Mualim-ul-Irfan - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور بخشا ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے لیے (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بہت اچھا بندہ تھا ، بیشک وہ رجوع رکھنے والا تھا ۔
ربط آیات : مشرکین کا رد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے رفقاء کو کفار کی ایذاء رسانیوں کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے بھی آزمائش کے وقت صبر و برداشت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ خلافت و حکومت بھی عطا فرمائی اور آپ کے درجات کو بلند فرمایا اس میں اشارہ تھا کہ آپ بھی پیش آمدہ تکالیف کو برداشت کریں ، ایک وقت آنے والا ہے جب آپ کے مخالفین ناکام ہوجائیں گے اور کامیابی آپ ہی کے قدم چومے گی ، پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی کچھ باتیں بتائیں ، پھر نیک وبد میں امتیاز کا ذکر ہوا اور ساتھ ساتھ اس امتیاز کو واضح کرنے والی عظیم کتاب قرآن حکیم کا بھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بابرکت کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں ، اور صاحب عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ (سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ) اب آج کی آیات کا ربط پھر سابقہ مضمون اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول حضرت داؤد (علیہ السلام) کے تذکرے کے ساتھ ہو رہا ہے آپ پر ہونے والے انعامات ہی کے ضمن میں ایک اور بڑے انعام کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند عطا کر کے فرمایا ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھبنا لداؤد سلیمن “۔ اور ہم نے بخشا داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر فرزند ، نبی اور رسول (آیت) ” نعم العبد “ آپ اللہ تعالیٰ کے بہت ہی خوب بندے تھے (آیت) ” انہ اواب “۔ بیشک آپ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ، رجوع الی اللہ والی صفت باپ اور بیٹا دونوں میں پائی جاتی تھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں کو نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ خلافت بھی عطا فرمائی بلکہ سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت تو بےمثال تھی اور باپ کی سلطنت سے بھی ممتاز تھی آگے ذکر آرہا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے خود اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ مولا کریم ! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو ایسی بےمثال ہو کہ نہ پہلے کسی کو میسر آئی ہو اور نہ میرے بعد کسی کو حاصل ہو ، اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور آپ کو بےمثال حکومت عطا فرمائی ، اتنی وسیع و عریض سلطنت کے امور کی دیکھ بھال آپ نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے ، اور پھر امور سلطنت کی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ اللہ تعالیٰ کی طرف بھی رجوع رکھتے تھے اور اس کی عبادت و ریاضت میں بھی کمی نہیں آنے دیتے تھے ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے کل انیس (19) بیٹے تھے جن میں سلیمان (علیہ السلام) سب سے چھوٹے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے بیشمار خوبیوں سے نوازا تھا اور کمال درجے کی صلاحیت اور استعداد عطا فرمائی تھی ، آپ کے فضائل سابقہ سورتوں انعام ، نمل ، انبیاء ، اور سبا وغیرہ میں بیان ہوچکے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے جنوں اور پرندوں اور ہوا کو بھی آپکے تابع کردیا تھا ، قوت فیصلہ اس قدر وافر عطا فرمائی تھی کہ باپ کی موجودگی اور کم سنی کی عمر میں بھی بڑے بڑے فیصلے کر جاتے تھے ۔ داؤد (علیہ السلام) کی وفات کے وفات کے بعد آپ صرف تیرہ سال کی عمر میں باپ کے جانشین بنے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وورث سلیمن داؤد “۔ (النمل ، 16) اور انتظام حکومت اپنے ہاتھ میں لیا اور آپ نے چالیس سال تک بیمثال حکومت کی اور منصب رسالت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔ (سلیمان (علیہ السلام) کی ابتلائ) اب اگلی آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کی ایک آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ پر ایک معمولی سی کوتاہی کی بناء پر آئی ، اس سورة مبارکہ میں آپ کی دو آزمائشوں کا ذکر آرہا ہے ، ان میں سے یہ پہلی آزمائش ہے جس کو یہاں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، ارشاد خداوندی ہے (آیت) ” اذعرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد “۔ جب کہ پیش کیے گئے آپ پر پچھلے پہر نہایت عمدہ ، اصیل اور تیز رفتارگھوڑے صفن ایسے گھوڑے کو کہتے ہیں جو عام طور پر تین پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے یعنی تین پاؤں پر تو پورا وزن ڈالتا ہے جب کہ چوتھے پاؤں کا صرف اگلا پنجہ زمین پر رکھتا ہے ، نسلی اعتبار سے یہ عمدہ گھوڑے کی علامت ہے ، جو کارکردگی کے لحاظ سے دوسرے گھوڑوں پر فوقیت رکھتا ہے ، سلیمان (علیہ السلام) کیا اصطبل میں اس قسم کے ہزاروں گھوڑے تھے جو جہاد میں استعمال ہوتے تھے اور سلیمان کو ان سے بڑی محبت تھی اور ان کی دیکھ بھال خود کیا کرتے تھے ۔ فرمایا اس قسم کے گھوڑے آپ کی خدمت میں سہ پہر کے وقت پیش کیے گئے آپ ان کے معائنہ میں مصروف تھے ، ہر ایک کو فردا فردا دیکھ رہے تھے کہ کسی گھوڑے میں کوئی نقص تو نہیں واقع ہوگیا ، اسی کام میں وقت زیادہ لگ گیا اور جیسا کہ آگے آرہا ہے سورج غروب ہوگیا ، اسی دوران یعنی غروب آفتاب سے پہلے آپ کی نماز یا دیگر عبادت کا وقت بھی تھا آپ گھوڑوں کے معائنہ میں اس قدر محو رہے کہ آپ کی نماز کا وقت ہی جاتا رہا اور یہی وجہ تھی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ (گھوڑوں سے محبت) جونہی آپ معائنہ سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے اس وقت آپ کو تشویش لاحق ہوئی کیونکہ نماز کا وقت گزر چکا تھا اس وقت آپ نے نہایت مغموم ہو کر کہا (آیت) ” فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی “۔ افسوس کہ میں نے اپنے پروردگار کے ذکر سے مال کی محبت کو پسند کیا ہے آپ کو دکھ ہوا کہ ان گھوڑوں کی دیکھ بھال میں مصروفیت کی وجہ سے ان کی نماز ضانع ہوگئی حالانکہ گھوڑوں پر ذکر الہی کو ترجیح دینی چاہئے تھی (آیت) ” حتی تورت بالحجاب “۔ یہاں تک کہ سورج حجاب میں چلا گیا یعنی غروب ہوگیا اور عبادت کا وقت جاتا رہا ۔ (پہلی تفسیر) مفسرین کرام اس آیت کی تفسیر دو طریقوں سے کرتے ہیں اور وہ دونوں تفسیریں درست ہیں ، پہلی تفسیر یہ ہے کہ (آیت) ” عن ذکر ربی “ میں عن بطور علت ہے اور اس طرح معنی یہ بنتا ہے کہ سلیمانعلیہ السلام نے کہا میں نے ان گھوڑوں سے محبت کی ہے رب تعالیٰ کے ذکر کی وجہ سے ، مطلب یہ کہ آپ کو ذکر الہی کے فوت ہوجانے پر ملال نہیں ہوا ، بلکہ گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان سے محبت کو ذکرہی کا حصہ قرار دیا ، ظاہر ہے کہ مذکورہ گھوڑے جہاد میں کام آتے تھے اور ان کی دیکھ بھال اور تربیت بھی جہاد ہی کا حصہ سمجھا جائے گا اس کی مثال یہ ہے کہ نماز فرض ہے تو اس کی ادائیگی کی تیاری کے لیے انجام دیے گئے جملہ امور وضوء وغیرہ بھی اسی کے تحت آئیں گے اب ایک طرح جہاد جیسا اہم فریضہ ہے جس میں مال وجان کی بازی لگانا پڑتی ہے اور دوسری طرف زبانی ذکر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے ، اگر بنظرغائر دیکھا جائے تو جہاد بھی اعلائے کلمۃ الحق کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور یہ بھی یاد الہی کا ہی ایک حصہ ہے ، لہذا جہاد کی تیاری میں ذکر الہی کا فوت ہوجانا کوئی خاص حرج والی بات نہیں ہے ، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) نے خادموں کو حکم دیا (آیت) ” ردوھا علی “۔ ان کو میری طرف واپس پلٹاؤ ، ظاہر ہے کہ گھوڑوں کی تربیت کی جارہی ہوگئی اور اس مقصد کے لیے انہیں دوڑایا جا رہا ہوگا ، تو آپ نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ پس جب ان کو آپ کے پاس لایا گیا ، (آیت) ” فطفق مسحا بالسوق والاعناق ‘۔ تو سلیمان (علیہ السلام) ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے مسح کے کئی معنی آتے ہیں جن میں ہاتھ پھیر کر جھاڑ پونچھ کرنا بھی ہے اور ایسا محبت اور عزت واکرام کی بناء پر کیا جاتا ہے چونکہ سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد میں کام آنے والے عمدہ قسم کے گھوڑوں سے محبت تھی لہذا آپ نے انکی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ۔ (دوسری تفسیر) ان آیات کی ایک تو یہ تفسیر ہے اور دوسری تفسیر جو عام طور پر اختیار کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے کہ جب گھوڑوں کی دیکھ بھال میں سلیمان (علیہ السلام) کی عبادت کافریضہ رہ گیا تو آپ کو اس پر سخت رنج ہوا ، اور کہنے لگے ، میں نے مال کی محبت کو ذکر الہی پر ترجیح دی ہے “۔ یہ مفسرین ” احببت “ کا معنی ” میں نے ترجیح دی ہے “ کرتے ہیں اور اس طرح انہوں نے اپنی اس کوتاہی پر اپنے آپ کو گویا ملامت کی کہ ان سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ گھوڑوں کی دیکھ بھال میں لگے رہے اور نماز فوت ہوگئی یہ حضرات ” عن ذکر “ کو ” علی ذکر “ پر محمول کرتے ہیں اور اس طرح مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ میں نے مال کی محبت کو ذکر الہی سے نہیں بلکہ ذکر الہی پر ترجیح دی ، اس کی مثال قرآن پاک کی دوسری آیت میں بھی ملتی (آیت) ” ومن یبخل وانما یبخل عن نفسہ “۔ (محمد ، 38) جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس پر بخل کرتا ہے یہاں بھی عن کا معنی علی کے طور پر آیا ہے ، اسی طرح بعض مفسرین نے ” احببت “ معنی ” قعدت “ کیا ہے یعنی میں مال کو محبت میں ذکر الہی سے بیٹھ گیا ، اور اس کی طرف توجہ نہ دی ، مسح کا معنی دھونا بھی آتا ہے اور نشان لگانا بھی حضور ﷺ بعض جانوروں کو نشان لگا کر جہاد کے لیے وقف کردیتے تھے البتہ آپ کا حکم تھا کہ ایسے جانوروں کو چہرے کی بجائے جسم کے کسی دوسرے حصہ پر داغا جائے ۔ مسح کا معنی قطع بھی آتا ہے ، کاٹ دینا یا ذبح کردینا چناچہ امام سیوسی (رح) نے در منثور میں طبرانی اور مجمع الزوائد کے حوالے سے ابی ابن کعب ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” مسحا بالسوق والاعناق “ سے مراد ” قطعا بالسوق والاعناق بالسیف “ ہے یعنی سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کردیا اور ان میں سے ایک معتدبہ تعداد کی قربانی کردی کیونکہ ان میں مشغولیت کی وجہ سے آپ کی فرض عبادت ضائع ہوگئی تھی یہ درجہ دوئم کی مرفوع حدیث ہے اور قابل اعتماد ہے اس طرح گویا سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی کوتاہی پر اپنے آپ کو سزا دینے کے لیے یا اپنی اصلاح کے لیے اپنے آپ کو گھوڑوں سے محروم کردیا ، اس سے معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے اور اس کی مثال خود حضور ﷺ کی ذات مبارکہ سے ملتی ہے ، ابوجہم ؓ صحابی نے شام کی بنی ہوئی خوبصورت نقش ونگار والی چادر یا کمبل حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے قبول فرمایا اور اوڑھ کر نماز ادا کی دوران نماز آپکی توجہ کمبل کے نقش ونگار کی طرف مبذول ہوگئی ، نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا کہ کمبل ابو جہم ؓ کو واپس کر دو اور اس کی بجائے مجھے سادہ کمبل لا دو تاکہ صحابی کی دل شکنی نہ ہو ، چناچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو موطا میں مذکور ہے آپ اپنے باغ میں نماز ادا کر رہے تھے باغ بڑا گھنا تھا اتنے ایک چھوٹا سا پرندہ درختوں کے گھنوں پتوں میں داخل ہوا اور پھر وہی پھنس کر رہ گیا اس کے پھڑپھڑانے کی وجہ سے ابو طلحہ ؓ کی توجہ اس طرف چلی گئی ، آپ کو بڑا رنج ہوا کہ نماز میں خلل واقع ہوا ہے چناچہ آئندہ کسی ایسے وقوعہ سے بچنے کے لیے سارا باغ ہی اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور خود اس سے دست بردار ہوگئے ، اسی طرح کعب ابن مالک ؓ کا واقعہ بھی آتا ہے آپ غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے کیونکہ آپ کو اپنے کھجوروں کے باغ کی دیکھ بھال کرنا تھی اس کوتاہی پر آپ پر سخت ابتلاء آئی ، چالیس دن تک آپ کا سخت بائیکاٹ رہا ، اور مدینہ کا کوئی شخص آپ سے کلام تک کرنے کے لیے تیار نہ تھا بالآخر پچاس روز بعد اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ کی آیات نازل فرما کر آپ کی توبہ قبول فرمائی پھر آپ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اپنی تمام املاک اور باغ وغیرہ کی وجہ سے مجھ پر ابتلاء آئی میں اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کرتا ہوں تاکہ آئندہ ایسی کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے غرضیکہ اسی اصول کے تحت سلیمان (علیہ السلام) نے بھی اپنے عمدہ گھوڑوں کی ایک بڑی تعداد کو قربان کردیا ۔ (خلاصہ) بہرحال ان آیات کی دو طرح کی تفسیر میں نے آپ کے گوش گزار کردی ہے ، پہلی تفسیر یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے جہاد کے گھوڑوں کی تربیت اور دیکھ بھال کر ذکر الہی کے منافی نہ سمجھا بلکہ نماز کے فوت ہوجانے پر گھوڑوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرا اور ان کی جھاڑ پونچھ کر کے ان کا گردوغبار دور کردیا ، اور دوسری تفسیر یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) کو نماز یا ذکر کی فوتیدگی کا سخت رنج ہوا اور انہوں نے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کے کفارے کے طور پر بہت سے گھوڑے ذبح کر ڈالے اور اس طرح سزا کے طور پر اپنے آپ کو اتنے عمدہ گھوڑوں سے محروم کرلیا ۔ (بعض متفرع مسائل) اس واقعہ میں ایک مسئلہ گھوڑے کی قربانی کا آیا ہے اس دور میں گھوڑے کی قربانی جائز تھی ، یہ جانور حلال تو ہماری شریعت میں بھی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں روایت موجود ہے ، البتہ اس کی قربانی نہیں کی جاتی ، بلکہ اس مقصد کے لیے اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری نر و مادہ کو استعمال کیا جاتا ہے جن کا ذکر سورة الانعام میں موجود ہے ۔ مفسرین کرام اس واقعہ سے یہ مسئلہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ حاکم کو امور سلطنت کی دیکھ بھال بذاتہ خود کرنی چاہئے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی سیرت سے واضح ہوتا ہے ، اس سے یہ مسئلہ بھی متفرع ہوتا ہے کہ کسی ایک عبادت کے وقت میں کوئی دوسری عبادت کرنا درست نہیں وگرنہ بدنظمی پیدا ہونے کا احتمال ہے اس اصول کے تحت سلیمان (علیہ السلام) کو نماز کے وقت نماز ہی ادا کرنی چاہئے تھی اور گھوڑوں کی دیکھ بھال کسی دوسرے وقت پر ملتوی کردینی چاہئے تھی اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو نماز جمعہ کی تیاری کے علاوہ کوئی دوسرا کام کرنا جائز نہیں حتی کہ اس دوران میں نفل پڑھنا یا قرآن کی تلاوت کرنا بھی درست نہیں ہاں مسجد میں پہنچ کر نوافل ادا کرسکتا ہے یا تلاوت قرآن پاک کرسکتا ہے ۔
Top