Anwar-ul-Bayan - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجیے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے شیطان نے دکھ اور آزار پہنچایا ہے،
حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری اور دعا اور شفایابی کا تذکرہ ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء اور امتحان میں ان کے کامیاب ہونے کا ذکر ہے سورة الانبیاء رکوع نمبر 6 میں بھی ان کا یہ تذکرہ گزر چکا ہے قرآن مجید میں ان کے واقعہ کا اجمالی ذکر ہے تفصیلی حالات جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے صرف اتنا ثابت ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں گریں تو انہیں جمع کرنے لگے (جیسا کہ ہم عنقریب ہی پوری حدیث ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دکھ تکلیف کے تفصیلی حالات اور مدت ابتلاء اور دیگر امور سے متعلق بعض چیزیں حضرت ابن عباس ؓ سے اور بعض حضرت قتادہ (تابعی ؓ اور بعض حضرت حسن (تابعی ؓ سے منقول ہیں جنہیں حافظ جلال الدین سیوطی ؓ نے درمنثور میں لکھا ہے لیکن یہ چیزیں اسرائیلی روایات ہیں جن پر اعتماد کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ 1 ؂ قرآن مجید کی تصریحات سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں : (1) حضرت ایوب (علیہ السلام) سخت تکلیف میں مبتلا کیے گئے۔ 1 ؂ وأما النبی فلم یصح عنہ أنہٗ ذکرہ بحرف واحد الاقولہ بینا ایوب یغتسل اذخر علیہ رجلٌ من جراد من ذھب (الحدیث) واذ الم یصح عنہ فیہ قراٰن وسنۃ الا ما ذکرناہ فمن الذی یوصل السامع الی أیوب خبر لہ، ام علی أی لسان سمعہ ؟ والاسرائیلیات مرفوضۃ عند العلماء علی البینات، فاعرض عن سطورھا بصرک وأصمم علی سماعھا أذنیک فانھا لا تعطی فکرک الاخیالا، ولا تزید فؤادک الاخبالا۔ (القرطبی ص 210: ج 15) (لیکن حضور اکرم ﷺ سے کوئی روایت نہیں کہ آپ ﷺ نے ایک حرف بھی اس بارے میں فرمایا ہو مگر صرف اتنا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نہا رہے تھے تو ان پر ٹڈی کی ایک سونے کی ٹانگ آپڑی پس جب اس بارے میں نہ قرآن سے کوئی ثبوت ہے اور نہ صحیح حدیث سے تو پھر اس بات کی سند حضرت ایوب (علیہ السلام) تک کیسے پہنچ سکتی ہے یا کون ہے جس نے یہ بات حضرت ایوب (علیہ السلام) سے سنی ہو۔ اسرائیلی روایات علماء کے نزدیک دلائل کی محتاج ہیں لہٰذا تم اس قسم کے واقعات کو پڑھنے سے آنکھیں بند کرلو اور ان کے سننے سے کان بھی بند کرلو تو ان روایات سے بس ذہن میں خیال ہی آئیں گے اور دل میں واہیات باتیں پیدا ہوں گی۔ ) (2) شیطان نے انہیں تکلیف پہنچائی۔ (3) تکلیف جانی بھی تھی اور مالی بھی۔ (4) ان کے اہل و عیال بھی ختم کردئیے گئے تھے۔ (5) اس پر انہوں نے بہت صبر کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ (اِِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا) بیشک ہم نے ان کو صابر پایا (نِعْمَ الْعَبْدُ ) اچھے بندے تھے ایوب (اِِنَّہٗ اَوَّابٌ) بیشک بہت رجوع کرنے والے تھے۔ اسرائیلی روایات میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سات سال اور چند ماہ سخت تکلیف میں مبتلا رہے (فتح الباری میں 3 سال اور 13 سال اور 7 سال ذکر کیا ہے اور قول ثانی کو صحیح بتایا ہے (ج 6 ص 422) مال اور اہل و عیال کچھ بھی پاس نہ رہا تھا جبکہ پہلے طرح طرح کی نعمتوں سے مالا مال تھے صرف ان کی بیوی ان کے پاس رہ گئی تھی جو ان کی خدمت کرتی رہتی تھی اس وفادار بیوی کا نام رحمت تھا، انہوں نے جو دعاء کی تھی اس کے الفاظ سورة الانبیاء میں یوں ہیں (اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ) (بیشک مجھے تکلیف پہنچ گئی اور آپ ارحم الراحمین ہیں۔ ) اور سورة ص میں یوں ہے (اِِذْ نَادٰی رَبَّہٗ اَنِّی مَسَّنِی الشَّیْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ ) (کہ شیطان نے مجھے دکھ پہنچا دیا اور تکلیف پہنچا دی) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ نصب مشقت کے معنی میں آتا ہے اور زیادہ تر کام کاج کی وجہ سے جو تھکن ہوجائے اس کے لیے استعمال ہوتا ہے اور عذاب سے الم مراد ہے جسے سورة الانبیاء میں الضر سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور بعض حضرات کا یہ قول نقل کیا ہے کہ النصب اور الضر سے جسمانی تکلیف اور عذاب سے اہل اور مال ضائع ہونے کی تکلیف مراد ہے۔ جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعاء قبول فرمائی تو فرمایا (ارْکُضْ بِرِجْلِکَ ) کہ زمین میں اپنا پاؤں مارو، انہوں نے پاؤں مارا تو وہاں سے چشمہ جاری ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ) (یہ غسل کرنے کی چیز ہے جو ٹھنڈی ہے اور پینے کی چیز ہے) چناچہ انہوں نے غسل کیا اور پانی پیا جسم درست ہوگیا شفاء کامل حاصل ہوگئی ظاہری اور باطنی طور پر بالکل صحت اور عافیت اور سلامتی والی زندگی مل گئی۔ ان کے اہل و اولاد جو ادھر ادھر منتشر ہوگئے تھے، اللہ تعالیٰ نے واپس ان کے پاس پہنچا دئیے اور سب کو عیش و عشرت والی زندگی عطا فرما دی۔ پھر ان لوگوں سے آگے نسل چلی اور اتنی زیادہ نسل پھیلی پھولی کہ جس قدر ان کی پہلی نسل کے افراد تھے اسی قدر اللہ تعالیٰ نے مزید افراد پیدا فرما دئیے (وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہُ وَمِثْلَہُمْ مَعَہُمْ ) کا ایک مطلب یہی بیان کیا گیا ہے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ میرا میلان بھی اسی طرف ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی اولاد لقمہ اجل بن گئی تھی سب مرگئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ اتنی ہی اولاد دے دی اور اس کے علاوہ مزید اتنی ہی اولاد اور دے دی سنن ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو جس دن تکلیف پہنچی وہ بدھ کا دن تھا اور جس دن انہیں عافیت ملی وہ منگل کا دن تھا (باب فی أی الایام یحتجم) (رَحْمَۃً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ) یہ ہماری طرف سے رحمت خاصہ کے طور پر تھا اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار تھی (تاکہ اہل عقل یہ سمجھیں اور یاد رکھیں کہ صابرین کو اللہ تعالیٰ کیسی اچھی اچھی جزا عطاء فرماتا ہے) (وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا) (الآیۃ) حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنی بیماری کے زمانہ میں اپنی بیوی سے ناراض ہوگئے تھے۔ ناراضگی کا کیا سبب تھا اس کے بارے میں تفسیر کی کتابوں میں کئی باتیں لکھی ہوئی ہیں اور ہیں سب اسرائیلی روایات۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ شیطان معالج کی صورت بنائے ہوئے جا رہا تھا ان کی بیوی نے اس سے کہا کہ میرے شوہر کا علاج کردے، شیطان نے کہا کہ میں علاج تو کردوں گا مجھے کوئی فیس اور دواء کی قیمت کی ضرورت نہیں ہاں جب تیرا شوہر اچھا ہوجائے تو صرف اتنا کہہ دینا تو نے شفا دی، حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے اس کو مان لیا پھر ان سے تذکرہ کیا انہیں یہ بات ناگوار ہوئی اور فرمایا کہ تو نے شیطان سے یہ وعدہ کرلیا کہ اس کے بارے میں یوں کہہ دیا جائے کہ تو نے شفا دی ؟ میں اچھا ہوگیا تو تجھے سو قمچیاں ماروں گا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں شفا دے دی تو قسم پورا کرنے کا خیال آیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا لے لو اور اس کو ایک مرتبہ اپنی بیوی کے جسم پر مارو جب ایسا کرلو گے تو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی اور حانث ہونے سے بچ جاؤ گے چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا چونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خود ہی انہیں یہ عمل بتایا اور فرما دیا کہ تم قسم توڑنے والے نہ بنو اور اس عمل کو قسم پورا ہونے کی جگہ قبول فرما لیا اس لیے ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی شخص سو کوڑے یا سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور اکٹھی سو سینکیں مار کر قسم پوری کرنے والوں میں شمار ہوجائے اور قسم توڑنے کے گناہ سے بچ جائے جو چیزیں خاص ہوتی ہیں ان پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس سے قسم پورا کرنے کی ضرورت اور اہمیت معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کی قسم کے ٹوٹ جانے کو بالکل ہی معاف فرما دیتا لیکن بالکل معاف نہیں فرمایا کچھ نہ کچھ ایسا عمل کروا ہی دیا جس سے قسم پر پورا اترنے کی شرعی حیثیت باقی رہے اسی طرح کا ایک واقعہ سنن ابی داؤد شریف میں مذکور ہے جو حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو بہت ہی زیادہ ضعیف ہوچکا تھا وہ ایک باندی کے ساتھ زنا کر بیٹھا پھر اسے احساس ہوا تو انصار کے جو لوگ اس کی عیادت کرنے گئے انہیں صورت حال بتادی اور کہا کہ میرے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ طلب کرو ان حضرات نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے واقعہ پیش کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کردیا کہ وہ شخص اتنا زیادہ نحیف اور ضعیف ہے کہ ہڈیوں پر صرف کھال رہ گئی ہے اگر ہم اسے آپ کی خدمت میں لے کر آئیں تو اس کی ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائیں گی۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کھجور کی ایک ٹہنی کے سو اجزاء لے لو اور ایک ساتھ سب کو ایک مرتبہ مار دو ۔ (سنن ابی داؤد ج 2 : ص 258) اس سے بھی وہی بات سمجھ آرہی ہے کہ وہ شخص زنا کرنے کی وجہ سے سو کوڑوں کی سزا کا مستحق تھا لیکن موت کی سزا کا مستحق نہ تھا اب اسے سو کوڑے مارے جاتے تو مرجاتا اور جان سے مار دینا مقصود نہ تھا اور حد کو بالکل ہی ختم کردینا بھی شریعت کے مزاج کے خلاف تھا کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا (وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کے دین میں تمہیں رحم نہ پکڑے کہ تم زانی اور زانیہ پر رحم کھا جاؤ) لہٰذا حد کو معطل نہیں فرمایا بلکہ کچھ نہ کچھ سز دلوا ہی دی تاکہ امت ہوشیار اور بیدار رہے اور حد جاری کرنے میں کسی طرح کی ڈھیل کو برداشت نہ کرے۔ فائدہ : دعا کی قبولیت اور برکات یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کیا حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی سخت بیماری کے دنوں میں صحت و عافیت کے لیے دعا نہیں کی ! اور اگر کی تھی تو کیوں قبول نہ ہوئی، بات یہ ہے کہ بظاہر حضرت ایوب (علیہ السلام) دعا سے غافل تو نہ رہے ہوں گے لیکن اللہ جل شانہٗ کی قضا و قدر میں جب تک انہیں مبتلا رکھنا تھا اس قت تک ابتلاء باقی رہا اور دعا کا ثواب انہیں ملتا رہا اور آخرت میں درجات کی بلندی کے لیے یہ دعائیں ذخیرہ بنتی رہیں، مومن بندہ کی کوئی دعا ضائع نہیں جاتی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی مسلمان کوئی دعا کرتا ہے جو گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور تین چیزوں میں سے ایک عطاء فرما دیتا ہے۔ (1) جو دعا کی اس کے مطابق اس دنیا میں جلدی مقصد پورا کردیا جاتا ہے۔ (2) یا اس دعا کو اس کے لیے آخرت کا ذخیرہ بنا دیا جاتا ہے۔ (3) یا اس جیسی آنے والے مصیبت اس سے پھیر دی جاتی ہے (یعنی آنے سے رک جاتی ہے) صحابہ ؓ نے عرض کیا بس تو ہم پھر خوب زیادہ دعائیں کریں گے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ (بھی) بہت زیادہ دینے والا ہے۔ (رواہ احمد کما فی المشکوٰۃ ص 196) سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کے موافق ہوتا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دعا کرنا بھلا دیا تھا، گو اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کرتے تھے لیکن دعا نہ کرتے تھے اور چونکہ دکھ تکلیف کو اللہ کی رضا سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کی رغبت اسی میں تھی کہ تکلیف میں رہوں (بعض اسرائیلی روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) کی اہلیہ نے عافیت کی دعاء کرنے کی بات کہی تو فرمایا ہم ستر سال عیش و آرام میں رہے اب صبر کرو جب ستر سال تکلیف میں گزر جائیں گے اس کے بعد دعاء کریں گے۔ ) (روح المعانی ص 207: ج 23) پھر جب اللہ تعالیٰ کو ان کی تکلیف دور کرنا منظور ہوا، تو انہیں دعا کرنے کی توفیق دے دی اور انہیں دعا کرنا یاد آگیا جب دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دعاء قبول فرمالی اور مال و دولت آل و اولاد جو کچھ جاتا رہا تھا اس کا دو گنا عطا فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ (اِِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ اِِنَّہٗ اَوَّابٌ) (ذکرہ فی الدر المنثور ص 328: ج 4) بات یہ ہے کہ پورے عالم میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے موافق ہوتا ہے دعا بھی اسی وقت مقبول ہوتی ہے جب کامیابی کا وقت آجاتا ہے اور دوا بھی جب ہی اثر کرتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی رضا اور قدر میں شفا دینا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو پورا پورا اختیار ہے کہ جسے چاہے جتنا آرام دے اور جسے چاہے تکلیف کے ذریعہ آزمائے اور مومن بندوں کے لیے چونکہ تکلیف میں بھی خیر ہی خیر ہے (اس پر ثواب ملتا ہے اور آخرت میں درجات بلند ہوتے ہیں) اس لیے ان کے لیے تکلیف میں مبتلا ہونا بھی خیر ہی خیر ہے کوئی شخص یوں نہ سمجھے کہ فلاں شخص دیکھنے میں تو اتنا نیک ہے پھر یہ اتنی بڑی تکلیف میں مبتلا ہوا ہے تو ضرور کسی بڑے گناہ میں مبتلا ہوا ہوگا۔ 1 ؂ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن جب مصیبت والوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و عافیت والے تمنا کریں گے کہ کاش ہماری کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ ص 137) حضرت ابن عباس ؓ نے جو یہ فرمایا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنے تکلیف کے دنوں میں دعا کو بھولے رہے اس کی تائید میں حضرت ابان بن عثمان ؓ کی ایک بات سنئیے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت عثمان ؓ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی بندہ روزانہ صبح و شام تین مرتبہ (بسم اللّٰہ الذی لایضرمع اسمہ شئ فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم) پڑھ لیا کرے تو اسے کوئی چیز بھی ضرر نہ پہنچا سکے گی حضرت ابان نے حدیث تو بیان کردی لیکن ان کے جسم پر ایک جگہ فالج کا اثر تھا جس شخص سے انہوں نے حدیث بیان کی وہ ان کی طرف (تعجب کی نظروں سے) دیکھنے لگا حضرت ابان نے اس کی نظروں کو بھانپ لیا اور فرمایا تم مجھے کیا دیکھ رہے ہو ؟ خوب سمجھ لو بلاشک وشبہ حدیث اسی طرح ہے جیسا کہ میں نے بیان کی لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے میں نے اس دعا کو نہیں پڑھا تھا (یعنی بھول گیا تھا) تاکہ اللہ اپنی تقدیر کے فیصلے کو نافذ فرما دے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابو داؤد کما فی المشکوٰۃ ص 209) تکمیل تذکرہ حضرت ایوب (علیہ السلام) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس درمیان میں کہ ایوب (علیہ السلام) (تنہائی میں) ننگے غسل کر رہے تھے ان کے اوپر سونے کی ٹڈیاں گرگئیں وہ انہیں اپنے کپڑوں میں سمیٹنے لگے اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی نہیں بنا 1 ؂ (قال العینی فی عمدۃ القاری ج 5: ص 282 فان قلت فلم لم یدع اول ما نزل بہ البلاء قلت لانہ علم امر اللّٰہ فیہ ولا تصرف للعبد مع ملاہ اواراد مضاعفۃ الثواب فلم یسال کشف البلاء) (حضرت علامہ عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں اگر تم کہو کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کے شروع ہی میں دعاء کیوں نہیں مانگی تو میں کہتا ہوں اس لیے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ اس آزمائش میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم میں بندہ کا کوئی تصرف نہیں ہے یا یہ کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے شروع ہی میں تکلیف دور ہونے کی دعاء نہیں مانگی۔ ) دیا تمہارے سامنے جو کچھ ہے اس کی ضرورت نہیں عرض کیا آپ کی عزت کی قسم آپ نے مجھے غنی بنا دیا ہے لیکن میں آپ کی برکت سے بےنیاز نہیں ہوں۔ فتح الباری 420 جلد 6 میں بحوالہ احمد وابن حبان حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی یعنی ان کا مرض دور فرما دیا تو ان پر سونے کی ٹڈیاں برسا دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹڈیوں کا برسنا مرض سے شفا یاب ہونے کے بعد کی بات ہے۔ فتح الباری میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) دکھ و تکلیف میں مبتلا ہوئے تو ہر شخص نے انہیں چھوڑ دیا البتہ ان کے دوستوں میں دو شخص ان کے پاس صبح و شام آنا جانا رکھتے تھے ایک دن ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ ضرور ایوب نے کوئی بڑا گناہ کیا ہے ایسی بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کی اس مصیبت کو ضرور دور فرما دیتا جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی اس نے ایوب (علیہ السلام) سے اس کا تذکرہ کردیا اس پر وہ رنجیدہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی پھر قضاء حاجت کے لیے چلے گئے اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو ایک چشمہ جاری ہوگیا جس میں انہوں نے غسل کیا اور بالکل صحیح اور تندرست ہوگئے اب جو ان کی بیوی آئی تو انہیں پہچان نہ سکی اور خود انہی سے دریافت کیا کہ یہاں جو مریض تھا وہ کہاں گیا ایسا تو نہیں کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی تندرستی دے دی اور ان کی بیوی پر بھی جوانی لوٹا دی یہاں تک کہ اس کے بعد ان سے 26 لڑکے پیدا ہوئے۔ فتح الباری میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دو کھلیان تھے (جن میں کھیتی کاٹنے کے بعد غلہ جمع کیا جاتا ہے) ایک کھلیان گیہوں کا دوسرا کھلیان جو کا تھا اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جس نے گیہوں والے کھلیان میں اتنا سونا برسایا کہ بہنے لگا اور جو کے کھلیان میں اتنی چاندی برسائی کہ وہ بھی بہہ پڑی۔ (فللّٰہ الحمد علی انعامہ)
Top