ ہم نے بخشا۔ ہم نے عطا کیا۔ وھب المال فلانا اولفلان۔ اس نے فلاں کو مال بخشا۔ عمومال کے صلہ کے ساتھ آتا ہے۔ ھب لی۔ ھب لنا۔ وھب لہ۔ سلیمن۔ (نام پیغمبر) مفعول وھبنا کا۔ ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا۔ نعم العبد ۔ نعم فعل ہے۔ مدح کے لئے آیا ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بمعنی بہت اچھا۔ بہت خوب آتا ہے جیسے فنعم اجر العلمین (3:136) اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے یا نعم المولی ونعم النصیر (8:40) وہ بہت خوب حمایتی اور بہت خوب مددگار ہے۔ نعم العبد بہت اچھا بندہ یہاں ممدوح محذوف ہے ای نعم العبد ھو۔ وہ بہت خوب بندے تھے یہ مدح حضرت داؤد (علیہ السلام) کی بھی ہوسکتی ہے لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ یہ مدح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ہے۔ انہ اواب : اواب بہت رجوع کرنے والا۔ ملاحظہ ہو 38:17 متذکرہ بالا۔ یہ پہلے کلام کی علت ہے یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس لئے اچھے بندے تھے کہ وہ توبہ کی صورت میں یا تسبیح کی شکل میں بہر طور اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے۔
Top