Madarik-ut-Tanzil - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے
قریش کا ردعمل : 6: وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْھُمْ اَنِ امْشُوْا (ان کفار کے سردار یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ چلو) ابوطالب کی مجلس سے سردارانِ قریش یہ کہتے ہوئے چل دیئے اس کے بعد کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو لا جواب کردیا اور کھر اکھرا جواب دیا۔ وہ ایک دوسرے کو کہتے جارہے چلو۔ چلو۔ اَنؔ یہاں ای کے معنی میں ہے کیونکہ بات چیت کی مجلس سے جانے والے لازماً باہمی بات کریں گے اور محفل میں پیش آنے والے معاملہ کو دہرائیں گے۔ پس ان کا جانا اس قول کے معنی کو متضمن ہے۔ وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِھَتِکُمْ اِنَّ ھٰذَآ لَشَیْ ئٌ یُّرَادُ (اور اپنے معبودوں پر قائم رہویہ کوئی مطلب کی بات ہے) ۔ واصبروا سے مرادبتوں کی عبادت پر قائم رہنا۔ ھذا کا مشارٌ الیہ امراسلام ہے۔ لشیٔ یرادؔ یعنی جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ رکھتے ہوں اور اس کے ہوجانے کا فیصلہ کرتے ہوں پس اس کے لئے لوٹنا نہیں اس میں سوائے صبر کے اور کوئی چیز ہمیں کام نہ دے گی۔ یا یہ معاملہ حوادث زمانہ میں سے ہے جو ہم پر آن پڑا ہم اس سے الگ نہیں رہ سکتے۔
Top