Mazhar-ul-Quran - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور،1، ہم نے داؤد کو ایک بیٹا سلیمان عطا فرمایا، سلیمان بہت اچھا بندہ تھا بیشک وہ خدا کی طرف رجوع کرنے والا تھا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا تذکرہ۔ (ف 1) اوپر داود (علیہ السلام) کی خلافت کا زکر فرماکران آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت اور نبوت اور بادشاہت کو اللہ نے فقط داؤد پر ختم نہیں کیا بلکہ ان کی اولاد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا کہ وہ نبی بھی ہوئے بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہ کے وہ ہمیشہ اللہ کے مرضی کے کامون میں لگے رہے اب آگے ان کے جوش دینی اور مرض الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال گھوڑوں کے قصہ سے بیان فرمائی۔ شائستہ اور تیز وسبک رفتا گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا، اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے اس پر کہنے لگے کہ اگر ایک طرف ذکر الٰہی سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے جب جہاد کا مقصد اعلائے کلۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا، آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہیں دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت کیوں کرتے، اسی جذبے جہاد کے جوش وافراد میں حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو پھر واپس لاؤ، چناچہ واپس لائے گئے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) غایت محبت واکرام سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے اس ہاتھ پھیرنے کے چند باعث تھے۔ (1) ایک تو گھوڑوں کی عزت وشرفت کا اظہار کہ وہ دشمن کے مقابلے میں بہتر معین ہیں۔ (2) دوسرے امور سلطنت کی خود نگرانی فرمانا کہ تمام عمال مستعد رہیں۔ (3) سوم یہ کہ آپ گھوڑوں کے احوال اور ان کے امراض وعیوب کے اعلی ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر ان کی حالت کا امتحان فرماتے تھے ۔ وللہ الحمد (تفسیر کبیر) ۔ بعض مفسروں نے ان روایات کا کئی طرح سے مطلب بیان کیا منجملہ ان کے ایک یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) نے عصر کے وظیفہ میں دیر ہوجانے کے رنج میں گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں ذبح کرڈالا، اور ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹ کر گوشت صدقہ کردیا۔
Top