Maarif-ul-Quran - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
اور قوت دی ہم نے اس کی سلطنت کو اور دی اس کو تدبیر اور فیصلہ کرنا بات کا۔
وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے، یعنی ہم نے انہیں عقل وفہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نبوت مراد ہے۔ اور ”فصل الخطاب“ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے۔ چناچہ حضرت داؤد ؑ اونچے درجے کے خطیب تھے، اور خطبوں میں حمد وصلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے انہوں نے ہی کہنا شروع کیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوت فیصلہ مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ درحقیقت ان الفاظ میں بیک وقت دونوں معنیٰ کی پوری گنجائش ہے اور یہ دونوں باتیں ہی مراد ہیں۔ حضرت تھانوی نے جو اس کا ترجمہ فرمایا ہے اس میں بھی دونوں معنے سما سکتے ہیں۔
Top