Mafhoom-ul-Quran - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا لِدَاوٗدَ : داؤد کو سُلَيْمٰنَ ۭ : سلیمان نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : بہت اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے تھے اور وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
سیدناسلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ تشریح : سیدنا داؤد (علیہ السلام) کے اوپر جو کچھ عنایات اللہ کی طرف سے کی گئیں اُ ن میں سے ایک نعمت بہت اچھے بیٹے کی بھی دی گئی۔ ان کا نام سیدنا سلیمان (علیہ السلام) تھا۔ آپ کو بھی نبوت، حکومت اور بہت سی نعمتیں دی گئی تھیں۔ آپ کا ذکر سورة بقرہ، بنی اسرائیل، انبیاء، نمل اور سبا میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ مصلحتاً دہرایا جا رہا ہے۔ تاکہ اللہ کی مہربانیاں اور اچھے انسانوں کی خوبیاں بیان کی جاسکیں۔ آپ کی تسلی کیلئے ان آیات کے ترجمہ و تفسیر میں بےحد اختلاف ہے۔ تذکرۃ الانبیاء محترم حافظ قاضی عبد الرزاق صاحب اور تفہیم القرآن کی روشنی میں مجھے کچھ یوں مناسب لگا ہے کہ جب سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے ان کے پسندیدہ بہترین گھوڑے لائے گئے تو وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اللہ کی حمد وثناء کرتے ہوئے انہوں نے ان کو بڑے پیار سے دیکھا اور اللہ کی دی ہوئی (ان بہترین گھوڑوں کی) نعمت پر شکر بجا لائے غرور نہیں کیا اور فرمانے لگے ” کیونکہ ان پر بیٹھ کرا اللہ کی راہ میں جہاد کیا جاتا ہے اس لیے یہ مجھے اور بھی زیادہ پسند ہیں “۔ پھر ان گھوڑوں کو دوڑانے کا حکم دیا جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے تو واپس لانے کا حکم دیا۔ جب وہ واپس لائے گئے تو انتہائی محبت، شفقت اور خوشی سے ان کی پنڈلیوں کو جھاڑنے لگے اور ان کی گردنوں پر تھپکی دینے لگے مگر دل اللہ کے شکر اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ تو یہاں یہی بتایا گیا ہے کہ اس قدر نعمتیں، برکتیں، عزتیں اور آسائشیں حاصل کرنے کے باوجود غرور کا نام تک نہیں بلکہ ہر دم اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ کے پسندیدہ نیک اور برگزیدہ انسان تھے۔ جیسا کہ آپ کے والد سیدنا داؤد (علیہ السلام) تھے۔ مگر ان کو بھی اللہ نے آزمائش میں ڈالا اور ان کا محاسبہ بھی کیا۔ تو انہوں نے فورا استغفار کیا اور اللہ نے ان کو معاف کردیا۔
Top