بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Dure-Mansoor - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص ٓ ! قسم ہے قرآن کی جو نصیحت والا ہے
1:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا ” آ “ کے بارے میں تو ان دونوں نے فرمایا ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ” ص ٓ“ سے مراد ہے کہ قرآن سے ہم کلام ہونا :۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” ص ٓ والقران “ یعنی صاد کی دال کے نیچے کندہ پڑھتے تھے اور اس کو مصدر مصاواۃ سے مشتق مانتے تھے اور فرماتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ یک سو ہوجا۔ عبد الوہاب نے کہا کہ اس کو اپنے عمل پر پیش کر پھر تو دیکھ کہ قرآن سے تیرا عمل کتنا مقابل ہے۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ“ سے مراد ہے بلاشبہ میں اللہ ہوں سچ کہنے والا۔ 5:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ“ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا۔ 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ“ سے مراد ہے محمد ﷺ ۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ والقران ذی الذکر “ (قسم ہے قرآن کی جو نصیحتوں سے پر ہے) یعنی یہ قرآن ان کی مجلسوں میں نازل ہوا۔ 8:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ص ٓ والقران ذی الذکر “ سے مراد ہے کہ یہ قرآن شرف والا ہے۔ 9:۔ عبد بن حمید وابن وابن الانباری نے المصاحف میں قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” بل الذین کفروا فی عزۃ (بلکہ یہ کافر تعصب میں پڑے ہوئے ہیں) یعنی یہ جواب قسم ہے (آیت ) ” فی عزۃ شقاق “ ‘ یعنی حمیت اور فراق میں پڑے ہوئے ہیں۔ 10:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق “ یعنی غلبہ کے حاصل کرنے میں مقابلہ کرنے والے (آیت ) ” وشقاق “ اور گناہ کرنے والے (آیت ) ” فنادوا ولات حین مناص “ (انہوں نے بڑے ہائے پکار کی اور وقت ربائی کا نہ تھا) یعنی یہ وقت بھاگنے کا نہ تھا۔ 11:۔ طیالسی (رح) وعبدالرزاق وفریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وحاکم (رح) (وصححہ) تمیمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ وقت نہ جھوٹ کا اور نہ بھاگنے کا۔ عذاب کے وقت راہ فرار نہ ہوگا : 12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولات حین “ کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ وقت بھاگنے کا نہیں تھا، پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : ہاں : کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : تذکرت لیلی لات حین تذکر وقد تبت عنھا والمناض بعید : ترجمہ : لیلیٰ نے یاد کیا جبکہ وہ وقت یاد کرنے کا نہ تھا اور میں نے اس سے توبہ کی جبکہ فرار کا وقت بہت دور ہے۔ 13:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی انہوں نے پکارا اور پکارنا اس وقت ان کو نفع نہیں دیتا پھر سابقہ شعر پڑھا۔ 14:۔ ابن ابی حاتم نے ابی ظبیان کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی یہ بھاگنے کا وقت نہیں۔ 15:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی بن الحکم کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی یہ مدد کا وقت نہیں۔ 16:۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی یہ وقت گھبراہٹ کا نہیں۔ 17:۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی یہ وقت ندا کا نہیں۔ 18:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی انہوں نے توحید اور عذاب کو اس وقت پکارا جب دنیا ان سے گزر چکی تھی پھر انہوں نے توبہ کو پکارا جبکہ دنیا ان سے جا چکی تھی۔ 19:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادوا ولات حین مناص “ یعنی قوم نے اس وقت پکارا جب پکارنے کا وقت نہیں تھا اور انہوں نے اس وقت توبہ کا ارادہ کیا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھ لیا۔ تو (ان کو توبہ نے) ان کو نفع نہ دیا اور نہ ہی ان کی توبہ قبول ہوئی۔ 20:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ یعنی یہ وقت انقلاب کا نہیں ہے۔ 21:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولات حین مناص “ سے مراد ہے جب سریانی لیس کہنے کا ارادہ کرے تو کہتا ہے : ولات۔
Top