Anwar-ul-Bayan - Al-Maaida : 6
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : وہ جو ایمان لائے (ایمان والے) اِذَا : جب قُمْتُمْ : تم اٹھو اِلَى الصَّلٰوةِ : نماز کے لیے فَاغْسِلُوْا : تو دھو لو وُجُوْهَكُمْ : اپنے منہ وَاَيْدِيَكُمْ : اور اپنے ہاتھ اِلَى : تک الْمَرَافِقِ : کہنیاں وَامْسَحُوْا : اور مسح کرو بِرُءُوْسِكُمْ : اپنے سروں کا وَاَرْجُلَكُمْ : اور اپنے پاؤں اِلَى : تک الْكَعْبَيْنِ : ٹخنوں وَاِنْ : اور اگر كُنْتُمْ : تم ہو جُنُبًا : ناپاک فَاطَّهَّرُوْا : تو خوب پاک ہوجاؤ وَاِنْ : اور اگر كُنْتُمْ : تم ہو مَّرْضٰٓى : بیمار اَوْ : یا عَلٰي : پر (میں) سَفَرٍ : سفر اَوْ : اور جَآءَ : آئے اَحَدٌ : کوئی مِّنْكُمْ : تم میں سے مِّنَ الْغَآئِطِ : بیت الخلا سے اَوْ لٰمَسْتُمُ : یا تم ملو (صحبت کی) النِّسَآءَ : عورتوں سے فَلَمْ تَجِدُوْا : پھر نہ پاؤ مَآءً : پانی فَتَيَمَّمُوْا : تو تیمم کرلو صَعِيْدًا : مٹی طَيِّبًا : پاک فَامْسَحُوْا : تو مسح کرو بِوُجُوْهِكُمْ : اپنے منہ وَاَيْدِيْكُمْ : اور اپنے ہاتھ مِّنْهُ : اس سے مَا يُرِيْدُ : نہیں چاہتا اللّٰهُ : اللہ لِيَجْعَلَ : کہ کرے عَلَيْكُمْ : تم پر مِّنْ : کوئی حَرَجٍ : تنگی وَّلٰكِنْ : اور لیکن يُّرِيْدُ : چاہتا ہے لِيُطَهِّرَكُمْ : کہ تمہیں پاک کرے وَلِيُتِمَّ : اور یہ کہ پوری کرے نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت عَلَيْكُمْ : تم پر لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم تَشْكُرُوْنَ : احسان مانو
اے ایمان والو ! جب تم نماز کی طرف اٹھو تو اپنے مونہوں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرلو اور دھو لو اپنے پیروں کو ٹخنوں تک اور اگر حالت جنابت میں ہو تو اچھی طرح سے پاک ہوجاؤ، اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو پھر تم پانی کو نہ پاؤ تو ارادہ کرلو پاک پٹی کا سو اس سے اپنے چہروں کا اور اپنے ہاتھوں کا مسح کرلو۔ اللہ ارادہ نہیں فرماتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے لیکن وہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تاکہ تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر کرو۔
وضو اور غسل کا حکم اور تیمم کی مشروعیت ان آیات میں وضو کا حکم اور اس کا طریقہ بیان فرمایا ہے، اول تو وضو کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے جہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور سروں کا مسح کرلو اور پاؤں کے ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اِذا قُمْتُمْ کا مطلب چونکہ عام طور پر بیٹھے ہوئے اور کام کاج میں لگے ہوئے باوضو نہیں رہتے اس لئے یہ فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو منہ اور ہاتھ اور پاؤں دھونے اور سر کا مسح کرنے کا عمل کرلیا کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے سے وضو ہو تب بھی وضو کرو۔ غالب احوال کے پیش نظریوں فرمایا کہ جب نماز کی طرف کھڑے ہو تو یہ عمل کرو، رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقعہ پر ایک وضو سے چار نمازیں پڑھی تھیں۔ حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے جب نیند سے اٹھ کر نماز کے لئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو کیونکہ اس وقت تو بالیقین بےوضو ہی ہوتے ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس خطاب کا مطلب یہ ہے کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو اگر پہلے سے وضو ہے تب بھی وضو کرلینا افضل ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشا فرمایا کہ جس نے وضو پر وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی ) فقہاء نے لکھا ہے کہ جب پہلے وضو سے کوئی نماز پڑھ لے گا یا ایسا کوئی عمل کرے گا جو بلا وضو جائز نہیں تب یہ فضیلت حاصل ہوگی، یہ مطلب نہیں ہے کہ وضو پر وضو کرتا رہے اور ان اعمال میں سے کوئی عمل نہ کرے جو باوضو ادا کئے جاتے ہیں۔ وضو کا طریقہ آیت شریفہ میں وضو کا طریقہ بتائے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اپنے چہروں کو دھولو، چہرہ کی لمبائی پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک ہے اور چوڑائی ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک ہے اگر داڑھی ہلکی ہو تو اس کے نیچے پانی پہنچانا کھال کا دھونا ضروری ہے اور اگر گھنی ڈاڑھی ہو جس میں اندر کی کھال نظر نہ آرہی ہو تو ڈاڑھی کا اوپر سے دھو دینا کافی ہے۔ بہت سے لوگ ایسا وضو کرتے ہیں کہ کانوں اور رخساروں کے درمیان جگہ سوکھی رہ جاتی ہے ان لوگوں کا وضو نہیں ہوتا۔ بے وضو ہونے کو حدث اصغر اور غسل فرض ہونے کو حدث اکبر کہا جاتا ہے دونوں حالتوں میں نماز پڑھنا ممنوع ہے اگر کوئی شخص حدث اکبر یا حدث اصغر کی حالت ہوتے ہوئے نماز پڑھ لے گا تو اس کی نماز نہ ہوگی دوبارہ پڑھنا لازمی ہوگا۔ ساری امت کا اس پر اجماع ہے۔ خوب احتیاط کے ساتھ اعضاء وضو پر ہر جگہ پانی پہنچانے کا فکر کرنا لازم ہے۔ چہرہ کی حد تو اوپر بیان ہوئی اور ہاتھوں کو انگلیوں سے لیکر کہنیوں سمیت اور پاؤں کو انگلیوں سے لے کر ٹخنوں سمیت دھونا فرض ہے۔ ذرا سی جگہ بھی پانی پہنچے بغیر رہ جائے گی تو وضو نہ ہوگا۔ پورے سر کا مسح کرنا سنت ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ عموماً پورے سر کا مسح فرماتے تھے، حدیث شریف میں ہے۔ فاقبل بھما وادبر، بدء بمقدم رأسہ حتی ذھب بھما الی قفاہ ثم ردَّ ھما حتی رجع الی المکان الذی بدأمنہ ثم غسل رجلیہ (رواہ البخاری ص 31 جلد نمبر 1) اور بعض مرتبہ آپ نے صرف اپنی پیشانی پر یعنی سر کے سامنے کے حصہ پر مسح فرمایا (کما رواہ مسلم عن المغیر ۃ بن شعبہ ؓ اسی لئے حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ پورے سر کا مسح کرنا سنت ہے اور چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ قرآن مجید میں جن چار چیزوں کا ذکر ہے (1) یعنی چہرہ دھونا (2) ہاتھوں کو دھونا (3) سر کا مسح کرنا (4) پاؤں کو دھونا۔ وضو میں یہ چار چیزیں فرض ہیں۔ سر کا مسح ایک ہی مرتبہ کرنا مسنون ہے البتہ چہرہ کا اور ہاتھوں کا پاؤں کا تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے اور ایک مرتبہ دھونے سے فرض ادا ہوجاتا ہے۔ دھونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر جگہ پانی پہنچ جائے۔ وضور کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا، تین بار کلی کرنا، مسواک کرنا، تین بار ناک میں نرم جگہ تک پانی پہنچانا جس کو استنشاق کہتے ہیں اور تین بار ناک کو جھاڑنا اور انگلیوں کا خلال کرنا اور ہاتھ اور پاؤں دھونے میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا اور ڈاڑھی کا خلال کرنا مسنون ہے۔ کانوں کا مسح کرنا بھی سنت ہے کانوں کے اندر اور باہر کا مسح کرنا اور کنپٹیوں پر ہاتھ پھیرنا اور کانوں میں مسح کرتے وقت انگلیاں داخل کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے۔ فائدہ : جب سو کر اٹھے تو بغیر دھوئے پانی میں ہاتھ نہ ڈالے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو جب تک اپنا ہاتھ تین بار نہ دھو لے اسے پانی میں نہ گھسائے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ (رواہ البخاری و مسلم ) فائدہ : استنشاق کے ساتھ استنشار (یعنی ناک جھاڑنے کا) بھی اہتمام کرنا چاہئے خاص کر جب سو کر اٹھے تو اس کا اہتمام زیادہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنی ناک جھاڑ لے کیونکہ شیطان رات کو اس کے ناک کے بانسے میں رہتا ہے۔ (رواہ البخاری و مسلم) فائدہ : وضو میں خوب اچھی طرح پانی پہنچائے چیڑا چیڑی نہ کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ معظمہ سے واپس ہوئے۔ چلتے چلتے عصر کی نماز کا وقت ہوگیا راستہ میں ایک جگہ پانی ملا۔ تو کچھ لوگ جلدی سے آگے بڑھ گئے اور جلدی جلدی وضو کرلیا ہم جب ان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑھیاں ظاہر ہو رہی ہیں جن کو پانی نہ پہنچا آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ ایڑھیوں کے لئے ہلاکت ہے جو دوزخ کی آگ کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ اچھی طرح پانی پہنچا یا کرو۔ (رواہ مسلم ص 135 واختصرہ البخاری ج 1 ص 28) وضو میں پانی خوب اچھی طرح پہنچائے لیکن اسراف کرنا اور ضرورت سے زیادہ بہانا جائز نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سعد ؓ پر گزر ہوا وہ وضو کر رہے تھے آپ نے فرمایا یہ کیا اسراف (فضول خرچی) ہے انہوں نے عرض کیا، کیا وضو میں بھی اسراف ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وضو میں بھی اسراف ہے اگرچہ تم جاری نہر پر ہو۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ کمافی المشکوۃ ج 1 ص 47) امت محمدیہ کی امتیازی شان وضو پہلی امتوں میں بھی تھا اور اس امت میں بھی ہے لیکن ایک بات میں امت محمدیہ علی صاجہا الصلوٰۃ والسلام کو امتیازی شان حاصل ہے اور وہ یہ کہ قیامت کے دن وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں روشن ہو نگے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا وہ شخص ہوں جسے قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں سب سے پہلا وہ شخص ہوں جسے (سجدہ سے) سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی۔ سر اٹھا کر میں اپنے آگے دیکھوں گا تو ساری امتوں کے درمیان سے اپنی امت کو پہچان لوں گا اور پیچھے دیکھوں گا تب بھی اسی طرح پہچان لوں گا۔ اور داہنی طرف دیکھوں گا تب بھی اسی طرح پہچانوں گا اور بائیں طرف دیکھوں گا تب بھی اسی طرح پہچان لوں گا۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تمام امتوں کے درمیان سے اپنی امت کو کیسے پہچان لیں گے۔ جبکہ نوح (علیہ السلام) کی امت سے لیکر آپ کی امت تک سب امتیں موجود ہونگی۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگوں کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثر سے روشن ہوں گے۔ اور انکے علاوہ کسی کو بھی یہ بات حاصل نہ ہوگی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص 40) غسل جنابت کا حکم اور اس کا طریقہ وضوکا طریقہ بیان فرمانے کے بعد غسل کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا (وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا) (اور اگر تم جنبی ہو تو خوب اچھی طرح سے پاکی اختیار کرو) جس مرد یا عورت پر غسل فرض ہوجائے (خواہ میاں بیوی کے ملاپ سے خواہ احتلام ہوجانے سے خواہ کسی طرح شہوت کے ساتھ منی خارج ہونے سے) اس پر فرض ہے کہ سر سے پاؤں تک پورے بدن پر ایک بار پانی پہنچائے۔ چونکہ فاطَّھَّرُوْا مبالغہ پر دلالت کرتا ہے اس لئے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ غسل فرضی میں مضمضہ یعنی ایک بار کلی کرنا بھی فرض ہے جب کلی کرلے تو پورے منہ میں خوب پانی بھر کر حلق تک پہنچائے نیز غسل فرضی میں استنشاق بھی فرض ہے یعنی ناک میں جہاں تک نرم جگہ ہے وہاں تک کم از کم ایک بار پانی پہنچائے، جب غسل کرنے لگے تو پہلے چھوٹا بڑا استنجاء کرے اور بڑا استنجاء خوب کھل کر کرے تاکہ جہاں تک پانی پہنچ سکے وہاں تک پہنچ جائے اس کے بعد نجاست کو دور کرے جو بدن پر لگی ہوئی ہے اس کے بعد وضو کرے جیسا کہ وضو کا مسنون طریقہ ہے اور مضمضہ و استنشاق میں مبالغہ کرے اگر روزہ نہ ہو پھر تین بار سارے بدن پر پانی پہنچائے غسل فرض میں ایک بارہر جگہ پانی پہنچانا فرض ہے اور تین بار سنت ہے۔ (غیر فرض غسل کرے تو اس میں بھی تین بار پانی بہانا سنت ہے) ناف میں بغلوں اور جس جگہ بغیر دھیان کئے پانی نہ پہنچنے کا اندیشہ ہو وہاں خوب دھیان سے پانی پہنچائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ لہذا بالوں کو دھوؤ اور جس جگہ پر بال نہیں ہیں اس کو صاف کرو۔ (یعنی اچھی طرح پانی پہنچاؤ تاکہ میل کچیل بھی دور ہوجائے) ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤ) حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ غسل جنابت میں جس نے ایک بال کے برابر بھی جگہ چھوڑ دی تو اسے دوزخ میں ایسا ایسا عذاب دیا جائے گا۔ حضرت علی ؓ اس ڈر سے سر پر بال ہی نہیں رکھتے تھے ایسا نہ ہو کہ غسل فرض میں کسی جگہ پانی پہنچنے سے رہ جائے اور جنابت دور نہ ہو، حدیث بالا بیان فرما کر انہوں نے تین بار فرمایا کہ میں نے اسی لیے اپنے سر سے دشمنی کر رکھی ہے (بال بڑھنے نہیں دیتا منڈاتا رہتا ہوں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 48) مسئلہ : غسل فرض ہونے کے لیے میاں بیوی کے ملاپ میں یہ ضروری نہیں ہے کہ منی خارج ہو صرف حشفہ (یعنی سپاری) غائب ہونے سے مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہوجاتا ہے۔ البتہ احتلام ہونے کی صورت میں منی خارج ہونے سے غسل فرض ہوجاتا ہے۔ فائدہ : جس طرح جنابت کی وجہ سے غسل فرض ہوجاتا ہے اسی طرح حیض اور نفاس کے ختم ہونے سے بھی غسل فرض ہوجاتا ہے اور اس غسل کا طریقہ بھی وہی ہے جو اوپر غسل جنابت میں بیان ہوا ہے۔ تیمم کا بیان غسل جنابت کا حکم دینے اور اجمالاً اس کا طریقہ بتانے کے بعد تیمم کی اجازت ذکر فرمائی اور ارشاد فرمایا (وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضآی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ ) (آخر تک) اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا آئے تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ سے یا تم نے عورتوں سے قرب کی اور پھر تم پانی نہ پاؤ تو ارادہ کرلو پاک مٹی کا سو اس سے اپنے چہروں کا اور اپنے ہاتھوں کا مسح کرلو۔ تیمم کا طریقہ اور اس کے ضروری مسائل آیت سورة نساء (یٰٓاَیُّھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃ) (ع 7) کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں اس کی مراجعت کرلی جائے۔ پھر فرمایا (مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اللہ ارادہ نہیں فرماتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے لیکن وہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو جو تم پر ہے) ۔ اوپر جو وضو اور غسل کا حکم ہوا اور پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کی جو اجازت مذکور ہوئی اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر حدث اصغر ہوجانے پر وضو اور حدث اکبر ہوجانے پر غسل فرض فرمایا اس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں کہ تمہیں تنگی میں ڈالے لیکن اس کا ارادہ یہ ہے تمہیں پاک کرے۔ لِیُطَھِّرَکُمْ سے دونوں قسم کی طہارت مراد لی جاسکتی ہے۔ طہارت ظاہری بھی اور طہارت باطنی بھی۔ طہارت ظاہری یہ ہے کہ نجاست حکمیہ (حدیث اکبر وحدث اصغر) دور ہوجائے اور طہارت باطنی یہ ہے کہ گناہ معاف ہوجائیں۔ وضو اور تیمم حکم تطہیر میں برابر ہیں اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہے کہ پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کو بھی وضو اور غسل کے قائم مقام قرار دے دیا۔ نجاست حکمیہ جیسے وضو اور غسل سے دور ہوجاتی ہے تیمم سے بھی دور ہوجاتی ہے اور جو کام پانی سے وضو غسل کرنے والے کے لئے جائز ہوجاتے ہیں (مثلاً نماز پڑھنا، طواف کرنا، قرآن مجید کا چھونا) تیمم کے ذریعہ بھی جائز ہوجاتے ہیں جب تک پانی نہ ملے اور کوئی ناقض وضو اور موجب غسل پیش نہ آجائے تیمم سے وہ سب کام جائز رہتے ہیں جو وضو اور غسل کرنے سے جائز ہوتے ہیں جب تیمم کرلیا تو اس سے جتنی چاہے فرض نفل نمازیں پڑھنے کا اختیار ہے پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہونا مستقل ایک نعمت ہے اور اللہ کی رحمت ہے۔ پھر جیسے نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں اسی طرح وضو کرنے سے بھی معاف ہوتے ہیں۔ حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے وضو کیا اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جائیں گے یہاں تک اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جائیں گے۔ (رواہ مسلم ج 1 ص 125) وضو غسل اور تیمم کا حکم فرمانے میں جہاں ظاہری اور باطنی طہارت کا فائدہ ہے وہاں اتمام نعمت کا فائدہ بھی ہے۔ اللہ جل شانہ، نے نماز وضو غسل اور تیمم کا حکم دے کر اپنی نعمت کامل فرما دی۔ یہ نعمت عزیمت کو بھی شامل ہے اور خصت کو بھی جب اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت پوری فرما دی شکر لازم ہوا اس لئے اخیر میں (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) فرمایا۔
Top