Tafseer-e-Madani - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
اور ہم نے مضبوط کردیا تھا ان کی بادشاہی کو اور ان کو نواز دیا تھا حکمت (کی دولت) اور فیصلہ کن بات (کے ملکے) سے
25 حضرت داؤد کے استحکام سلطنت کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے مضبوط کردیا تھا ان کی بادشاہی کو "۔ قدرتی رعب و دبدبے سے اور لشکروں و فوجوں کی کثرت سے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد روئے زمین پر سب سے بڑے زور اور قوت والے بادشاہ تھے۔ روایات میں وارد ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی حفاظت کے لئے ہر روز ہزار اور بعض روایات کے مطابق دس ہزار سپاہی کھڑے ہوتے تھے۔ اور بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار ایسے حراس اور سپاہی کھڑے ہوتے تھے جن کے دوبارہ کھڑے ہونے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ (روح، جامع البیان، ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ اور ان کی حکومت و سلطنت کے استحکام اور اس کی مضبوطی کیلئے انکو ہم نے حکمت کی دولت اور فصل خطاب کی قوت سے بھی نوازا تھا جو کہ ایسے استحکام کیلئے اہم اساس و بنیاد ہوتی ہے۔ سو آنجناب کی اس شان بےمثال سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اس کا ہوجاتا ہے ۔ من کان للہ کان اللہ لہ ۔ اور اللہ جس کا ہوجائے کائنات ساری اس کی ہوجاتی ہے ۔ اللہ ہمیں بھی اس شرف سے مشرف فرما دے اور محض اپنے لطف و کرم سے اس عنایت سے سرفراز فرما دے ۔ وما ذلک علیہ بعزیز وہو علی کل شیء قدیر۔ 26 حضرت داؤد کے لیے حکمت سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو نوازا تھا حکمت کی دولت سے "۔ یعنی فکر و فہم، اصابتِ رائے اور نبوت و رسالت کے شرف سے۔ اور حکم و امثال پر مشتمل محکم کلام سے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ وغیرہ) سو حکمت کا نور ایک ایسا عظیم الشان نور ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات ہی سے کسی کو نصیب ہوسکتا ہے۔ اور اس نور سے منور ہوجانے کے بعد انسان ہر چیز کو صحیح طور پر دیکھتا اور اس کو اس کے اس صحیح محل میں رکھتا ہے جس سے وہ ہر چیز کے فوائد وثمرات سے خود مستفید ہوتا اور دوسروں کو فیضیاب کرتا ہے۔ جبکہ علم و حکمت کے نور سے محرومی کی صورت میں انسان ایسا اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنے لیے اور دوسروں کیلئے عذاب بنا لیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے حضرت داؤد کو جب علم و حکمت کے اس نور سے بطور خاص نوازا تو ان کی حکومت و بادشاہی نہ صرف یہ کہ اس دور کے لوگوں کیلئے باعث خیر و برکت بن گئی بلکہ قیامت تک کے لوگوں کیلئے نمونہ اور مینارئہ رشد و ہدایت بن گئی۔ یہاں تک کہ حضرت امام الانبیائ ﷺ کی زبان حق ترجمان سے یہ تصریح فرمائی گئی کہ " سب سے اچھی نماز داؤد کی نماز اور سب سے اچھا روزہ داؤد کا روزہ ہے "۔ سو حکمت ایک عظیم الشان نعمت خداوندی ہے اور یہ حاصل اور نصیب ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے اور پکے تعلق سے۔ ورنہ اس تعلق سے محروم حکمران تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر باعث عذاب بن جاتا ہے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی جس کے مختلف مظاہر آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ موجود ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 27 حضرت داؤد کے لیے فصل خطاب کی نعمت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو نوازا فصل خطاب کی عنایت سے "۔ یعنی حق و باطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کا ملکہ جس کے ذریعے آپ عدل و انصاف قائم کرتے تھے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو حکمت اور فصل خطاب کی دولت سے سرفرازی کے بعد حضرت داؤد کی حکومت اور بادشاہی خلق خدا کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ اور قیامت تک کے حکمرانوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال اور نمونہ خیر وبرکت بن گئی۔ جبکہ اس سے محروم لوگوں کیلئے ان کی حکومت ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ حکومت و سلطنت کے استحکام اور اس کی مضبوطی و پختگی اور اس کے ذریعہ خیر و برکت لینے کے لیے اولین چیز جس کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے قلوب و بواطن نور حکمت سے منور و معمور ہوں۔ اور دوسری اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ فصل خصومات اور قضائے معاملات کے لیے قوت فیصلہ سے سرفراز ہوں۔ اگر یہ چیز حاصل اور میسر نہ ہو تو اس حکومت کی بنیاد ریت پر ہوتی ہے اگرچہ دوسرے اسباب و وسائل کتنی ہی مقدار میں میسر کیوں نہ ہوں۔ اور ایسے حکمرانوں کی حکومتیں باعث عذاب بن جاتی ہیں اور ان کے وہ وسائل رعایا کی بہتری کی بجائے ان کی ہلاکت و تباہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top