Bayan-ul-Quran - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس قرآن (کی تبلیغ) پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ (ف 3)
3۔ یعنی اگر جھوٹ بولتا تو اس کا منشاءیا تو کوئی نفع عقلی ہوتا جس کو اجر کہا ہے، اور یا عادت طبعی ہوتی جس کو تکلف کہا ہے، سو یہ دونوں امر نہیں۔
Top