Jawahir-ul-Quran - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور چل کھڑے ہوئے کئی نیچ ان میں سے7 کہ چلو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر   بیشک اس بات میں8 کوئی غرض ہے
7:۔ انطلق الخ :۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل وغیرہ صنادید قریش کا ایک وفد ابو طالب کے پاس آیا تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو ان کے معبودانِ باطلہ کی توہین روکین یعنی وہ ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ نہ کہا کرے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلا کر کہا کہ میرے بھتیجے یہ اشراف قریش اس مقصد کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں ان سے صرف ایک بات لینے کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر یہ اس کو مان لین تو سارا عرب ان کا مطیع ہوجائے ابو جہل فوراً بول اٹھا ایسی تو ہم دس باتیں بھی ماننے کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک بات یہ ہے لا الہ الا اللہ یہ سن کر بول اٹھے اجعل الالہۃ الہا واحدا، اور اٹھ کر چل دئیے اور آپس میں کہنے لگے چلو اور اپنے معبودوں کی عبادت پر قائم رہو۔ ان آیتوں میں اسی طرف اشارہ ہے (روح، قرطبی، خازن، معالم) ۔ 8:۔ ان ھذا الخ : یہ بھی کافروں ہی کا مقولہ ہے۔ اسے چھوڑو یہ تمہاری کوئی بات نہیں مانے گا۔ یہ ریاست اور بڑائی چیز ہی ایسی ہے جس کی ہر شخص کو تمنا ہے اور محمد ﷺ بھی اسی آرزو کی تکمیل کے لیے توحید وغیرہ کا نعرہ بلند کر رہا ہے ان ھذا الذی یدعیہ محمد من التوحید او الذی یقصد من الریاسۃ والترفع علی العرب والعجم لشیء یتمنی او یریدہ کل احد (مظہری ج 8 ص 156) ۔
Top