Tafseer-e-Majidi - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کو یاد کیجیے،40۔ جب کہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج وآزار پہنچایا ہے،41۔
40۔ ایوب (علیہ السلام) کا وطن علاقہ عوض میں تھا، جو فلسطین کا مشرقی حصہ حدود عرب سے متصل ہے۔ روایات یہود سے معلوم ہوتا کہ آپ نے 210 سال کی عمر پائی، اور آپ کا زمانہ فرزند ان یعقوب کے خروج (یعنی مصر سے بنی اسرائیل کی رہائی) تک کا عہد ہے۔ توریت میں آتا ہے۔ ” عوض کی سرزمین میں ایوب نامی ایک شخص تھا اور وہ شخص کامل اور صادق تھا، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا (ایوب 10۔ 10) پھر خداوند نے شیطان سے کہا کہ کیا تو نے میرے بندے ایوب کے حال پر غور کیا کہ زمین پر اس سا کوئی شخص نہیں ہے۔ وہ کامل اور صادق ہے، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا ہے (18) آپ حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ 41۔ (یعنی مجھے آلام دماغی وجسمانی میں مبتلا کردیا ہے) (آیت) ” انی ..... عذاب “۔ برائی کو بجائے حق تعالیٰ کے شیطان کی جانب منسوب کرنا یہ عین خاصان حق کے آداب میں داخل ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ غیر معصیت میں شیطان کا تسلط کاملین پر بھی ممکن ہے۔ انبیاء پر شیطان کا تسلط معصیت کے باب میں ممکن نہیں، باقی اور ہر باب میں ممکن ہے۔ (آیت) ” بنصب و عذاب “۔ نصب سے مراد عام دکھ اور تکلیف ہے اور عذاب سے مراد بیماری ہے۔ نصب ھو المشقۃ والتعب والعذاب الالم یرید مرضہ (کشاف)
Top