Mualim-ul-Irfan - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور تذکرہ کریں آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا جب کہ پکارا اس نے اپنے پروردگار کو کہ بیشک پہنچائی ہے مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا۔
ربط آیات : حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔ (ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ایوب “۔ آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں آپ کا کچھ ذکر سورة الانبیاء میں بھی گزر چکا ہے آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے ، ایوب ، ابن عوس ، ابن عیس ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہ السلام) بعض فرماتے ہیں کہ آپ کی والدہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بیٹی یا پوتی تھیں ، اور بعض دوسرے اقوال کے مطابق آپ کی والدہ لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر بائیبل میں بھی ہے اور آپ کے نام پہ ” صحینہ ایوب بھی ملتا ہے آپ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نبی تھے اور دنیاوی اعتبار سے بھی اللہ نے خیر کثیر عطا فرمایا تھا روایات میں آتا ہے کہ آپ زمین کا ایک بہت بڑا خطہ کاشت کرواتے تھے جس میں پانچ سو ہل اور ایک ہزار بیل استعمال ہوتے تھے ، آپ کے پاس سات ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں تین ہزار سے زیادہ اونٹ ایک ہزار سے زیادہ بار برداری کے لیے گدھے ، خچر ، وغیرہ ہے اور پانچ سو سے زیادہ خدام تھے آپ عوض کی سرزمین میں سب سے زیادہ مالدار شخصیت تھے اللہ نے ساتھ بیٹے بھی عطا کیے تھے ۔ ایوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ان انعامات پر ہمیشہ اس کا شکر ادا کرتے رہتے تھے ایک موقعہ پر شیطان نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا کہ پروردگار تیرا بندہ ایوب (علیہ السلام) تیرا شکریہ اس لیے ادا کرتا ہے اور تیری عبادت و ریاضت میں اس لیے مشغول رہتا ہے کہ تو نے اسے وافر مال و دولت عطا کر رکھا ہے اگر تیرے یہ انعامات اس پر نہ ہوں تو اس کی حالت مختلف ہو شیطان کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) پر آزمائشیں ڈال دیں تاکہ شیطان دیکھ لے کہ مال کے چھن جانے اور سخت جسمانی بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود میرا بندہ مجھ سے دور نہیں ہوتا اور اس کی زبان ہر حالت میں میری حمد وثنا اور شکر سے تر رہتی ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آزمائش آئی کہ کسی آفت کی وجہ سے کھیت جل گئے ، فصلیں تباہ ہوگئیں ، مال مویشی ہلاک ہوگئے اور یہی نہیں بلکہ مکان کی چھت گری اور ساری اولاد بیک وقت موت کی آغوش میں چلی گئی ان حالات میں نوکر چاکر سب بھاگ گئے اور آپ کے پاس صرف اپنی بیوی رہ گئی جس نے پوری آزمائش کے دوران آپ کا ساتھ نہ چھوڑا ، وہ نہایت ہی پارسا اور وفادار خاتون تھیں ، جنہوں نے ہر حالت میں خاوند کی خدمت کا پورا پورا حق ادا کیا ، بائیبل کی روایت کے مطابق آپ کو ایسی شدید جلدی بیماری لاحق ہوئی کہ سر کی چوٹی سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم میں آبلے پڑگئے ، آپ کی وفاشعار بیوی بیماری کی اس حالت میں پوری پوری خدمت کرتی رہی مال تو پہلے ہی ضائع ہوچکا تھا گزر اوقات کے لیے اس بیچاری کو خود محنت مزدوری کرنا پڑتی اور اس طرح وہ اپنے اور خاوند کے لیے خوراک کا بندوبست کرتی جوں جوں ایوب (علیہ السلام) کی تکلیف بڑھتی گئی ، توں توں آپ کے قلب وروح میں خدا کی ذات پر یقین محکم ہوتا چلا گیا ، اور زبان پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے کلمات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اس موقعہ پر آپ کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ جب میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو کچھ پاس نہیں تھا اور جب قبر میں جاؤں گا تو وہاں بھی خالی ہاتھ ہوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے مال و دولت خود ہی دے کر واپس لے لیا ہے تو یہ اس کی طرف سے آزمائش ہے اور اسی کا نام بابرکت ہے ، غرضیکہ مال واولاد کے چھن جانے اور سخت جسمانی اذیت کے باوجود انہیں نے کبھی شکوہ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتے رہے ۔ (شیطان کا حملہ) مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں اٹھارہ سال گزر گئے مگر شیطان اپنے دعوئے کو سچا ثابت نہ کرسکا ، آخر اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو شرک میں ملوث کرکے ان کے اعمال کی بربادی کا انتظام کردیا جائے ، ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کہیں محنت مزدوری کرکے واپس آرہی تھی کہ راستے میں شیطان اسے ایک نیک سیرت حکیم کی صورت میں ملا اور بیمار خاوند کے علاج کی پیش کش کی مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کے بدلہ میں صرف یہ معاوضہ طلب کیا کہ جب ایوب (علیہ السلام) تندرست ہوجائیں تو صرف یہ کہہ دینا کہ اس کو فلاں شخص نے شفا دی ہے اور بعض مفسرین نے اس مطالبہ کا ذکر کیا کہ حارث (شیطان) کے نام کا کچھ نذرانہ دے دینا ۔ واپس آکر بیوی نے اس واقعہ کا ذکر حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کیا آپ سمجھ گئے کہ یہ شیطان کی کاروائی ہے جو ہمیں شرک میں ملوث کرنا چاہتا ہے چناچہ آپ نے اپنی بیوی کو سخت ڈانٹ پلائی کہ تم شیطان کے جھانسے میں آگئی ، اور ایسی بات کا ذکر مجھے سے کردیا تمہیں تو اس کی بات کو سننا بھ نہیں چاہئے ، تھا الغرض ! بیوی کے ساتھ اس ناراضگی کی بنا پر آپ نے قسم کھائی کہ میں تندرست ہوگیا تو تمہیں سو لاٹھیاں ماروں گا ، اس ذہنی پریشانی کے عالم میں ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کیا (آیت) ” اذ نادی ربہ “۔ جب کہ انہوں نے پکارا اپنے پروردگار کو اور عرض کیا (آیت) ” انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “۔ بیشک پہنچائی ہے مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذاء یعنی شیطان کی اس حرکت سے مجھے سخت دکھ ہوا ہے پہلے تو جسمانی تکلیف میں مبتلا تھے اب شیطان نے شرک پر آمادہ کرکے ذہنی اذیت میں بھی مبتلا کردیا ۔ (دریائے رحمت میں جوش) جب ایوب (علیہ السلام) نے نہایت عجزوانکساری کے ساتھ اپنی اس دوسری اذیت کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں جوش آگیا ، ایوب (علیہ السلام) آزمائش پورے اتر چکے تھے اب اللہ تعالیٰ ان کی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور کر کے انہیں اصلی حالت پر لانا چاہتا تھا چناچہ اس نے ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا (آیت) ” ارکض برجلک “ ۔ اپنے پاؤں سے زمین پر ٹھوکر مارو ، عرض کیا مولا کریم ! اس کا کیا فائدہ ہوگا ؟ فرمایا میری قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا نظارہ تو دیکھو جو نبی نے آپ نے زمین پر پاؤں مارا وہاں پر ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ھذا مغتسل بارد وشراب “۔ یہ نہانے کے لیے اور پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہے مطلب یہ ہے کہ اس پانی سے غسل بھی کرو اور اسے پی بھی لو آپ نے ایسا ہی کیا تو آپ کے جسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریاں فورا دور ہوگئیں اور پہلے کی طرح آپ بالکل تندرست اور جوان بن گئے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے پاؤں کی یہ ٹھوکر کوئی غیر معمولی ٹھوکر تھی ورنہ عام حالات میں کوئی ہزار دفعہ بھی زمین پر پاؤں مارے تو چشمہ جاری نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتا ہے اور کبھی قبض (سکڑنا) پاؤں سے ٹھوکر مارنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۔۔۔۔۔ تھا ، اللہ تعالیٰ نی اپنی قدرت سے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ کھول دیا اسی طرح جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو کسی چیز کو قبض کرلیتا ہے اور پھر وہ چیز کچھ اثر نہیں کرسکتی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تبدیلی (حالت) کے ذریعے آگ کے اثر کو روک دیا ، فتح خیبر کا واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کے بسط کی ایک مثال سے اس قلعے کا دروازہ اتنا وزنی تھا جس کو ایک بڑی جماعت بھی نہیں اکھاڑ سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت علی ؓ کی پشت میں اتنی کشادگی پیدا کی کہ انہوں نے تن تنہا دروازے کے نیچے اپنی پشت دیکر دروازے کو اکھاڑ پھینکا ایسی ہی بسط آب زم زم کے اجزاء کے وقت بھی ہوئی تھی ، جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ایڑی رگڑنے یا فرشتے کے پر مارنے سے وہاں زم زم کا چشمہ پھوٹ پڑا تھا ۔ بہرحال غسل کرنے اور پانی پینے سے ایوب (علیہ السلام) بالکل تندرست و توانا ہوگئے اتنے میں بیوی بھی کھانا وغیرہ لے کر آگئی ایوب (علیہ السلام) کو اپنے بستر پر نہ پایا تو پریشان ہوگئی آپ وہیں تندرست حالت میں موجود تھے ، آپ ہی سے پوچھنے لگی کہ یہاں اس بستر پر اللہ تعالیٰ کے نبی صاحب فرش تھے ان کے متعلق کچھ علم ہو تو بتائیں انہوں نے کہا کہ وہ تو میں ہی ہوں ، پھر غور سے دیکھا تو پہچان لیا ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ایوب (علیہ السلام) کو تندرستی واپس لوٹا دی بلکہ آسمان سے سونے کی ٹڈیاں بھی برسائی ، ایوب (علیہ السلام) نے ان کو کپڑے میں سمیٹنا شروع کردیا ، ادھر سے آواز آئی ایوب ! کیا تم قناعت نہیں کرتے ! عرض کیا پروردگار ! میں تیری رحمت کا ہر وقت محتاج ہوں لہذا ان سنہری ٹڈیوں کو جمع کر رہا ہوں ۔ (اہل ومال کی بحالی) پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کا ضائع شدہ اہل ومال بھی بحال فرما دیا (آیت) ” ووھبنا لہ اھلہ “ اور ہم نے بخش دے آپ کو آپ کے اہل ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فوت شدہ بیٹوں کو زندہ کردیا ، جب کہ دوسرے اصحاب فرماتے ہیں ، (آیت) ” ومثلھم معھم “۔ کے مصداق آپ نے انہیں ڈبل کردیا ، یعنی پہلے ساتھ بیٹے تھے اب چودہ ہوگئے تو جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو آپ کے اہل بھی بحال کردیے اور ان جیسے مزید بھی فرمایا (آیت) ” رحمۃ منہ “۔ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی (آیت) ” وذکری لاولی الالبائ “۔ اور اہل خرد کے لیے نصیحت اور یاد دہانی بھی ، اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی آزمائش ، جان ومال اور صحت کا نقصان ” رجوع الی اللہ پر استقامت صبروبرداشت یہ سب کچھ عقل و شعور رکھنے والے لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور عبرت ہے ۔ صاحب کشاف زمخشری (رح) اور محمد ابن ابی بکر عبدالقادر رازی (رح) لکھتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مناجات بھی پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہر کھوئی چیز بحال کردی اور مزید انعامات سے بھی نوازا۔ الھی قدعلمت انہ لم یخالف لسانی قلبی ولم یتبع قلبی بصری ولم یلھنی ماملکت یمینی ولم اکل الا ومعی یتیما ولم ابت شبعا ولا کا سب الا ومعی جائعا اور عریانا “۔ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ میری زبان کبھی میرے دل کے خلاف نہیں ہوئی (زبان اور دل ایک جیسے ہوتے ہیں جو بات دل میں ہوتی ہے وہی زبان پر آتی ہے) اور میرا دل کبھی نگاہ پر نہیں گیا (یعنی انسان کی نگاہ تو ہر اچھی بری چیز پر پڑتی ہے مگر میں نے دل کو اس کے پیچھے نہیں لگایا یعنی دل کی حفاظت کی ہے جو چیز میری ملکیت میں تھی اس نے کبھی مجھے (تیری یاد سے) غافل نہیں بنایا اور میں نے یتیم کے بغیر کبھی کھانا نہیں کھایا اور میں نے کبھی پیٹ بھر کر نہ کھایا ہے اور نہ کپڑا پہنا ہے ، جب کہ میرے قریب کوئی بھوکا یا ننگا ہو (مطلب یہ ہے کہ بھوکے کو کھلا کر کھایا ہے اور ننگے کو پہنا کر پہنا ہے) (بیوی کو سو کوڑوں کی سزا) اب جب کہ آپ کو تندرستی حاصل ہوگئی تو آپ کو اپنی وہ قسم بھی پوری کرنا تھی جس میں ایوب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو سو کوڑے ماروں گا آپ دیکھ رہے تھے کہ بیوی بڑی وفا شعار ہے اور اس نے اٹھارہ سال تک ان کی خدمت کی ہے مگر اپنی قسم بھی پوری کرنا چاہتے تھے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی آپ کی راہنمائی فرمائی اور کہا (آیت) ” وخذ بیدک ضغثا “ اپنے ہاتھ میں تنکوں یا شاخوں کا ایک گھٹا لیں (آیت) ” فاضرب بہ “ اور یہ ایک دفعہ بیوی کو مار دیں (آیت) ” ولا تحنث “ اور قسم میں جھوٹے نہ ہوں یعنی اس طرح آپ اپنی قسم پوری کرلیں چونکہ قسم سو کوڑے مارنے کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو تنکوں کا ایک جھاڑو وغیرہ دے کر ایک ہی دفعہ مار دیں گے تو یہ سو ضربات شمار ہو کر تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو قسم پوری کرنے کا حیلہ بتلا دیا ۔ اس آیت سے کئی مسائل متضرع ہوتے ہیں مثلا یہ کہ مذکورہ حیلہ سازی صرف ایوب (علیہ السلام) کے لیے تھی یا دوسرے لوگ بھی اس قسم کا حیلہ کرسکتے ہیں ، امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حیلہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لیے خاص تھا اور دوسرے لوگوں کے لیے روا نہیں البتہ امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دیر ائمہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کی تدبیر ہماری امت میں روا ہے تاہم کوئی ایسا حیلہ کرنا جائز نہیں ہوگا جس سے کوئی شرعی حکم باطل ہوتا ہو ، مثلا بعض لوگ اس قسم کی تدبیر کرتے ہیں کہ جب کسی مال پر ایک سال پورا ہونے کو آیا تو وہ مال اپنی بیوی کے نام ہبہ کردیا تاکہ اس پر زکوۃ نہ ادا کرنی پڑے ، پھر جب بیوی کی ملکیت میں سال ہونے کو آیا تو اس نے خاوند کو ہبہ کردیا یہ تو زکوۃ کی ادائیگی سے فرار ہے اور قطعا جائز نہیں ، اس طرح بعض سرمایہ داروں کے پاس قابل زکوۃ رقم موجود ہوتی ہے مگر وہ اس پر سال پورا ہونے سے پہلے اس سے کوئی کارخانہ یا کوئی دوسری جائیداد خرید لیتے ہیں تاکہ مال پر زکوۃ نہ ادا کرنی پڑے ، اس قسم کے حیلہ کی بھی شریعت اجازت نہیں دیتی ۔ البتہ گناہ اور کسی حرام چیز ہے بچنے کے لیے حیلہ سازی جائز ہے مثلا ردی کھجوروں کا اعلی کھجوروں کے ساتھ مقدار میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ سود شمار ہوتا ہے حضور ﷺ نے اس سود سے بچنے کے لیے یہ حیلہ خود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو سکھایا کہ اس قسم کے تبادلہ کا جائز طریقہ یہ ہے کہ پہلے ردی یا اعلی کھجوروں کو فروخت کر دو اور پھر اس سے حاصل ہونے والی قیمت کے عوض متبادل مال خرید لو ۔ یہاں پر یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیوی کو مارنا جائز ہے ؟ جیسا کہ ایوب (علیہ السلام) نے اپنی قسم پوری کی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہاں جائز ہے بشرطیکہ سزا تادیبا یعنی ادب سکھانے کے لیے ہو ، اس کا حکم سورة النساء میں بھی موجود ہے کہ عورتوں کی طرف سے سرکشی کی صورت میں پہلے ان کو زبانی سمجھاؤ پھر بستروں سے الگ کر دو ، اور اگر پھر بھی باز نہ آئیں ، (آیت) ” واضربوھن ‘۔ (آیت 34) تو ان کو زدوکوب کرو ، مگر ایسا نہیں کہ ہڈی پسلی ہی توڑ دو بلکہ محض ادب سکھانے کے لیے جیسا کہ بعض اوقات کسی کوتاہی پر بچوں کو بھی سزاد دی جاتی ہے ۔ امام ابوحنفیہ (رح) کے استاد حضرت عطا ابن ابی رباح (رح) مکہ میں رہائش پذیر تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی قسم اٹھالے کہ وہ اپنی بیوی کو اس وقت تک کپڑا نہیں پہنائے گا ، جب تک کہ وہ عرفات میں وقوف نہ کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے فرمایا ، اس کو سواری پر بٹھا کر عرفات میں لے جاؤ اور کپڑے پہنا دو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، وہ شخص کہنے لگا کہ اس وقوف سے مراد یوم عرفہ کا وقوف ہے فرمایا ضروری نہیں تم بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) والا حیلہ کرو جنہوں نے الگ الگ سو کوڑے مارنے کی بجائے سو تنکوں کا گٹھا ایک ہی دفعہ مار کر قسم پوری کرلی تھی ، فقہائے کرام اس مقام پر یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) کی حیلہ سازی خاص وجوہ کی بناء پر تھی آپ کی بیوی سوکوڑوں کی ہرگز سزاوار نہیں تھی کیونکہ وہ تو ایک صالحہ اور خاوند کی خدمت گار خاتون تھی مگر شیطان کی بات سننے کی ذرا سی کوتاہی پر ایوب (علیہ السلام) نے سو لاٹھیاں مارنے کی قسم اٹھالی مطلب یہ ہے کہ یہ حیلہ اس لیے کیا تھا کہ ایسی صابرہ وشاکرہ عورت کو زیادہ اذیت نہ پہنچائی جائے تاہم امام ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی حیلہ میں بھی شرط یہ ہے کہ گٹھے کے سارے تنکے یا چھڑیاں طولا یا عرضا جسم کے ساتھ لگنی چاہئیں اور مضروب کو کچھ نہ کچھ تکلیف بھی پہنچنی چاہئے ورنہ قسم پوری نہ ہوگی ۔ (صبر ایوب علیہ السلام) بہرحال حضرت ایوب (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انا وجدنہ صابرا “۔ ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو صبر کرنے والا پایا ، انہوں نے طویل عرصہ تک تکلیف اٹھائی ، مگر حرف شکایت زبان پر نہ لائے ان کی روح میں ہمیشہ یقین دل میں صبر اور زبان پر شکر ہی رہا فرمایا (آیت) ” نعم العبد “۔ وہ بہت ہی خوب بندہ تھا (آیت) ” انہ اواب “۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والا تھا اللہ تعالیٰ نے یہی صفات پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کی بیان فرمائیں سب کا تنگی اور آسائش میں خدا ہی کی طرف رجوع رہا ۔
Top