Madarik-ut-Tanzil - An-Nahl : 55
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے) اَوْفُوْا : پورا کرو بِالْعُقُوْدِ : عہد۔ قول اُحِلَّتْ لَكُمْ : حلال کیے گئے تمہارے لیے بَهِيْمَةُ : چوپائے الْاَنْعَامِ : مویشی اِلَّا : سوائے مَا : جو يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : پڑھے جائینگے (سنائے جائینگے تمہیں غَيْرَ : مگر مُحِلِّي الصَّيْدِ : حلال جانے ہوئے شکار وَاَنْتُمْ : جبکہ تم حُرُمٌ : احرام میں ہو اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ يَحْكُمُ : حکم کرتا ہے مَا يُرِيْدُ : جو چاہے
تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائیگا۔
55: لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ (جس کا حاصل یہ ہے کہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ان کی ناشکری کرتے ہیں) ان سے عذاب ہٹا لینے والی نعمت کی۔ گویا کہ انہوں نے شرک کا مقصد کفر انِ نعمت بنا رکھا ہے۔ پھر ان کو ڈرایا اور فرمایا فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (پس تم فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تم جان لوگے) یہاں بھی غیبت سے خطاب کی طرف رجوع کیا تاکہ ان کو دھمکایا جائے۔
Top