بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Maarif-ul-Quran - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
آغاز سورت بو عید و تہدید بر منکرین توحید قال اللہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ .... الیٰ .... لا الہ الا انا فاتقون۔ یہ سورت چونکہ زیادہ تر دلائل توحید پر مشتمل ہے جس سے مقصود مشرکین کا رد ہے اس لیے اس سورت کا آغاز وعید و تہدید سے کیا گیا تاکہ مشرکین متوجہ ہوجائیں اور غور سے دلائل توحید کو سنین۔ کیونکہ توحید ہی دین کی اصل بنیاد ہے۔ اور اسی پر انبیاء (علیہ السلام) کا اتفاق ہے اور انبیاء (علیہ السلام) نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید ہی کی دعوت دی ہے۔ آنحضرت ﷺ مشرکین عرب کو دنیوی اور اخروی عذاب سے ڈرایا کرتے تھے اس پر مشرکین یہ کہتے کہ وہ عذاب اور قیامت جس سے آپ ﷺ ہم کو ڈراتے رہتے ہیں۔ وہ کہاں ہے اور کب آئے گا۔ اور ان کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں (تفسیر کبیر ص 294 ج 5) چناچہ فرماتے ہیں اللہ کا حکم آچکا ہے کہ دنیا ہی میں کافروں کو سزا ملے گی اور کفر ذلیل و خوار ہوگا۔ اور اسلام سربلند ہوگا۔ اسلام کا غلبہ اور اس کی عزت اور کفر کی مغلوبی اور ذلت امر یقینی اور امرشدنی ہے اور ان منکرین کی سزا کا وقت قریب آگیا۔ سو اے منکرو ! تم اس کی طلب میں جلدی نہ کرو۔ تمہارا فائدہ تاخیر میں ہے تاکہ تم کو مہلت مل جائے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب موعود کا آنا یقینی ہے اس کا حکم آچکا ہے اپنے وقت پر آئے گا۔ اور جب آئے گا تو تم اس سے بچ نہیں سکو گے۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ عذاب کے آنے سے پہلے شرک سے توبہ کرلو۔ اللہ پاک برتر ہے اس چیز سے میں جس کو یہ خدا کے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ عذاب آنے پر تمہارے یہ شر کا، تمہاری کوئی شفاعت نہیں کرسکیں گے رہا یہ امر کہ اللہ نے تم کو براہ راست کفر اور شرک سے کیوں نہ منع کردیا۔ نبی اور رسول کے واسطے کی کیا ضرورت تھی سو اس کا یہ جواب ہے کہ اللہ اپنے حکم سے فرشتوں کو وحی اور پیغام دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے ہر کس و ناکس پر اللہ تعالیٰ کا فرشتہ اللہ کی وحی اور پیغام لے کر نازل نہیں ہوتا۔ اور وحی خدا وندی چونکہ حیات روحانی کا سبب ہے اس لیے وحی کو روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس طرح روح حیات اور زندگی کا ایک سبب ہے اسی طرح وحی بھی مومنوں کے دل کو زندہ کرتی ہے اس لیے وحی کو روح کہا گیا ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ لوگوں کو خبردار کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا صرف مجھ ہی سے ڈرو میرے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں مرا بندگی کن کہ دارا منم تو از بند گانی ومولیٰ منم اس آیت میں دو چیزوں کا حکم دیا گیا۔ ایک توحید کا اور ایک تقویٰ کا، توحید سے قوت نظریہ کی تکمیل ہوتی ہے اور تقویٰ سے قوت عملیہ کی تکمیل ہوتی ہے اور انہی دونوں کی تکمیل سے سعادت دارین حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد آئندہ آیات میں دلائل توحید کا ذکر فرماتے ہیں۔
Top