11. Hudهود
Hud · Meccan · 123 ayahs · 10 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ﴿1﴾
یہ الف، لام، را ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئیاَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ﴿2﴾
کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری دینے والا ہوںوَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ﴿3﴾
اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو ایک وقت معین تک اچھی طرح بہرہ مند کرے گا اور ہر مستحق فضل کو اپنے فضل سے نوازے گا۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوںاِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿4﴾
اللہ ہی کی طرف تم سب کا پلٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہےاَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿5﴾
ذرا دیکھو، یہ اپنے سینے موڑتے ہیں کہ اس سے چھپ جائیں۔ آگاہ رہو، یہ اس وقت بھی اس کی نظر میں ہوتے جب اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں۔ وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ تو سینوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہےوَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿6﴾
اور زمین کے ہر جاندار کا رزق اللہ ہی کے ذمہ ہے۔ اور وہ جانتا ہے اس کے مستقر اور مدفن کو۔ ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہےوَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿7﴾
اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں جانچے کہ کون اچھے عمل والا ہے اور اگر تم کہتے ہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤگے تو یہ کافر کہتے ہیں کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہےوَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿8﴾
اور اگر ہم ان سے عذاب کو کچھ مدت کے لیے ٹالے دیتے تو پوچھتے ہیں کہ اس کو کیا چیز روکے ہوئے ہے ! آگاہ کہ جس دن وہ ان پر آدھمکے گا تو ان سے ٹالا نہ جاسکے گا اور جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ ان کو آگھیرے گیوَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ﴿9﴾
اور اگر ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں پھر اس سے اس کو محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس اور نا شکرا بن جاتا ہےوَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ﴿10﴾
اور اگر کسی تکلیف کے بعد، جو اس کو پہنچی اس کو نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے میری مصیبتیں دفع ہوئیں اور وہ اکڑنے والا اور شیخی بگھارنے والا بن جاتا ہے۔اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿11﴾
صرف وہ اس سے مستثنی ہیں جو صبر کرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہیں۔ انہی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہےفَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ﴿12﴾
شاید اس چیز کا کچھ حصہ تم چھوڑ دینے والے ہو جو تم پر وحی کی جا رہی ہے اور اس سے تمہارا سینہ بھنچ رہا ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ تو تم بس ایک ہوشیار کردینے والے ہو اور ہر چیز اللہ کے حوالہ ہےاَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿13﴾
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ ان سے کہو کہ پھر تم ایسی ہی دس سورتیں گھڑی ہوئی لاؤ اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو ان کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہوفَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿14﴾
پس اگر وہ تمہاری مدد کو نہ پہنچیں تم سمجھ لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو کیا اب تم مانتے ہومَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ﴿15﴾
جو دنیا کی زندگی اور اس کے سروسامان کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتیاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿16﴾
یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے کیا کرایا ہے سب حبط ہوجائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیںاَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿17﴾
کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک برہان پر ہے، پھر اس کے بعد اس کی طرف سے ایک گواہ بھی آجاتا ہے اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود ہے اور وہ جو نور بصیرت سے محروم ہیں، دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ اس پر ایمان تو وہی لوگ لائیں گے اور جماعتوں میں سے جو اس کا انکار کریں گے ان کا موعود ٹھکانا بس دوزخ ہے پس تم اس کے باب میں کسی شک میں نہ پڑو، یہی تمہارے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں مانتےوَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ﴿18﴾
اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑیں۔ ان لوگوں کی پیشی ان کے رب کے سامنے ہوگی اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب پر جھوٹ بولے ہیں۔ آگاہ کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پرالَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿19﴾
جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیںاُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ﴿20﴾
یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے، ان پر دونا عذاب ہوگا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے ہی تھےاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿21﴾
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے سب ہوا ہوجائیں گےلَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ﴿22﴾
لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے میں ہوں گےاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿23﴾
باقی رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور جو اپنے رب کی طرف جھک پڑے تو وہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گےمَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ع﴿24﴾
دونوں فریقوں کی تمثیل ایسی ہے کہ ایک اندھا اور بہرا ہو اور ایک دیکھنے والا اور سننے والا۔ کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہوجائے گا ؟ کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتےوَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ﴿25﴾
اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرح رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے ان کو آگاہ کیا میں تمہارے لیے ایک نذیر مبین ہو کر آیا ہوںاَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ﴿26﴾
کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تم پر ایک دردناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوںفَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ﴿27﴾
اس کی قوم کے ان سربراہوں نے جنہوں نے کفر کیا، جواب دیا کہ ہم تو تم کو بس اپنا ہی جیسا کہ ایک آدمی دیکھتے ہیں اور ہم تمہاری پیروی کرنے والوں میں انہی کو پاتے ہیں اور ہم تمہاری پیروی کرنے والوں میں انہی کو پاتے ہیں جو ہمارے اندر کے ذلیل لوگ ہیں، بےسمجھے بوجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں اور ہم تم لوگوں کے لیے اپنے مقابل میں کوئی خاص امتیاز بھی نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ ہم تو تم کو بالکل جھوٹا خیال کر رہے ہیںقَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ﴿28﴾
اس نے کہا، اے میرے ہم قومو ! اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور پھر اس نے خاص اپنی رحمت سے بھی مجھے نوازا اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تو کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں جب کہ تم اس سے بیزار بھی ہووَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ﴿29﴾
اور اے میرے ہم قومو، میں اس خدمت پر تم سے کسی مال کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو ہرگز دھتکار نے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں بلکہ میں تو تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت میں مبتلا ہووَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿30﴾
اور اے میرے ہم قومو، اگر میں ان کو ددھتکار دوں تو خدا کے مقابل میں کون میری مدد کرے گا ؟ کیا تم لوگ اس پہلو پر دھیان نہیں کرتے ؟وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿31﴾
اور میں تمہارے سامنے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا اور نہ یہ دعویٰ کرتا کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں، جن کو تمہاری نگاہیں حقیر دیکھتی ہیں، یہ کہہ سکتا کہ خدا ان کو کوئی خیر دے ہی نہیں سکتا۔ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کروں تو میں ہی ظالم ٹھہروں گاقَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿32﴾
وہ بولے کہ اے نوح تم نے ہم سے بحث کرلی اور بہت بحث کرلی، اگر تم سچے ہو تو وہ چیز ہم پر لاؤ جس کی تم ہم کو برابر دھمکی سنا رہے ہوقَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ﴿33﴾
اس نے جواب دیا کہ اس کو تو تم پر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اس کے قابو سے باہر نہ نکل سکو گےوَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ﴿34﴾
اور میری خیر خواہی تم پر کچھ کارگر نہیں ہوسکتی اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں اگر اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا ہےاَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ع﴿35﴾
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے، کہہ دو ، کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کا وبال میرے ہی اوپر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو میں اس سے بری ہوںوَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ﴿36﴾
اور نوح کو وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی اور ایمان لانے والا نہیں تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس سے آزردہ خاطر نہ ہووَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿37﴾
اور تم کشتی بناؤ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق اور ان ظالموں کے باب میں اب ہم سے کچھ نہ کہیو، یہ تو غرق ہو کر رہیں گےوَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ﴿38﴾
اور وہ کشتی بنانے لگا، اور جب جب اس کی قوم کے بڑوں کی کوئی جماعت اس کے پاس سے گزرتی تو اس کا مذاق اڑاتی۔ وہ ان کو جواب دیتا کہ اگر تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو جس طرح تم مذاق اڑا رہے ہو اسی طرح ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گےفَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ﴿39﴾
تم جلد جان لو گے کہ وہ کون ہیں جن پر وہ وہ عذاب آتا ہے جو ان کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور وہ قہر نازل ہوتا ہے جو ٹک کے رہ جاتا ہےحَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ﴿40﴾
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور طوفان ابل پڑا، ہم نے اس کو کہا کہ ہر چیز میں سے نر و مادہ دونوں کو اور اپنے اہل و عیال کو، بجز ان کے جن پر حکم نافذ ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، اس کشتی میں سوار کرالو، اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کی تعداد تو بس تھوڑی ہی تھیوَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿41﴾
اور اس نے کہا کہ اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا۔ میرا رب بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہےوَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ﴿42﴾
اور وہ کشتی پہاڑوں کی طرح اٹھتی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چلنے لگی اور نوح نے اپنے بیٹے کو، جو اس سے الگ تھا، آواز دی کہ اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور ان کافروں کا ساتھ نہ دےقَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ﴿43﴾
وہ بولا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا، آج اللہ کے قہر سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر وہی جس پر رحم فرمائے۔ اور ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ بھی غرق ہونے والوں میں سے ہو کے رہاوَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿44﴾
اور حکم ہوا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی اتار دیا گیا اور معاملے کا فیصلہ ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر جا لگی اور اعلان کردیا گیا کہ ظالموں پر خدا کی پھٹکار ہےوَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ﴿45﴾
اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے میرے خداوند میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ پکا ہے اور تو تمام فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا ہےقَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿46﴾
فرمایا، اے نوح وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، وہ نہایت نابکار ہے، مجھ سے اس چیز کے لیے درخواست نہ کرو جس کے باب میں تمہیں کچھ علم نہیں اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنوقَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿47﴾
اس نے کہا کہ اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست کروں جس کے باب میں مجھے کوئی علم نہیں اور اگر تو میری مغفرت نہ کرے گا اور مجھ پر رحم نہ فرمائے گا تو میں نامرادوں میں سے ہوجاؤں گاقِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿48﴾
ارشاد ہوا اے نوح اترو، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اپنے اوپر بھی اور ان امتوں پر بھی جو ان سے ظہور میں آئیں جو تمہارے ساتھ میں ہیں اور ایسی امتیں بھی اٹھیں گی جن کو ہم بہرہ مند کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے ایک عذاب دردناک پکڑے گاتِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿49﴾
یہ ماجرا غیب کی باتوں میں سے ہے جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے سنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ہی اس کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم کے لوگ ہی، تو ثابت قدم رہو، انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کا حصہ ہےوَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ﴿50﴾
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو رسول بنا کر بھیجا اس نے ان کو دعوت دی کہ اے میری قوم کے لوگو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ یہ تم محض افترا کر رہے ہویٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿51﴾
اے میری قوم کے لوگو، میں اس پر تم سے کسی معاوضے کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو بس اسی کے ذے ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے ہیں ؟وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ﴿52﴾
اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر خوب خوب اپنا ابر کرم برسائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ پر اضافہ فرمائے گا اور مجرمانہ روگردانی کی روش اختیار نہ کروقَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿53﴾
وہ بولے کہ اے ہود تم ہمارے پاس کوئی کھلی نشانی لے کر تو آئے نہیں اور ہم مجرد تمہارے کہنے سے تو اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہمہ ہرگز تمہیں ماننے والے نہیںاِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ﴿54﴾
ہم تو یہی ن کہیں گے کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بالکل بری ہوںمِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ﴿55﴾
اس کے سوا۔ تو تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل دیکھو، پھر مجھے ذرا مہلت نہ دواِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿56﴾
میں نے اللہ، اپنے اور تمہارے رب پر بھروسہ کیا، جتنے بھی جاندار ہیں ان کی پیشانی اسی کی گرفت میں ہے۔ بیشک میرا رب نہایت سیدھی راہ پر ہےفَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ﴿57﴾
پس اگر تم اعراض کر رہے ہو تو میں نے تمہیں وہ پیغام پہنچا دیا جو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمہاری جگہ اب تمہارے سوا کسی اور قوم کو لائے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے۔ میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہےوَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ﴿58﴾
اور جب ہمارا عذاب آ دھمکا ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، اپنے فضل خاص سے نجات بخشی۔ اور ہم نے ان کو ایک نہایت ہی سخت عذاب سے بچایاوَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ﴿59﴾
اور یہ قوم عاد ہے۔ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جبار و سرکش کی بات کے پیچھے لگےوَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ع﴿60﴾
اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے روز بھی۔ سن لو کہ عاد نے اپنے رب کا انکار کیا، سن لو کہ ہلاکی ہو ہود کی قوم عاد کے لیےوَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ﴿61﴾
اور قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے دعوت دی اے میری قوم کے لوگوں اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، میرا رب قریب بھی ہے، قبول کرنے والا بھیقَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ﴿62﴾
وہ بولے کہ صالح، اس سے پہلے تو ہمارے اندر تم بڑی امیدوں کے مرکز تھے۔ کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ! اور ہم تو اس چیز کے سبب سے جس کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو بڑی ہی سخت الجھن میں پڑگئے ہیںقَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ﴿63﴾
اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی جانب سے رحمت خاص سے بھی مجھے نوازا تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی پکڑ کے وقت کون میرا مددگا ہوگا۔ سو تم میری بربادی ہی میں اضافہ کرو گےوَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ﴿64﴾
اور اے میری قوم کے لوگو، یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لیے ایک نشانی تو اس کو چھوڑو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرے چگے اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ورنہ ایک قریبی عذاب تمہیں آپکڑے گافَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ﴿65﴾
تو انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ تب اس نے کہا کہ اب تین دن اور اپنی بستی میں رس بس لو۔ یہ دھمکی جھوٹی نہیں ہونے کیفَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ﴿66﴾
پس جب ہمارا حکم صادر ہوا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے اپنے خاص فضل سے اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی بیشک تمہارا رب ہی قوی اور غالب ہےوَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ﴿67﴾
اور ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا خدا کی ڈانٹ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے پڑے رہ گئےكَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ع﴿68﴾
گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔ سن لو ثمود نے اپنے رب کی ناشکری کی۔ سن لو کہ ہلاکی ہو ثمود کے لیےوَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ﴿69﴾
اور ابراہیم کے پاس ہمارے فرستادے خوش خبری لے کر آئے۔ کہا سلامتی ہو۔ اس نے بھی کہا سلامتی ہو۔ دیر نہیں گزری کہ اس نے ان کے آگے بھنا ہو بچھڑا پیش کیافَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ﴿70﴾
پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اس نے ان میں اجنبیت پائی اور ان کی طرف سے ایک خدشہ محسوس کیا۔ وہ بولے کہ تم کوئی اندیشہ نہ کرو، ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیںوَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ﴿71﴾
اور اس کی بیوی پاس کھڑی تھی وہ ہنسی پس ہم نے اس کو اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے آگے یعقوب کیقَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ﴿72﴾
وہ بولی کہ ہائے شامت ! کیا اب میں بچہ جنوں گی جب میں خود بھی ایک بڑھیاں ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں ! یہ تو ایک نہایت ہی عجیب بات ہوگی !قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ﴿73﴾
وہ بولے، کیا خدا کی بات پر تعجب ! اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں آپ پر اے اہل بیت نبی، بیشک وہ سزاوار حمد و بزرگ ہےفَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ﴿74﴾
تو جب ابراہیم کا خود دور ہوا اور اس کو بشارت ملی تو وہ ہم سے قوم لوط کے بارے میں بحث کرنے لگااِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ﴿75﴾
بیشک ابراہیم نہایت ہی بردبار، دردمند اور پنے رب کی طرف دھیان رکھنے والا تھایٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ﴿76﴾
اے ابراہیم یہ بحث چھوڑو، اب تمہارے رب کا حکم ہوچکا ہے اور ان پر ایک ایسا عذاب آنے والا ہے جو ٹالے نہ ٹالا جا سکےوَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ﴿77﴾
اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے وہ ان کے سبب سے غمگین ہوا اور اس کا دل بھنچا اور بولا کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہےوَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ﴿78﴾
اور اس کی قوم کے لوگ جھپٹے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور یہ پہلے سے بدکاریوں میں مبتلا تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، یہ میری بیٹیاں ہیں، وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے باب میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی مرد معقول نہیں !قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ﴿79﴾
وہ بولے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ تمہاری بیٹیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں اور تم خوب جانتے ہو جو کچھ ہم چاہتے ہیںقَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ﴿80﴾
اس نے کہا کاش میرے پاس تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی طاقت ور سہارے کی پناہ لے سکتا ! !قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ﴿81﴾
فرستادوں نے کہا اے لوط ہم تو تمہارے رب کے فرستادے ہیں، یہ ہرگز تم تک پہنچ نہیں سکتے تو تم اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی مڑ کے بھی نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی اس سے مستثنی ہے، اس پر بھی وہی آفت آنی ہے جو ان پر مقدر ہوچکی ہے۔ ان کے عذاب کا وقت مقررہ صبح ہے، کیا صبح قریب نہیں !فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ﴿82﴾
پس جب آیا ہمارا عذاب تو ہم نے اس بستی کو یک قلم تلپٹ کر کے رکھ دیا اور اس سنگ گل کی بارش کی، تہ بہ تہ ،مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ع﴿83﴾
تمہارے رب کے پاس نشان لگائے ہوئے، اور وہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیںوَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ﴿84﴾
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے دعوت دی کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ میں تمہیں فارغ البالی کی حالت میں دیکھ رہا ہوں اور تم پر ایک گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوںوَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿85﴾
اور اے میری قوم کے لوگو ! ناپ اور تول کر پورا رکھو پورے عدل کے ساتھ اور لوگوں کی چیزوں میں ان کی حق تلفی نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلانے والے بن کر نہ ابھروبَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ﴿86﴾
اللہ کا بخشا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سچے ایمان والے ہو۔ اور میں تم پر نگران نہیں ہوںقَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ﴿87﴾
وہ بولے کہ اے شعیب، کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ بیٹھیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے آئے یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ؟ بت تمہیں تو ایک دانشمند اور راست رو رہ گئے ہو !قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ﴿88﴾
اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، بتاؤ اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مزید اپنی جانب سے مجھے رزق حسن سے بھی نوازا (تو اس کے سوا میں تمہیں اور کس چیز کی دعوت دوں) اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہاری مخالفت کر کے وہی چیز خود اختیار کروں جس سے تمہیں روک رہا ہوں۔ میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں، جس حد تک کرسکوں۔ اور مجھے توفیق تو اللہ ہی کی مدد سے حاصل ہوگی۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوںوَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ﴿89﴾
اور اے میری قوم کہیں میری ضد تمہارے لیے اس امر کا باعث نہ بن جائے کہ تم پر بھی اسی طرح کی آفت نازل ہو جس طرح کی آفت قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر نازل ہوئی اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور بھی نہیںوَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ﴿90﴾
اور اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب نہایت مہربان اور بڑی محبت کرنے والا ہےقَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ﴿91﴾
وہ بولے کہ اے شعیب، جو باتیں تم کہتے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم تو تم کو اپنے اندر ایک کمزور وجود خیال کرتے ہیں اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیںقَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ﴿92﴾
اس نے کہا اے میری قوم، کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے اور اس کو تو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کا احاطہ کیے ہوئے ہےوَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ﴿93﴾
اور اے میری قوم کے لوگو تم اپنے طور پر کرو جو کر رہے ہو، میں بھی اپنے طور پر کر رہا ہوں، تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور کون ہے جو جھوٹا ہے اور انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوںوَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ﴿94﴾
اور جب ہمارا عذاب آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے اپنی رحمت سے نجات دی اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو ڈانٹ نے آپکڑا پس وہ اپنے گھروں میں اوندے پڑے رہ گئےكَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ع﴿95﴾
گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، ہاں، ہلاک ہوئے مدین جس طرح دفع ہوئے ثمودوَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ﴿96﴾
ور ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے اعیان کے پاس اپنی آیات اور ایک روشن نشانی کے ساتھ رسول بنا کر بھیجااِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ﴿97﴾
تو انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی حالانکہ فرعون کی بات راست نہ تھییَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ﴿98﴾
وہ قیامت کے روز اپنی قوم کے آگے ہوگا اور ان کو دوزخ میں لے جا اتارے گا اور کیا ہی برا گھاٹ ہوگا جس پر یہ اتریں گے !وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ﴿99﴾
اور اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ کیا ہی برا انعام ہے جو دیا گیاذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ﴿100﴾
یہ بستیوں کی کچھ سرگزشتیں ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں، ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ مٹ مٹا گئیںوَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ﴿101﴾
اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ تو ان کے وہ دیوتا جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا عذاب آیا، ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور انہوں نے ان کی بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیاوَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ﴿102﴾
اور تیرے رب کی پکڑ، جب کہ وہ بستیوں کو ان کے ظلم میں پکڑتا ہے، اسی طرح ہوتی ہے۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی ہی دردناک اور سخت ہےاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ﴿103﴾
اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو عذاب آخرت سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہوگا جس کے لیے سارے ہی لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہوگاوَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ﴿104﴾
اور ہم تو اس کو بس ایک گنتی کی مدت کے لیے ٹال رہے ہیںیَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ﴿105﴾
جب وہ دن آئے گا کوئی جان اس کے اذن کے بغیر کلام نہ کرسکے گی۔ پس ان میں کچھ بدبخت ہوں گے، کچھ نیک بختفَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ﴿106﴾
تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے، اس میں ان کے لیے جلانا اور گھ گیا نا ہوگاخٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ﴿107﴾
اسی میں پڑے رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے، بیشک تیرا رب جو چاہے کر گزرنے والا ہےوَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ﴿108﴾
اور رہے وہ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے۔ غیر منقطع عطیۂ الٰہیفَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ع﴿109﴾
تو تم ان کے باب میں کسی تردد میں نہ پڑو جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں۔ یہ اسی طرح پوج رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے رہے اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا بغیر کسی کمی کے دے کے رہیں گےوَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ﴿110﴾
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی نہ طے ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس کی طرف سے الجھا دینے والے شک میں پڑے ہوئے ہیںوَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿111﴾
اور یقیناً تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ پورا کر کے رہے گا۔ وہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس سے باخبر ہےفَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿112﴾
تو تم جمے رہو جیسا کہ تمہیں حکم ملا ہے اور وہ بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے اور کج نہ ہونا، بیشک وہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس کو دیکھ رہا ہےوَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ﴿113﴾
اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہوجیو جنہوں نے ظلم کیا کہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ پکڑے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی نہیں، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گیوَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ﴿114﴾
اور نماز کا اہتمام کرو دن کے دونوں حصوں میں اور شب کے کچھ حصہ میں بیشک نیکیاں دور کرتی ہیں بدیوں کو یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیےوَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿115﴾
اور ثابت قدم رہو، اللہ خوب کاروں کا اجر ضائع نہیں کرے گافَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴿116﴾
پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی امتوں میں سے ایسے حاملین حق ہوتے جو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے مگر تھوڑے ان میں سے جن کو ہم نے ان میں سے نجات بخشی اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ اسی عیش میں پڑے رہے جس میں تھے اور وہ مجرم تھےوَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ﴿117﴾
اور تیرا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ہلاک کردے کسی ظلم کی پاداش میں جب کہ ان کے باشندے اصلاح میں سرگرم ہوںوَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ﴿118﴾
اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا چھوڑتا اور وہ برابر اختلاف میں رہیں گےاِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴿119﴾
بجز ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے اور اسی لیے ان کو اس نے پیدا کیا ہے اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گاوَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿120﴾
اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے ہر ایک تمہیں سنا رہے ہیں جن سے تمہارے دل کو تقویت دیں، اور ان میں تمہارے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لیے ان میں نصیحت اور یاد دہانی ہےوَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ﴿121﴾
اور جو لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ تم اپنے ڈھرّے پر چلو ہم اپنی روش پر چلتے رہیں گےوَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ﴿122﴾
اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہیںوَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿123﴾
اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے علم میں ہے اور وہی تمام امور کا مرجع ہے تو اسی کی بندگی کرو اور اسی پر بھروسہ کرو اور تیرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے بیخبر نہیں ہے