Ruh-ul-Quran - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی
وَشَدَدْنَا مُلْـکَہٗ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ۔ (صٓ: 20) (ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی اور اس کو حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) کی مستحکم حکومت کا اصل سبب اوپر آیت 17 میں ذَا الْاَیْدِ کے لفظ سے حضرت دائود (علیہ السلام) کی قوت و صولت کو بیان کیا گیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں اسی کی وضاحت ہے کہ ہم نے دائود کو جو ہیبت و صولت عطا کی تھی اس کا سبب یہ تھا کہ ہم نے انھیں ایک مستحکم حکومت سے نوازا تھا۔ اور اس حکومت کے استحکام کے لیے ہم نے ان کو حکمت بھی عطا کی تھی اور فصلِ خطاب سے بھی بہرہ ور فرمایا تھا۔ یعنی ایسا نہیں کہ غیرمعمولی طریقے سے ہم نے انھیں حکومت تو دے دی ہو لیکن وہ کما حقہ اس کو چلانے پر قادر نہ ہوں۔ ہم نے اس صلاحیت سے بھی انھیں مالامال کیا تھا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ انسانوں کے شیرازے کو باندھ کے رکھنا، ان کے معاملات میں خرابی پیدا نہ ہونے دینا، انسانوں کو طبقات میں تقسیم ہونے سے بچانا، وسائلِ زندگی کی منصفانہ تقسیم اور ہر شخص تک سستا انصاف پہنچنا، کمزور آدمی کو جرأت دلانا اور مضبوط آدمی کو حدود میں رکھنا، خیر اور بھلائی کی قوتوں کو توانا کرنا اور شر اور فساد کے سوتوں کو خشک کرنا کیونکر ممکن ہوتا ہے۔ ہر معاملے کو گہرائی تک جانچنا اور وقت سے پہلے اٹھنے والے طوفانوں کا اندازہ کرنا اور اس کے سامنے بند باندھنا یہ وہ حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کو بہرہ ور فرمایا تھا اور ساتھ ہی دوسری چیز یہ بھی عطا فرمائی تھی کہ وہ ہر بات کی تہہ تک اترنے اور ہر معاملے کی حقیقت کو جاننے اور پھر اس کو پورے دلائل کے ساتھ مخاطب تک پہنچانے اور فیصلے کی صورت دینے کی بھی انھیں پوری قدرت حاصل تھی۔ پیچیدہ سے پیچیدہ معاملے کی حقیقت ان پر پنہاں نہ رہتی تھی۔ اور مشکل سے مشکل بات کو پانی کردینا ان کے لیے بہت آسان بات تھی۔ وہ ہر بات کو دوٹوک انداز میں بیان کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں عقل و فہم میں کمال بخشا تھا اسی طرح ان کو اعلیٰ درجے کی قادرالکلامی بھی عطا فرمائی تھی۔
Top