Maarif-ul-Quran - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
قصہ سوم حضرت ایوب (علیہ السلام) ومناجات ببارگاہ رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب ...... الی ....... نعم العبد انہ اواب “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے ایک ابتلا وآزمائش کا ذکر تھا اب ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک قصہ بیان کیا جارہا ہے جس میں ان کے ابتلا اور آزمائش میں صبر و استقامت کا بیان ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر بیماری و تکلیف اور فقر وفاقہ میں بھی کیسے صابر رہے اور جب انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا تو کسی طرح رحمت خداوندی سے انکی تمام تکالیف دور کرکے انعامات اور رحمتوں سے نوازا گیا اس واقعہ کا ذکر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد شکر وصبر کا ارتباط رکھتا ہے وہ اللہ کے برگزیدہ ایسے شاکر بندے تھے کہ امم سابقہ میں ایک نمونہ نہیں ملتا تو ایوب (علیہ السلام) ایسے صابر بندے تھے کہ صبر ایوب (علیہ السلام) دنیا میں ایک معیار اور نمونہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ فرمایا اور یاد کرو ہمارے بندے ایوب کو کہ کیسے صابر تھے کہ طرح طرح کے امراض ومصائب اور مشقت وتنگی میں مبتلا ہوتے تو اس وقت اپنے پروردگار کو پکارا اور التجا کی کہ اے میرے پروردگار تحقیق شیطان نے مجھ کو بڑی ہی مشقت اور تکلیف پہنچاتی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے مجھ کو شیطان کے شر اور فتنہ سے بچا تو ہم نے انکی دعا قبول کی اور حکم دیا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو چناچہ انہوں نے پاؤں زمین میں مارا تو ان کی شفاء اور تندرستی کا بطور خرق عادت اور معجزہ سامان پیدا کرنے کے لیے ایک چشمہ جاری کردیا گیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ یہ تمہارے واسطے نہانے کا پانی ہے ٹھنڈا اور پینے کے لئے بھی چناچہ اس پانی میں نہائے اور اس کو پیا جس سے بالکل تندرست ہوگئے اور عطا کیے ہم نے ان کو ان کے گھر والے جو حوادث میں ضائع ہوچکے تھے اور ان ہی کے برابر انہی جیسے اور عطا کیے ہم نے ان کو ان کے گھروالے جو حوادث میں ضائع ہوچکے تھے اور ان ہی کے برابر انہی جیسے اور عطا کیے محض اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے تاکہ مہربانیوں اور رحمتوں کے یہ واقعات نصیحت و عبرت کا سامان ہوں عقل والوں کے لیے اور وہ یہ سمجھیں کہ خدا کے صابر بندے کس طرح کیسے عظیم انعامات سے نوازے جاتے ہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بحالت مرض کسی بات پر خفا ہو کر یہ قسم کھائی تھی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی عورت کو سولکڑیاں ماریں گے وہ بی بی اس بیماری کی حالت میں جب کہ سب لوگ ان سے دور ہوچکے تھے تنہا ان کی رفیق و خدمت گزار تھی اور بظاہر قصور وار بھی نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے انکو یہ طریقہ اور قسم کو سچا کرنے کا حیلہ بتلا دیا جو صرف انہی کے لئے مخصوص تھا تو فرمایا اور اے ایوب (علیہ السلام) پکڑ لو اپنے ہاتھ میں سینکوں کی ایک گڈی اور پھر اسکو مارو اپنی بیوی پر تاکہ سولکڑیاں مارنے کی قسم پوری ہوجائے اور تم اپنی قسم میں جھوٹے نہ ہو بیشک ایوب کو ہم نے بہت کہی صابر پایا ان تمام شدائد مرض اور مصائب میں جو انکے حق میں منجانب اللہ اسی طرح مقدر فرمائے گئے جیسے کہ بہت سے انبیاء اور اللہ کے مقربین پر فقروفاقہ اور دشمنوں کی طرف سے مصائب وآلام کے واقعات پیش آئے ہیں اس طرح کے صبر سے ایوب (علیہ السلام) نے ثابت کردیا کہ وہ بہت اچھے بندے ہیں بالخصوص یہ بات قابل تعریف ہے کہ ان تمام مشقتوں میں وہ خدا کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والے تھے۔ تحقیق ابتلاء ایوب (علیہ السلام) : ان آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جس ابتلاء کا ذکر فرمایا گیا ہے اس کی تفصیل کسی صحیح حدیث کے ذریعہ متعین نہیں بالاجمال الفاظ قرآن کریم سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ کسی مشقت و تکلیف یا بیماری کے ذریعہ آزمائش فرمائی گئی جیسے کہ حضرات انبیاء مختلف قسم کی آزمائشوں میں آزمائے جاتے ہیں یہ بھی آزمائے گئے تاکہ دنیا کے سامنے خدا کے برگزیدہ بندوں کے صبر کا نمونہ ظاہر ہوجائے آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل کہ دنیا میں سب سے زیادہ شدائد ومصائب میں مبتلاہونے والے خدا کے پیغمبر ہوتے ہیں پھر ان کے بعد وہ جو درجہ بدرجہ ان سے مشابہ و قریب ہوں اس بیماری یا تکلیف کے سلسلہ میں جو واقعات مشہور ہیں کہ تمام بدن گل سڑ گیا اور کوئی حصہ بدن ایسا نہ رہا جہاں آبلے اور پھوڑے نہ ہوں ان کو راکھ پر ڈال دیا گیا اور گھر سے دور کسی جگہ ڈال دیا گیا لوگ کہنے لگے اے ایوب (علیہ السلام) تم نے کوئی گناہ کیا ہے جس کی پاداش میں تم اس مصیبت میں مبتلا کیے گئے تمام گھر اور قبیلہ کے لوگ چھوڑ گئے سوائے انکی بیوی کے وہ خدمت کرتی رہی فقروفاقہ کی حد نہ رہی حتی کہ علاج اور دوا کے لئے بھی کچھ نہ رہا اسی حالت میں کہ بیوی علاج اور دوا کی فکر میں پریشان پھر رہی تھی تو ایک شیطان بشکل طبیب ظاہر ہوا انہوں نے علاج کی درخواست کی تو شیطان نے کہا کہ میں اس شرط پر علاج کروں گا کہ انکو شفا ہوجائے تو یہ کہہ دینا کہ ایوب (علیہ السلام) کو تو نے شفا دی اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی نذرانہ وغیرہ نہیں چاہتا انہوں نے ایوب (علیہ السلام) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اے اللہ کی بندی یہ تو شیطان تھا اب میں عہد کرتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ اللہ نے اگر مجھے شفا دی تو میں تجھ کو بطور سزا سو قمچیاں ماروں گا (درمنثور) ایوب (علیہ السلام) کو اس بات پر شدید رنج ہوا کہ شیطان کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا کہ وہ میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہے جو موجب شرک ہوں اگرچہ ایک طرح سے تاویل بھی ممکن ہے اس رنج وغم میں اب اللہ کی طرف خاص تفرع وزاری کے ساتھ متوجہ ہوئے اور فرمایا (آیت ) ” رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین “۔ اے اللہ مجھے تکلیف ومصیبت پہنچی ہوئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے کمال ادب کے ساتھ صرف اپنی حالت پروردگار کے سامنے اظہار کردیا اور یہ کہ آپ ارحم الراحمین ہیں جو بھی شان رحیمی کا مقتضی ہو وہ اے پروردگار میرے واسطے فرما دیجئے فورا ہی دعا قبول ہوئی اور پاؤں مارنے کا حکم دیا گیا جس سے پانی جاری ہوگیا اور اس کے ذریعہ غسل سے بدن بھی تندرست ہوگیا اور اسکے پینے سے قلب کو بھی تسکین حاصل ہوئی بطور قدر مشترک روایات میں اس طرح کی باتیں مذکور ہیں ان روایات کے مضامین کو ذکر کرتے ہوئے علامہ آلوسی (رح) تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں حضرات ائمہ مفسرین اور محققین نے اس طرح کی بیماری کی داستانوں کو قابل اعتماد اور درست نہیں سمجھا اور یہ فرمایا کہ اللہ کے کسی پیغمبر کے لیے ایسی کوئی حالت جو لوگوں کے لیے باعث تنفر اور تکدر ہو نہیں سکتی اس طرح کی بیماری کہ بدن سے کیڑے گرنے لگے اور لوگ ان کو گھر سے باہر کسی جگہ لے جا کر ڈال دیں انبیاء (علیہم السلام) کی اس عظمت ووجاہت کے منافی ہے جو اللہ کی طرف سے خاصہ نبوت ہے عوارض جسمانیہ اور امراض کا انبیاء پر ورود بیشک درست ہے لیکن ایسے امراض جو گندے اور قابل نفرت ہوں مثلا جذام وبرص عمی (نابینا پن) اور جنون واپاہج پن سے محفوظ رکھے جاتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنو اسرائیل نے ایک ایسی بیماری اور عیب کا الزام لگایا تھا جو لوگوں میں حقیر ہے تو اللہ نے اس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت ظاہر فرما دی جیسے کہ (آیت ) ” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجیھا “۔ کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور (آیت ) ” وکان عنداللہ وجیھا “۔ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وجاہت انبیاء (علیہم السلام) کا خاصہ نبوت ہے لہذا ایسی کوئی بیماری اور حالت جو باعث عیب یا نفرت ہو انبیاء (علیہم السلام) کے لیے نہیں ہوسکتی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کیلئے اگرچہ قرآن کریم میں یہ آیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غم میں روتے روتے ان کی آنکھیں سپید ہوگئی تھیں اور بینائی جاتی رہی تھی تو یہاں اولا تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ بقول بعض ائمہ مفسرین اصل بینائی ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ شدت غم اور کثرت بکا کی وجہ سے ایک پردہ سا آنکھوں پر چھا گیا تھا پھر یہ کہ یہ نابینا پن پیدائشی نہ تھا اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں بعض مؤرخین کا یہ کہنا کہ وہ نابینا تھے صحیح نہیں ہے امام نووی (رح) فرماتے ہیں اغماء اور غشی تو پیغمبروں پر ممکن ہے کیونکہ وہ کوئی مستقل مرض عیب کی قسم سے نہیں البتہ جنون ممکن نہیں کیونکہ جنون عیب ہے الغرض امراض کا عارض ہونا بیشک انبیاء (علیہم السلام) پر ہوتا ہے لیکن صرف اسی حدتک کہ وہ قابل نفرت نہ ہوں اور نہ ہی وہ عیب کے درجہ میں ہوں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی اس قسم کو پورا کرنے کے سلسلہ میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ صورت ارشاد فرمانا (آیت ) ” وخذ بیدک ضغثا فاضرب “۔ ایک نوع کی سہولت کا مہیا فرما دینا ہے کہ قسم بھی پوری ہوجائے اور اس بیوی کو جو واقعتہ اور حقیقۃ تو کسی جرم کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ کسی ایسی شرعی حد کی مرتکب بنی ہے جس پر اس طرح کی حد جاری کی جائے محض ایک وہم بعید کا درجہ ہوا اور خاندان نبوت کی شان سے قدرے گری ہوئی چیز آگئی تو اس کے تدارک کے لئے بوحی الہی یہ حیلہ اور طریقہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو بتادیا گیا حقیقت میں جرم تو تھا نہیں بلکہ شبہ بعید تھا تو اس طرح کی حد (سزا) بھی حقیقت سزا نہ رہے صرف مشابہت بعید ہی کے درجہ میں صورت سزا ہی جائے۔ یہ حیلہ ایسا ہی ہوگیا جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس روکنے کی تدبیر کی تھی کہ ان کے سامان میں پیالہ رکھوا دیا اور پھر اعلان ہوا کہ ہماری ایک چیز گم ہوئی ہے تو اس وجہ سے تم لوگ چور ہو تاکہ وہ سب سے یہ یہی کہیں اے یوسف (علیہ السلام) نہیں ایسا نہیں اور اس پر یوسف (علیہ السلام) ان سے یہ بات دریافت کرلیں بتاؤ اگر تم جھوٹے ہو تو کیا سزا ہو اور اس کے جواب میں وہ یہ کہہ دیں (آیت ) ” جزآؤہ من وجد فی رحلہ فھو جزآؤہ “۔ کہ بس اسکی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ چیز ملے وہ شخص اسی کا بطور غلام و خادم اس کے پاس رہ جائے گا تو اس تدبیر سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھ لیا اور اس خصوصی تدبیر کو اللہ نے خود ارشاد فرمایا (آیت ) ” کذالک کدنا لیوسف ماکان لیاخذ اخاہ فی دین الملک “۔ کہ ہم نے ہی یہ تدبیر یوسف (علیہ السلام) کو القاء کی کیونکہ وہ اپنے بھائی کو وہاں کے ملکی قانون کے مطابق نہیں روک سکتے تھے تو اس طرح کا یہ بھی ایک خصوصی حیلہ تھا جس کی حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اجازت دی گئی فقہاء حنفیہ کے یہاں جو بعض مواقع پر حیلہ کی صورت اختیار کی گئی یا اس کی اجازت دی گئی اس کی نوعیت اس طرح ہے حیلہ اگر اس طرح ہے کہ اس سے حرام شے کو حلال قرار دے لیاجائے یا اس سے شریعت کی غرض فوت ہو یا اس حیلہ سے کسی شخص کا حق ضائع ہوتا ہو تو ظاہر ہے کہ اس طرح کا حیلہ قطعا ممنوع ہے اور اس کو کسی بھی فقیہ نے کسی بھی حالت میں درست نہیں سمجھا حیلہ صرف اس صورت میں گوارہ کیا گیا کہ انسان اسکو اختیار کرکے حرام میں مبتلاہونے سے بچ جائے چناچہ امام محمد (رح) نے کتاب الحجج میں یہی فرمایا کہ حیلہ کا جواز اس وجہ سے نہیں ہے کہ انسان اس کو اختیار کرکے حرام میں داخل ہوجائے گا کہ اس کا جواز صرف اس حدتک ہے کہ اس کے ذریعہ حرام میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہے اور اس طرح حلال صورت سے متمتع ہوسکے تفصیلات کے لیے فقہاء کے بیان کردہ جزئیات کی مراجعت کیا جائے الغرض حضرت ایوب (علیہ السلام) کو یہ حکم بارگاہ خداوندی سے از باب عفو وترحم تھا کہ ایسی نیک بی بی ایذارسانی سے بچ جائے اور کسی جھاڑو وغیرہ کی باریک سینک کوڑے کے قائم مقام ہوجائے اور تبدیل صورت سے تبدیل حکم ہوجانا اور باوجود معنوی مغائرت کے صوری مشابہت کو کافی قرار دے لینا یہی حقیقت حیلہ کی ہے جس کو فقہاء حنفیہ نے اس صورت میں جائز قرار دیا جب کہ نہ تو کسی کا حق فوت ہوتا ہو اور یہی حقیقت حلیہ کی ہے جس کو فقہاء حنفیہ نے اس صورت میں جائز قرار دیا جب کہ نہ تو کسی کا حق فوت ہوتا ہو اور نہ حرام کا ارتکاب لازم ہوتا ہو بلکہ وہ حیلہ اس کو اضطرار ومخمصہ کی مصیبت سے نکال کر حرام میں مبتلا ہونے کے بجائے ایک حلال شکل مہیا کرتا ہے تفصیل کے لیے روح المعانی جلد 23 کی مراجعت فرمائیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے نسب کے بارے میں محمد بن اسحاق (رح) کا قول ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے تھے ابن جریر (رح) نے ان کا سلسلہ نسب اس طرح ذکر کیا ہے ایوب بن اموص بن روم بن عیص بن اسحاق (علیہ السلام) ابن عساکر (رح) نے یہ بیان کیا کہ ان کی والدہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں اور ان کے باپ ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے تو اس لحاظ سے ان کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل ہوا ابن جریر (رح) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بعد بیان کیا ہے اور بعض نقول سے سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے (روح المعانی )
Top