بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mazhar-ul-Quran - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
جب اللہ کا حکم پہنچا پس اس کی طلب میں جلدی نہ کرو، اللہ پاک اور بلند تر ہے اس سے کہ اس کا شریک مقرر کرتے ہیں
خواص سورة النحل : اگر کوئی دشمن کے خوف اور پریشانی میں ہو وہ ایک سو آٹھ مرتبہ اس سورة کو پڑھے تو تمام دشمنوں سے امن میں رہے گا اور دشمن پریشان ہوں گے۔ اس سورة کو جو کوئی شخص پڑھتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب قبر اور عذاب حشر سے دور رکھے گا۔ شرک کی ممانعت سورۃ نحل مکیہ کہلاوے گی کیونکہ شروع کی آیتیں مکی ہیں اس سورة کا نام نحل اس وجہ سے ہے کہ اس میں نحل کا ذکر ہے۔ نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ دوسرا نام اس سورة کا سورة نعم بھی ہے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈراتے تو وہ کہتے تھے کہ عذاب آتا کیوں نہیں اور یہ بھی کہتے اگر بالفرض عذاب آیا بھی تو وہ معبود جن کی ہم پرستش کرتے ہیں وہ ہم کو بچالیں گے اور بالفرض یہ بھی نہ سہی تو تم کو کیسے معلوم ہوگیا کہ ہم پر عذاب آنے والا ہے۔ ان تمام باتوں کا جواب اس آیت میں دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جلدی آنے والا ہے جلدی نہ کرو اور تم جن کی پرستش کرتے ہو وہ کو نہیں بچاسکتے۔ خدا کی خدائی میں کوئی بھی شریک نہیں اور اللہ اپنے اسرار پر جسے چاہتا ہے فرشتے بھیج کر مطلع کردیتا ہے۔
Top