Urwatul-Wusqaa - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
ہم نے اس کی حکومت کو بڑا استحکام دیا اور اس کو حکومت دی اور قول فیصل سکھایا
ہم نے دائود (علیہ السلام) کو مستحکم حکومت اور فصل الخطاب بھی دیا 20۔ دائود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبیوں میں سے ایک نبی اور اس زمانہ کے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے ایک بہت بڑے بادشاہ بھی تھے۔ آپ کی حکومت میں جہاں روحانی طور پر ترقی ہوئی وہاں مادی طور پر بھی اس دور کی حکومتوں کے مقابلہ میں بہت ترقی ہوئی آپ کے زمانہ میں آپ کے ملک کے اندر نئی نئی ایجادات میں لوہے کے کام کو خصوصا ترقی ہوئی لوہا تانبا وغیر صاف کرنے اور اس سے مختلف اور بڑی بڑی اشیاء تیار کرنے کے کارخانے لگائے گئے اور اس طرح زرہیں اور دوسرے جنگی سامان تیار کیے گئے۔ ان ایجادات کے باعث آپ کی حکومت کو چار چاند لگ گئے اور اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئے اور آپ کی حکومت کو ایسا استحکام حاصل ہوا کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ آپ کی حکومت کی طرف حملہ کرنے کا اشارہ بھی کرسکے اور یہ استحکام بنی اسرائیل کی حکومت کو اس سے پہلے کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی آپ کے سینہ کو اللہ تعالیٰ نے نور نبوت سے اس طرح بھر دیا تھا کہ آپ کو ایسی بےنظیر فصاحت و بلاغت بخشی کہ آپ کی گفتگو اور خطاب کے بعد کسی کو تکرار یا انکار کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی تھی۔ یہ ملکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس قدر ودیعت کیا تھا کہ آپ اپنی تقریر میں اپنے موضوع کی ساری باتوں کو اس طرح کھول کر رکھ دیتے تھے کہ سب جھگڑے ختم ہوجاتے اور آپ کا بیان اس قدر صاف وسیع اور فصیح ہوتا تھا کہ حق و باطل بالکل الگ الگ ہو کر رہ جاتے اور بات کا کوئی پہلو بھی مبہم نہ چھوڑتے کہ سامع کسی ابہام کا اظہار کرسکے۔ فصل الخطاب : البیان الفاصل بین الحق والباطل۔
Top