Tafseer-e-Baghwi - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے
6، والطلق الملاء منھم ان امشواواصبرواعلی آلھتکم ، قریش کے سروار ابو طالب کی مجلس سے اٹھ کر چل دیئے۔ بعض بعض کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ چلو اور اپنے معبودوں کے ساتھ جمع رہو۔ یعنی اپنے معبودوں پر چابت قدم رہو۔ ، ان ھذا لشیء براد، جب حضرت عمر ؓ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو ایک خاص قوت حاصل ہوگئی اس پر کافروں نے کہا، ان ھذالشیء براد ، بعض نے کہا کہ اس سے مراداہل الارض ہیں ۔
Top