بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Haqqani - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
(منکرو ! ) خدا کا حکم آگیا (عذاب) سو تم اس کی جلدی نہ کرو۔ وہ پاک اور بری ہے ان کے شریک ٹھہرانے سے
ترکیب : اتی صیغہ ماضی مگر معنی میں مستقبل کے ہے۔ ہ ضمیر امراللّٰہ کی طرف راجع ہے بالروح ای بالوحی موضع نصب میں حال ہو کر ملائکہ سے ای و معہ الروح من امرہ روح سے حال ہے۔ ان انذرو بمعنی ای لان الوحی یدل علی القول فیفسربان۔ انہ الخ جملہ محل نصب میں ہے مفعول انذروا ہوکر۔ تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن، عکرمہ، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابی قتادہ کا بھی یہی قول ہے اس کی ایک سو اٹھائیس آیتیں ہیں رسول خدا ﷺ مشرکین عرب کو خدا کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے کہ وہ دنیا میں بھی عنقریب آنے والا ہے۔ منکرین کہتے تھے کہ ابھی تو نہیں آیا اگر تو سچا ہے تو جلد بھیج۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے ؟ اس لیے اس سورة میں سب سے اول ان کی اس دلیری اور جلدبازی کا جواب آیا کہ امر اللہ یعنی عذاب الٰہی عالم غیب میں تم پر مقرر ہوچکا اور تم پر آچکا گو ظہور اس کا کسی حکمت و رحمت سے وقت معین پر ہوگا پھر کس لیے جلدی کر رہے ہو۔ فصحاء بلغاء قطعی ہونے والی اور قریب تر ہونے والی بات کو ماضی کے لفظوں سے تعبیر کیا کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ اچھا دنیا میں یا آخرت میں ہمارے ان افعال پر کوئی بلا بھی آئے تو کیا پروا ہے۔ فلاں بزرگ ‘ فلاں فرشتہ ‘ فلاں دیوتا جو خدا کے ہاں کار مختار ہے اور اس کے ساتھ قضاء وقدر میں شریک ہم ان کی مورتیں پوجتے ہیں، نذرونیاز کرتے ہیں وہ ہماری بلا کو دفع کردیں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکون کہ وہ جن کو تم اس کا شریک بناتے ہو ان سے بری ہے یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اس کے کام میں کوئی دخل نہیں دے سکتا اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں ناپسند ہیں تو ہم کو خدا فرشتے کے ذریعہ سے کیوں نہیں مطلع کردیتا۔ اے محمد ! تجھ میں کیا خصوصیت ہے جو تیرے پاس فرشتہ وحی لاتا ہے۔ اس کا جواب دیتا ہے ینزل الملائکۃ الخ کہ یہ اللہ کے اختیار کی بات ہے جس کو نبوت کے قابل دیکھتا ہے اس کے پاس فرشتوں کو وحی دے کر بھیج دیتا ہے کہ لوگوں کو مطلع کر دے کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں میری ہی عبادت کرو مجھی سے ڈرو۔ الملائکہ جمع کا صیغہ ہے مگر مراد اس سے ایک فرشتہ جبرئیل ہے یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے اور واحدی اس کی تائید کرتے ہیں کہ سردار اور رئیس کو محاورہ عرب میں بلفظ جمع تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے بہت سے نظائر موجود ہیں۔ بالروح روح سے مراد وحی اور قرآن ہے قرآن مجید میں اور کئی موقعوں میں قرآن و وحی پر یہ لفظ بولا گیا ہے قرآن کا روح ہونا : ازآنجملہ قولہ تعالیٰ و کذالک اوحینا الیک روحاً من امرنا وجہ اس کی یہ ہے کہ روح نورانی چیز کو کہتے ہیں جو حیات کا باعث ہو۔ جسم ایک کثیف اور ظلماتی چیز ہے۔ خدا تعالیٰ نے جب اس میں روح انسانی ڈالی تو نور کے آثار اس کے حواس خمسہ میں ظاہر ہوئے مگر اس میں بھی کسی قدر تیرگی تھی تو عقل کے ساتھ اس کو منور کیا لیکن عقل بمنزلہ آنکھ کے ہے اور آنکھ جب تک کہ آفتاب یا کوئی اور روشنی نہ ہو ہرگز نہیں دیکھ سکتی تو اس کی ظلمت کو آفتاب وحی والہام کے ساتھ دور کیا پس قرآن مجید ایک ایسا نور ہے کہ جس سے حیات ابدی قائم ہوتی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ قرآن اور وحی سے مستفید نہیں وہ نہ صرف اندھیرے میں گرفتار ہیں بلکہ حیات ابدی سے بھی محروم ہیں۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اگلی آیت میں بذریعہ وحی توحید پر بقولہ انہ لا الہ الخ اور تقویٰ پر بقولہ فاتقون مطلع فرمایا تھا جو باعتبار تکمیل قوت نظریہ و عملیہ کے سعادت دارین کے دو رکن تھے
Top