Mazhar-ul-Quran - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اورف 1، ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو ایذا دی اور تکلیف دینے کے لیے ہاتھ لگایا ہے
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں نبی ﷺ فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق حضرت ایوب کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کی سب اولاد مرگئی سارامال برباد ہوگیا خود ایسے بیمارے ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا، سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ رہا، تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لیے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن جب یہ کلمہ نکلا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوا ہے جو تیرایا اٹھارہ برس کی تکلیف میں بھی معاف نہیں ہوا، تو یہ کلمہ سن کر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے وہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کو خواب میں یہ حکم ہوا کہ زمین میں لات مارو، انہوں نے لات ماری تو زمین میں دوچشمے پیدا ہوگئے انہوں نے ایک چشمہ سے نہائے اور فورا اچھے ہوگئے اس واقعہ کا مفصل بیان سورة انبیاء کے رکوع چھ میں گذرچکا ہے وہاں ملاحظہ کرلیاجائے۔
Top