36. Yaseenيس

Yaseen · Meccan · 83 ayahs · 5 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. یٰسٓۚ﴿1﴾

    یس۔
  2. وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ﴿2﴾

    حکمت بھرے قرآن کی قسم
  3. اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿3﴾

    تم یقینا پیغمبروں میں سے ہو۔
  4. عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ﴿4﴾

    بالکل سیدھے راستے پر۔
  5. تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ﴿5﴾

    یہ قرآن اس ذات کی طرف سے اتارا جارہا ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی رحمت بھی کامل۔
  6. لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ﴿6﴾

    تاکہ تم ان لوگوں کو خبردار کرو جن کے باپ دادوں کو پہلے خبردار نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
  7. لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿7﴾

    حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے بارے میں بات پوری ہوچکی ہے۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔
  8. اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ﴿8﴾

    ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال رکھے ہیں، جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے ہیں۔
  9. وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ﴿9﴾

    اور ہم نے ایک آڑ ان کے آگے کھڑی کردی ہے، اور ایک آڑ ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے، اور اس طرح انہیں ہر طرف سے ڈھانک لیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
  10. وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿10﴾

    اور ان کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے تم انہیں خبردار کرو، یا خبردار نہ کرو، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
  11. اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ﴿11﴾

    تم تو صرف ایسے شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت پر چلے، اور خدائے رحمن کو دیکھے بغیر اس سے ڈرے۔ چنانچہ ایسے شخص کو تم مغفرت اور باعزت اجر کی خوشخبری سنا دو۔
  12. اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ع﴿12﴾

    یقینا ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے، اور جو کچھ عمل انہوں نے آگے بھیجے ہیں ہم ان کو بھی لکھتے جاتے ہیں اور ان کے کاموں کے جو اثرات ہیں ان کو بھی۔ اور ہم نے ایک واضح کتاب میں ہر ہر چیز کا پورا احاطہ کر رکھا ہے۔
  13. وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ﴿13﴾

    اور (اے پیغمبر) تم ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال پیش کرو، جب ان کے پاس رسول آئے تھے
  14. اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ﴿14﴾

    جب ہم نے ان کے پاس (شروع میں) دو رسول بھیجے، تو انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے ایک تیسرے کے ذریعے ان کی تائید کی، اور ان سب نے کہا کہ : یقین جانو ہمیں تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔
  15. قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ﴿15﴾

    انہوں نے کہا : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی آدمی ہو۔ اور خدائے رحمن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، اور تم سراسر جھوٹ بول رہے ہو۔
  16. قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ﴿16﴾

    ان (رسولوں) نے کہا : ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہمیں واقعی تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔
  17. وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿17﴾

    اور ہماری ذمہ داری اس سے زیادہ نہیں ہے کہ صاف صاف پیغام پہنچا دیں۔
  18. قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿18﴾

    بستی والوں نے کہا : ہم نے تو تمہارے اندر نحوست محسوس کی ہے۔ یقین جانو اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم پر پتھر برسائیں گے، اور ہمارے ہاتھوں تمہیں بڑی دردناک سزا ملے گی۔
  19. قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴿19﴾

    رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں اس لیے کر رہے ہو کہ تمہیں نصیحت کی بات پہنچائی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔
  20. وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿20﴾

    اور شہر کے پرلے علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ان رسولوں کا کہنا مان لو۔
  21. اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿21﴾

    ان لوگوں کا کہنا مان لو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگ رہے، اور وہ صحیح راستے پر ہیں۔
  22. وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿22﴾

    اور بھلا میں اس ذات کی عبادت کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے ؟ اور اسی کی طرف تم سب کو واپس بھیجا جائے گا۔
  23. ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ﴿23﴾

    بھلا کیا اسے چھوڑ کر میں ایسوں کو معبود مانوں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے، اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں ؟
  24. اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿24﴾

    اگر میں ایسا کروں گا تو یقینا میں کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا۔
  25. اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ﴿25﴾

    میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا۔ اب تم بھی میری بات سن لو۔
  26. قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ﴿26﴾

    (آخر کار بستی والوں نے اس کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے) کہا گیا کہ : جنت میں داخل ہوجاؤ اس نے (جنت کی نعمتیں دیکھ کر) کہا کہ : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے۔
  27. بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ﴿27﴾

    کہ اللہ نے کس طرح میری بخشش کی ہے، اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کیا ہے۔
  28. وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ﴿28﴾

    اور اس شخص کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی۔
  29. اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ﴿29﴾

    وہ تو بس ایک ہی چنگھاڑ تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔
  30. یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿30﴾

    افسوس ہے ایسے بندوں کے حال پر۔ ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے رہے ہوں۔
  31. اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ﴿31﴾

    کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم کتنی قوموں کو اس طرح ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ ان کے پاس لوٹ کر نہیں آتے ؟
  32. وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ع﴿32﴾

    اور یہ جتنے لوگ ہیں ان سبھی کو اکٹھا کر کے ہمارے سامنے حاضر کیا جائے گا۔
  33. وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ﴿33﴾

    اور ان کے لیے ایک نشانی وہ زمین ہے جو مردہ پڑی ہوئی تھی، ہم نے اسے زندگی عطا کی، اور اس نے غلہ نکالا، جس کی خوراک یہ کھاتے ہیں۔
  34. وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ﴿34﴾

    اور ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے، اور ایسا انتظام کیا کہ اس میں سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے۔
  35. لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ﴿35﴾

    تاکہ یہ اس کی پیداوار میں سے کھائیں، حالانکہ اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔ کیا پھر بھی یہ شکر نہیں کریں گے ؟
  36. سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ﴿36﴾

    پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے پیدا کیے ہیں، اس پیداوار کے بھی جو زمین اگاتی ہے، اور خود انسانوں کے بھی، اور ان چیزوں کے بھی جنہیں یہ لوگ (ابھی) جانتے تک نہیں ہیں۔
  37. وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ﴿37﴾

    اور ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے۔ ہم اس پر سے دن کا چھلکا اتار لیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔
  38. وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ﴿38﴾

    اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ سب اس ذات کا مقرر کیا ہوا نظام ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی کامل۔
  39. وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ﴿39﴾

    اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ وہ جب (ان منزلوں کے دورے سے) لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح (پتلا) ہو کر رہ جاتا ہے۔
  40. لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ﴿40﴾

    نہ تو سورج کی یہ مجال ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے، اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے، اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
  41. وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ﴿41﴾

    اور ان کے لیے ایک اور نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا
  42. وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ﴿42﴾

    اور ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کیں جن پر یہ سواری کرتے ہیں۔
  43. وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ﴿43﴾

    اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر ڈالیں، جس کے بعد نہ تو کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ ان کی جان بچائی جاسکے۔
  44. اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ﴿44﴾

    لیکن یہ سب ہماری طرف سے ایک رحمت ہے، اور ایک معین وقت تک (زندگی کا) مزہ اٹھانے کا موقع ہے۔ (جو انہیں دیا جارہا ہے)
  45. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿45﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : بچو اس (عذاب) سے جو تمہارے سامنے ہے، اور جو تمہارے (مرنے کے) کے بعد آئے گا تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تو وہ ذرا کان نہیں دھرتے)
  46. وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ﴿46﴾

    اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آتی جس سے وہ منہ نہ موڑ لیتے ہوں۔
  47. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿47﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے (غریبوں پر بھی) خرچ کرو، تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ : کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائی جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ (مسلمانو) تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
  48. وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿48﴾

    اور کہتے ہیں کہ : یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟ (مسلمانو) بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔
  49. مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ﴿49﴾

    (دراصل) یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کی حجت بازی کے عین درمیان انہیں آپکڑے گی۔
  50. فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ع﴿50﴾

    پھر نہ یہ کوئی وصیت کرسکیں گے، اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاسکیں گے۔
  51. وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ﴿51﴾

    اور صور پھونکا جائے گا تو یکایک یہ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف تیزی سے روانہ ہوجائیں گے۔
  52. قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ﴿52﴾

    کہیں گے کہ : ہائے ہماری کم بختی ! ہمیں کس نے ہمارے مرقد سے اٹھا کھڑا کیا ہے ؟ (جواب ملے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور پیغمبروں نے سچی بات کہی تھی۔
  53. اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ﴿53﴾

    اور کچھ نہیں، بس ایک زور کی آواز ہوگی، جس کے بعد یہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔
  54. فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿54﴾

    چنانچہ اس دن کسی شخص پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، اور تمہیں کسی اور چیز کا نہیں، بلکہ انہیں کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
  55. اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ﴿55﴾

    جنت والے لوگ اس دن یقینا اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے۔
  56. هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ﴿56﴾

    اور وہ ان کی بیویاں گھنے سایوں میں آرام دہ نشستوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔
  57. لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ﴿57﴾

    وہاں ان کے لیے میوے ہوں گے، اور انہیں ہر وہ چیز ملے گی جو وہ منگوائیں گے۔
  58. سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ﴿58﴾

    رحمت والے پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔
  59. وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ﴿59﴾

    (اور کافروں سے کہا جائے گا کہ) اے مجرمو ! آج تم (مومنوں سے) الگ ہوجاؤ۔
  60. اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ﴿60﴾

    اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تمہیں یہ تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
  61. وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿61﴾

    اور یہ کہ تم میری عبادت کرنا، یہی سیدھا راستہ ہے۔
  62. وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ﴿62﴾

    اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے تم میں سے ایک بڑی خلقت کو گمراہ کر ڈالا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے۔ ؟
  63. هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿63﴾

    یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔
  64. اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿64﴾

    آج اس میں داخل ہوجاؤ، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔
  65. اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿65﴾

    آج کے دن ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے، اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے، اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کمائی کیا کرتے تھے۔
  66. وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ﴿66﴾

    اور اگر ہم چاہیں تو (یہیں دنیا میں ان کی آنکھیں مل یا میٹ کردیں، پھر یہ راستے (کی تلاش) میں بھاگے پھریں، لیکن انہیں کہاں کچھ سجھائی دے گا۔ ؟
  67. وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ع﴿67﴾

    اور اگر ہم چاہیں تو ان کی اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ان کی صورتیں اس طرح مسخ کردیں کہ یہ نہ آگے بڑھ سکیں، اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔
  68. وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ﴿68﴾

    اور ہم جس شخص کو لمبی عمر دیتے ہیں اسے تخلیقی اعتبار سے الٹ ہی دیتے ہیں۔ کیا پھر بھی انہیں عقل نہیں آتی ؟
  69. وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ﴿69﴾

    اور ہم نے (اپنے) ان (پیغمبر) کو نہ شاعری سکھائی ہے، اور نہ وہ ان کے شایان شان ہے۔ یہ تو بس ایک نصیحت کی بات ہے، اور ایسا قرآن جو حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔
  70. لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ﴿70﴾

    تاکہ ہر اس شخص کو خبردار کرے جو زندہ ہو، اور تاکہ کفر کرنے والوں پر حجت پوری ہوجائے۔
  71. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ﴿71﴾

    اور کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، اور یہ ان کے مالک بنے ہوئے ہیں ؟
  72. وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ﴿72﴾

    اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کے قابو میں دے دیا ہے، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو ان کی سواری بنے ہوئے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جنہیں یہ کھاتے ہیں۔
  73. وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ﴿73﴾

    نیز ان کو ان مویشیوں سے اور بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں، اور پینے کی چیزیں ملتی ہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر نہیں بجا لائیں گے ؟
  74. وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ﴿74﴾

    اور انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اس امید پر دوسرے خدا بنا رکھے ہیں کہ انہیں (ان سے) مدد ملے۔
  75. لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ﴿75﴾

    (حالانکہ) ان میں یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ ان کی مدد کرسکیں، بلکہ وہ ان کے لیے ایک ایسا (مخالف) لشکر بنیں گے جسے (قیامت میں ان کے سامنے) حاضر کرلیا جائے گا۔
  76. فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿76﴾

    غرض (اے پیغمبر) ان کی باتیں تمہیں رنجیدہ نہ کریں۔ یقین جانو ہمیں سب معلوم ہے کہ یہ کیا کچھ چھپاتے، اور کیا کچھ ظاہر کرتے ہیں۔
  77. اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ﴿77﴾

    اور کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا تھا ؟ پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا بن گیا۔
  78. وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ﴿78﴾

    ہمارے بارے میں تو وہ باتیں بناتا ہے، اور خود اپنی پیدائش کو بھلا بیٹھا ہے، کہتا ہے کہ : ان ہڈیوں کو کون زندگی دے گا جبکہ وہ گل چکی ہوں گی ؟
  79. قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ﴿79﴾

    کہہ دو کہ : ان کو وہی زندگی دے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ پیدا کرنے کا ہر کام جانتا ہے۔
  80. اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ﴿80﴾

    وہی ہے جس نے تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی ہے۔ پھر تم ذرا سی دیر میں اس سے سلگانے کا کام لیتے ہو۔
  81. اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ﴿81﴾

    بھلا جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو (دوبارہ) پیدا کرسکے ؟ کیوں نہیں ؟ جبکہ وہ سب کچھ پیدا کرنے کی پوری مہارت رکھتا ہے۔
  82. اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿82﴾

    اس کا معاملہ تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرلے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ : ہوجا۔ بس وہ ہوجاتی ہے۔
  83. فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ع﴿83﴾

    غرض پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرف تم سب کو آخر کار لے جایا جائے گا۔