Ruh-ul-Quran - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
اے نبی ! کہہ دیجیے کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی عوض نہیں مانگتا، اور نہ میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں
قُلْ مَـآ اَسْئَـلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍوَّمَـآ اَنَا مِنَ الْمُتَـکَلِّفِیْن۔ َ اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ ۔ (صٓ: 86 تا 88) (اے نبی ! کہہ دیجیے کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی عوض نہیں مانگتا، اور نہ میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہاں والوں کے لیے۔ اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تم اس کی دی ہوئی خبر کو جان لو گے۔ ) تین قابل توجہ حقائق بڑے سے بڑا کام کرنے والوں اور عظیم سے عظیم شخصیتوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹیں تین ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر کام کرنے والے کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ شخص جو اتنی جان مار کر کام کررہا ہے اور اتنی مخالفتیں برداشت کررہا ہے اور اس نے اسے زندگی کی سب سے بڑی ترجیح بنا رکھا ہے یقینا اس کا اس میں کوئی نہ کوئی مفاد ہے۔ اسے کہیں نہ کہیں سے اس کا معاوضہ ملتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ ہر کام کرنے والے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذاتی شہرت اور اپنی ذات کی بڑائی اور اپنے آپ کو ناگزیر ثابت کرنے کے لیے وہ ایسی باتوں کا دعویٰ کررہا ہے جن کا اس سے کسی طرح کا تعلق نہیں۔ جیسے ہی اسے اس بات کا احساس ہوا کہ اب وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے تو پھر وہ کبھی بھول کر بھی ان باتوں کا نام نہیں لے گا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ اصل میں اس شخص کے دو چہرے ہیں، حقیقت کچھ اور ہے اور ظاہر کچھ اور۔ اور تیسری یہ بات کہ وہ اپنی بات کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں جن خدشات کا اظہار کرتا ہے اور اپنی بات کے وقوع پذیر ہونے کو جس حتمی انداز میں پیش کرتا ہے یہ سراسر دعوے ہیں، انھیں شاید کبھی تعبیر نہ مل سکے۔ یہی تینوں باتیں نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی کہی جاتی تھیں۔ ان تین آیتوں میں ان ہی تین باتوں کا جواب دیا گیا ہے اور جواب بھی آنحضرت ﷺ سے دلوایا گیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں جو دعوت تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں میں اس پر تم سے کسی صلہ کا طالب نہیں ہوں کہ تم نے اس کی قدر نہ کی تو میں صلہ سے محروم رہ جاؤں گا۔ میں تو اس عظیم کام کے لیے اپنا وقت، اپنا کاروبار، اپنا سرمایہ، اپنے تعلقات، اپنی قرابتداریاں، غرضیکہ سب جھونک چکا ہوں۔ اگر اس میں کسی مفاد اور صلے کی آمیزش ہوتی تو میں یہ قربانیاں کبھی نہ کرتا۔ اس لیے تمہیں یکسو ہوجانا چاہیے کہ یہ ایک فریضہ ہے جسے میں ادا کررہا ہوں اور فرائض صلے کی امید پر ادا نہیں کیے جاتے۔ دوسری یہ بات کہ میں نے یہ بارگراں خود اپنی خواہش سے نہیں اٹھایا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ایک ذمہ داری ہے جسے میں ادا کررہا ہوں۔ میری چالیس سالہ زندگی اس پر گواہ ہے کہ مجھ سے کبھی کسی شخص نے اس مقصد کے حوالے سے ایک لفظ تک نہیں سنا تھا۔ اور اپنے آپ کو آگے بڑھانے کے لیے کبھی کسی نے میرے اندر اس کی بو تک نہیں سونگھی تھی۔ اب جبکہ چالیس سال کی عمر کے بعد جوانی کے ولولے سرد ہوگئے ہیں اور اپنی ذات کے لیے کچھ کر گزرنے کی خواہشیں بھی دم توڑ گئی ہیں تو کیا اس عمر میں، میں بہ تکلف اپنے آپ کو اس انداز میں پیش کروں گا جو درحقیقت میں نہیں ہوں تو یہ سوچ سراسر حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اور تیسری یہ بات کہ میں جس طرح محکم انداز میں اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی دعوت پیش کررہا ہوں اور جس طرح یقین کے ساتھ آنے والی ہر بات کی خبر دے رہا ہوں اگر آج اس کو نہیں مانا جائے گا تو وہ وقت دور نہیں کہ ان میں سے ہر بات ہو کر رہے گی اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اللہ تعالیٰ کا دین غالب آکر رہے گا۔
Top