Maarif-ul-Quran - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
تو کہہ میں مانگتا نہیں تم سے اس پر کچھ بدلا اور میں نہیں اپنے آپ کو بنانے والا
تکلف اور تصنع کی مذمت
(آیت) وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ۔ (اور میں بناوٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں) مطلب یہ ہے کہ میں تکلف اور تصنع کو اپنی نبوت و رسالت اور علم و حکمت کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ اللہ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا رہا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکلف اور تصنع شرعاً مذموم ہے۔ چناچہ اس کی مذمت میں بعض احادیث وارد ہوئی ہیں۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا ارشاد منقول ہے کہ
”اے لوگو، تم میں سے جس شخص کو کسی بات کا علم ہو تو وہ لوگوں سے کہہ دے، لیکن جس کا علم نہ ہو تو وہ ”اللہ اعلم“ کہنے پر اکتفا کرلے، (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ہے۔ (آیت) قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ۔ (روح المعانی)
Top