Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ
: اور آپ یاد کریں
عَبْدَنَآ
: ہمارا بندہ
اَيُّوْبَ ۘ
: ایوب
اِذْ نَادٰى
: جب اس نے پکارا
رَبَّهٗٓ
: اپنا رب
اَنِّىْ
: بیشک میں
مَسَّنِيَ
: مجھے پہنچایا
الشَّيْطٰنُ
: شیطان
بِنُصْبٍ
: ایذا
وَّعَذَابٍ
: اور دکھ
اور تذکرہ کریں آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا جب کہ پکارا اس نے اپنے پروردگار کو کہ بیشک پہنچائی ہے مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا۔
ربط آیات : حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔ (ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ایوب “۔ آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں آپ کا کچھ ذکر سورة الانبیاء میں بھی گزر چکا ہے آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے ، ایوب ، ابن عوس ، ابن عیس ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہ السلام) بعض فرماتے ہیں کہ آپ کی والدہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بیٹی یا پوتی تھیں ، اور بعض دوسرے اقوال کے مطابق آپ کی والدہ لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر بائیبل میں بھی ہے اور آپ کے نام پہ ” صحینہ ایوب بھی ملتا ہے آپ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نبی تھے اور دنیاوی اعتبار سے بھی اللہ نے خیر کثیر عطا فرمایا تھا روایات میں آتا ہے کہ آپ زمین کا ایک بہت بڑا خطہ کاشت کرواتے تھے جس میں پانچ سو ہل اور ایک ہزار بیل استعمال ہوتے تھے ، آپ کے پاس سات ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں تین ہزار سے زیادہ اونٹ ایک ہزار سے زیادہ بار برداری کے لیے گدھے ، خچر ، وغیرہ ہے اور پانچ سو سے زیادہ خدام تھے آپ عوض کی سرزمین میں سب سے زیادہ مالدار شخصیت تھے اللہ نے ساتھ بیٹے بھی عطا کیے تھے ۔ ایوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ان انعامات پر ہمیشہ اس کا شکر ادا کرتے رہتے تھے ایک موقعہ پر شیطان نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا کہ پروردگار تیرا بندہ ایوب (علیہ السلام) تیرا شکریہ اس لیے ادا کرتا ہے اور تیری عبادت و ریاضت میں اس لیے مشغول رہتا ہے کہ تو نے اسے وافر مال و دولت عطا کر رکھا ہے اگر تیرے یہ انعامات اس پر نہ ہوں تو اس کی حالت مختلف ہو شیطان کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) پر آزمائشیں ڈال دیں تاکہ شیطان دیکھ لے کہ مال کے چھن جانے اور سخت جسمانی بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود میرا بندہ مجھ سے دور نہیں ہوتا اور اس کی زبان ہر حالت میں میری حمد وثنا اور شکر سے تر رہتی ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آزمائش آئی کہ کسی آفت کی وجہ سے کھیت جل گئے ، فصلیں تباہ ہوگئیں ، مال مویشی ہلاک ہوگئے اور یہی نہیں بلکہ مکان کی چھت گری اور ساری اولاد بیک وقت موت کی آغوش میں چلی گئی ان حالات میں نوکر چاکر سب بھاگ گئے اور آپ کے پاس صرف اپنی بیوی رہ گئی جس نے پوری آزمائش کے دوران آپ کا ساتھ نہ چھوڑا ، وہ نہایت ہی پارسا اور وفادار خاتون تھیں ، جنہوں نے ہر حالت میں خاوند کی خدمت کا پورا پورا حق ادا کیا ، بائیبل کی روایت کے مطابق آپ کو ایسی شدید جلدی بیماری لاحق ہوئی کہ سر کی چوٹی سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم میں آبلے پڑگئے ، آپ کی وفاشعار بیوی بیماری کی اس حالت میں پوری پوری خدمت کرتی رہی مال تو پہلے ہی ضائع ہوچکا تھا گزر اوقات کے لیے اس بیچاری کو خود محنت مزدوری کرنا پڑتی اور اس طرح وہ اپنے اور خاوند کے لیے خوراک کا بندوبست کرتی جوں جوں ایوب (علیہ السلام) کی تکلیف بڑھتی گئی ، توں توں آپ کے قلب وروح میں خدا کی ذات پر یقین محکم ہوتا چلا گیا ، اور زبان پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے کلمات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اس موقعہ پر آپ کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ جب میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو کچھ پاس نہیں تھا اور جب قبر میں جاؤں گا تو وہاں بھی خالی ہاتھ ہوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے مال و دولت خود ہی دے کر واپس لے لیا ہے تو یہ اس کی طرف سے آزمائش ہے اور اسی کا نام بابرکت ہے ، غرضیکہ مال واولاد کے چھن جانے اور سخت جسمانی اذیت کے باوجود انہیں نے کبھی شکوہ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتے رہے ۔ (شیطان کا حملہ) مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں اٹھارہ سال گزر گئے مگر شیطان اپنے دعوئے کو سچا ثابت نہ کرسکا ، آخر اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو شرک میں ملوث کرکے ان کے اعمال کی بربادی کا انتظام کردیا جائے ، ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کہیں محنت مزدوری کرکے واپس آرہی تھی کہ راستے میں شیطان اسے ایک نیک سیرت حکیم کی صورت میں ملا اور بیمار خاوند کے علاج کی پیش کش کی مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کے بدلہ میں صرف یہ معاوضہ طلب کیا کہ جب ایوب (علیہ السلام) تندرست ہوجائیں تو صرف یہ کہہ دینا کہ اس کو فلاں شخص نے شفا دی ہے اور بعض مفسرین نے اس مطالبہ کا ذکر کیا کہ حارث (شیطان) کے نام کا کچھ نذرانہ دے دینا ۔ واپس آکر بیوی نے اس واقعہ کا ذکر حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کیا آپ سمجھ گئے کہ یہ شیطان کی کاروائی ہے جو ہمیں شرک میں ملوث کرنا چاہتا ہے چناچہ آپ نے اپنی بیوی کو سخت ڈانٹ پلائی کہ تم شیطان کے جھانسے میں آگئی ، اور ایسی بات کا ذکر مجھے سے کردیا تمہیں تو اس کی بات کو سننا بھ نہیں چاہئے ، تھا الغرض ! بیوی کے ساتھ اس ناراضگی کی بنا پر آپ نے قسم کھائی کہ میں تندرست ہوگیا تو تمہیں سو لاٹھیاں ماروں گا ، اس ذہنی پریشانی کے عالم میں ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کیا (آیت) ” اذ نادی ربہ “۔ جب کہ انہوں نے پکارا اپنے پروردگار کو اور عرض کیا (آیت) ” انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “۔ بیشک پہنچائی ہے مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذاء یعنی شیطان کی اس حرکت سے مجھے سخت دکھ ہوا ہے پہلے تو جسمانی تکلیف میں مبتلا تھے اب شیطان نے شرک پر آمادہ کرکے ذہنی اذیت میں بھی مبتلا کردیا ۔ (دریائے رحمت میں جوش) جب ایوب (علیہ السلام) نے نہایت عجزوانکساری کے ساتھ اپنی اس دوسری اذیت کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں جوش آگیا ، ایوب (علیہ السلام) آزمائش پورے اتر چکے تھے اب اللہ تعالیٰ ان کی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور کر کے انہیں اصلی حالت پر لانا چاہتا تھا چناچہ اس نے ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا (آیت) ” ارکض برجلک “ ۔ اپنے پاؤں سے زمین پر ٹھوکر مارو ، عرض کیا مولا کریم ! اس کا کیا فائدہ ہوگا ؟ فرمایا میری قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا نظارہ تو دیکھو جو نبی نے آپ نے زمین پر پاؤں مارا وہاں پر ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ھذا مغتسل بارد وشراب “۔ یہ نہانے کے لیے اور پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہے مطلب یہ ہے کہ اس پانی سے غسل بھی کرو اور اسے پی بھی لو آپ نے ایسا ہی کیا تو آپ کے جسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریاں فورا دور ہوگئیں اور پہلے کی طرح آپ بالکل تندرست اور جوان بن گئے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے پاؤں کی یہ ٹھوکر کوئی غیر معمولی ٹھوکر تھی ورنہ عام حالات میں کوئی ہزار دفعہ بھی زمین پر پاؤں مارے تو چشمہ جاری نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتا ہے اور کبھی قبض (سکڑنا) پاؤں سے ٹھوکر مارنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۔۔۔۔۔ تھا ، اللہ تعالیٰ نی اپنی قدرت سے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ کھول دیا اسی طرح جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو کسی چیز کو قبض کرلیتا ہے اور پھر وہ چیز کچھ اثر نہیں کرسکتی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تبدیلی (حالت) کے ذریعے آگ کے اثر کو روک دیا ، فتح خیبر کا واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کے بسط کی ایک مثال سے اس قلعے کا دروازہ اتنا وزنی تھا جس کو ایک بڑی جماعت بھی نہیں اکھاڑ سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت علی ؓ کی پشت میں اتنی کشادگی پیدا کی کہ انہوں نے تن تنہا دروازے کے نیچے اپنی پشت دیکر دروازے کو اکھاڑ پھینکا ایسی ہی بسط آب زم زم کے اجزاء کے وقت بھی ہوئی تھی ، جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ایڑی رگڑنے یا فرشتے کے پر مارنے سے وہاں زم زم کا چشمہ پھوٹ پڑا تھا ۔ بہرحال غسل کرنے اور پانی پینے سے ایوب (علیہ السلام) بالکل تندرست و توانا ہوگئے اتنے میں بیوی بھی کھانا وغیرہ لے کر آگئی ایوب (علیہ السلام) کو اپنے بستر پر نہ پایا تو پریشان ہوگئی آپ وہیں تندرست حالت میں موجود تھے ، آپ ہی سے پوچھنے لگی کہ یہاں اس بستر پر اللہ تعالیٰ کے نبی صاحب فرش تھے ان کے متعلق کچھ علم ہو تو بتائیں انہوں نے کہا کہ وہ تو میں ہی ہوں ، پھر غور سے دیکھا تو پہچان لیا ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ایوب (علیہ السلام) کو تندرستی واپس لوٹا دی بلکہ آسمان سے سونے کی ٹڈیاں بھی برسائی ، ایوب (علیہ السلام) نے ان کو کپڑے میں سمیٹنا شروع کردیا ، ادھر سے آواز آئی ایوب ! کیا تم قناعت نہیں کرتے ! عرض کیا پروردگار ! میں تیری رحمت کا ہر وقت محتاج ہوں لہذا ان سنہری ٹڈیوں کو جمع کر رہا ہوں ۔ (اہل ومال کی بحالی) پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کا ضائع شدہ اہل ومال بھی بحال فرما دیا (آیت) ” ووھبنا لہ اھلہ “ اور ہم نے بخش دے آپ کو آپ کے اہل ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فوت شدہ بیٹوں کو زندہ کردیا ، جب کہ دوسرے اصحاب فرماتے ہیں ، (آیت) ” ومثلھم معھم “۔ کے مصداق آپ نے انہیں ڈبل کردیا ، یعنی پہلے ساتھ بیٹے تھے اب چودہ ہوگئے تو جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو آپ کے اہل بھی بحال کردیے اور ان جیسے مزید بھی فرمایا (آیت) ” رحمۃ منہ “۔ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی (آیت) ” وذکری لاولی الالبائ “۔ اور اہل خرد کے لیے نصیحت اور یاد دہانی بھی ، اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی آزمائش ، جان ومال اور صحت کا نقصان ” رجوع الی اللہ پر استقامت صبروبرداشت یہ سب کچھ عقل و شعور رکھنے والے لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور عبرت ہے ۔ صاحب کشاف زمخشری (رح) اور محمد ابن ابی بکر عبدالقادر رازی (رح) لکھتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مناجات بھی پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہر کھوئی چیز بحال کردی اور مزید انعامات سے بھی نوازا۔ الھی قدعلمت انہ لم یخالف لسانی قلبی ولم یتبع قلبی بصری ولم یلھنی ماملکت یمینی ولم اکل الا ومعی یتیما ولم ابت شبعا ولا کا سب الا ومعی جائعا اور عریانا “۔ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ میری زبان کبھی میرے دل کے خلاف نہیں ہوئی (زبان اور دل ایک جیسے ہوتے ہیں جو بات دل میں ہوتی ہے وہی زبان پر آتی ہے) اور میرا دل کبھی نگاہ پر نہیں گیا (یعنی انسان کی نگاہ تو ہر اچھی بری چیز پر پڑتی ہے مگر میں نے دل کو اس کے پیچھے نہیں لگایا یعنی دل کی حفاظت کی ہے جو چیز میری ملکیت میں تھی اس نے کبھی مجھے (تیری یاد سے) غافل نہیں بنایا اور میں نے یتیم کے بغیر کبھی کھانا نہیں کھایا اور میں نے کبھی پیٹ بھر کر نہ کھایا ہے اور نہ کپڑا پہنا ہے ، جب کہ میرے قریب کوئی بھوکا یا ننگا ہو (مطلب یہ ہے کہ بھوکے کو کھلا کر کھایا ہے اور ننگے کو پہنا کر پہنا ہے) (بیوی کو سو کوڑوں کی سزا) اب جب کہ آپ کو تندرستی حاصل ہوگئی تو آپ کو اپنی وہ قسم بھی پوری کرنا تھی جس میں ایوب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو سو کوڑے ماروں گا آپ دیکھ رہے تھے کہ بیوی بڑی وفا شعار ہے اور اس نے اٹھارہ سال تک ان کی خدمت کی ہے مگر اپنی قسم بھی پوری کرنا چاہتے تھے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی آپ کی راہنمائی فرمائی اور کہا (آیت) ” وخذ بیدک ضغثا “ اپنے ہاتھ میں تنکوں یا شاخوں کا ایک گھٹا لیں (آیت) ” فاضرب بہ “ اور یہ ایک دفعہ بیوی کو مار دیں (آیت) ” ولا تحنث “ اور قسم میں جھوٹے نہ ہوں یعنی اس طرح آپ اپنی قسم پوری کرلیں چونکہ قسم سو کوڑے مارنے کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو تنکوں کا ایک جھاڑو وغیرہ دے کر ایک ہی دفعہ مار دیں گے تو یہ سو ضربات شمار ہو کر تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو قسم پوری کرنے کا حیلہ بتلا دیا ۔ اس آیت سے کئی مسائل متضرع ہوتے ہیں مثلا یہ کہ مذکورہ حیلہ سازی صرف ایوب (علیہ السلام) کے لیے تھی یا دوسرے لوگ بھی اس قسم کا حیلہ کرسکتے ہیں ، امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حیلہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لیے خاص تھا اور دوسرے لوگوں کے لیے روا نہیں البتہ امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دیر ائمہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کی تدبیر ہماری امت میں روا ہے تاہم کوئی ایسا حیلہ کرنا جائز نہیں ہوگا جس سے کوئی شرعی حکم باطل ہوتا ہو ، مثلا بعض لوگ اس قسم کی تدبیر کرتے ہیں کہ جب کسی مال پر ایک سال پورا ہونے کو آیا تو وہ مال اپنی بیوی کے نام ہبہ کردیا تاکہ اس پر زکوۃ نہ ادا کرنی پڑے ، پھر جب بیوی کی ملکیت میں سال ہونے کو آیا تو اس نے خاوند کو ہبہ کردیا یہ تو زکوۃ کی ادائیگی سے فرار ہے اور قطعا جائز نہیں ، اس طرح بعض سرمایہ داروں کے پاس قابل زکوۃ رقم موجود ہوتی ہے مگر وہ اس پر سال پورا ہونے سے پہلے اس سے کوئی کارخانہ یا کوئی دوسری جائیداد خرید لیتے ہیں تاکہ مال پر زکوۃ نہ ادا کرنی پڑے ، اس قسم کے حیلہ کی بھی شریعت اجازت نہیں دیتی ۔ البتہ گناہ اور کسی حرام چیز ہے بچنے کے لیے حیلہ سازی جائز ہے مثلا ردی کھجوروں کا اعلی کھجوروں کے ساتھ مقدار میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ سود شمار ہوتا ہے حضور ﷺ نے اس سود سے بچنے کے لیے یہ حیلہ خود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو سکھایا کہ اس قسم کے تبادلہ کا جائز طریقہ یہ ہے کہ پہلے ردی یا اعلی کھجوروں کو فروخت کر دو اور پھر اس سے حاصل ہونے والی قیمت کے عوض متبادل مال خرید لو ۔ یہاں پر یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیوی کو مارنا جائز ہے ؟ جیسا کہ ایوب (علیہ السلام) نے اپنی قسم پوری کی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہاں جائز ہے بشرطیکہ سزا تادیبا یعنی ادب سکھانے کے لیے ہو ، اس کا حکم سورة النساء میں بھی موجود ہے کہ عورتوں کی طرف سے سرکشی کی صورت میں پہلے ان کو زبانی سمجھاؤ پھر بستروں سے الگ کر دو ، اور اگر پھر بھی باز نہ آئیں ، (آیت) ” واضربوھن ‘۔ (آیت 34) تو ان کو زدوکوب کرو ، مگر ایسا نہیں کہ ہڈی پسلی ہی توڑ دو بلکہ محض ادب سکھانے کے لیے جیسا کہ بعض اوقات کسی کوتاہی پر بچوں کو بھی سزاد دی جاتی ہے ۔ امام ابوحنفیہ (رح) کے استاد حضرت عطا ابن ابی رباح (رح) مکہ میں رہائش پذیر تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی قسم اٹھالے کہ وہ اپنی بیوی کو اس وقت تک کپڑا نہیں پہنائے گا ، جب تک کہ وہ عرفات میں وقوف نہ کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے فرمایا ، اس کو سواری پر بٹھا کر عرفات میں لے جاؤ اور کپڑے پہنا دو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، وہ شخص کہنے لگا کہ اس وقوف سے مراد یوم عرفہ کا وقوف ہے فرمایا ضروری نہیں تم بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) والا حیلہ کرو جنہوں نے الگ الگ سو کوڑے مارنے کی بجائے سو تنکوں کا گٹھا ایک ہی دفعہ مار کر قسم پوری کرلی تھی ، فقہائے کرام اس مقام پر یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) کی حیلہ سازی خاص وجوہ کی بناء پر تھی آپ کی بیوی سوکوڑوں کی ہرگز سزاوار نہیں تھی کیونکہ وہ تو ایک صالحہ اور خاوند کی خدمت گار خاتون تھی مگر شیطان کی بات سننے کی ذرا سی کوتاہی پر ایوب (علیہ السلام) نے سو لاٹھیاں مارنے کی قسم اٹھالی مطلب یہ ہے کہ یہ حیلہ اس لیے کیا تھا کہ ایسی صابرہ وشاکرہ عورت کو زیادہ اذیت نہ پہنچائی جائے تاہم امام ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی حیلہ میں بھی شرط یہ ہے کہ گٹھے کے سارے تنکے یا چھڑیاں طولا یا عرضا جسم کے ساتھ لگنی چاہئیں اور مضروب کو کچھ نہ کچھ تکلیف بھی پہنچنی چاہئے ورنہ قسم پوری نہ ہوگی ۔ (صبر ایوب علیہ السلام) بہرحال حضرت ایوب (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انا وجدنہ صابرا “۔ ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو صبر کرنے والا پایا ، انہوں نے طویل عرصہ تک تکلیف اٹھائی ، مگر حرف شکایت زبان پر نہ لائے ان کی روح میں ہمیشہ یقین دل میں صبر اور زبان پر شکر ہی رہا فرمایا (آیت) ” نعم العبد “۔ وہ بہت ہی خوب بندہ تھا (آیت) ” انہ اواب “۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والا تھا اللہ تعالیٰ نے یہی صفات پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کی بیان فرمائیں سب کا تنگی اور آسائش میں خدا ہی کی طرف رجوع رہا ۔
Top