12. Yusufيوسف

Joseph · Meccan · 111 ayahs · 12 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫﴿1﴾

    الر۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق واضح کرنے والی ہے۔
  2. اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿2﴾

    ہم نے اس کو ایسا قرآن بنا کر اتارا ہے جو عربی زبان میں ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔
  3. نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ﴿3﴾

    (اے پیغمبر) ہم نے تم پر یہ قرآن جو وحی کے ذریعے بھیجا ہے اس کے ذریعے ہم تمہیں ایک بہترین واقعہ سناتے ہیں، جبکہ تم اس سے پہلے اس (واقعے سے) بالکل بیخبر تھے۔
  4. اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ﴿4﴾

    (یہ اس وقت کی بات ہے) جب یوسف نے اپنے والد (یعقوب ؑ) سے کہا تھا کہ : ابا جان ! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔
  5. قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿5﴾

    انہوں نے کہا : بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے لیے کوئی سازش تیار کریں، کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
  6. وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿6﴾

    اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کرے گا، اور تمہیں تمام باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائے گا (جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم بھی داخل ہے) اور تم پر اور یعقوب کی اولاد پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جیسے اس نے اس سے پہلے تمہارے ماں باپ پر اور ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی۔ یقینا تمہارا پروردگار علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
  7. لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿7﴾

    حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ (تم سے یہ واقعہ) پوچھ رہے ہیں، ان کے لیے یوسف اور ان کے بھائیوں (کے حالات میں) بڑی نشانیاں ہیں۔
  8. اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ﴿8﴾

    (یہ اس وقت کا واقعہ ہے) جب یوسف کے ان (سوتیلے) بھائیوں نے (آپس میں) کہا تھا کہ : یقینی طور پر ہمارے والد کو ہمارے مقابلے میں یوسف اور اس کے (حقیقی) بھائی (بنیامین) سے زیادہ محبت ہے، حالانکہ ہم (ان کے لیے) ایک مضبوط جتھ بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے والد کسی کھلی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
  9. اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ﴿9﴾

    (اب اس کا حل یہ ہے کہ) یوسف کو قتل ہی کرڈالو، یا اسے کسی اور سرزمین میں پھینک آؤ، تاکہ تمہارے والد کی ساری توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے، اور یہ سب کرنے کے بعد پھر (توبہ کر کے) نیک بن جاؤ۔
  10. قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ﴿10﴾

    انہی میں سے ایک کہنے والے نے کہا : یوسف کو قتل تو نہ کرو، البتہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں پھینک آؤ، تاکہ کوئی قافلہ اسے اٹھا کرلے جائے۔
  11. قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ﴿11﴾

    (چنانچہ) ان بھائیوں نے (اپنے والد سے) کہا کہ : ابا ! یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر اطمینان نہیں کرتے ؟ حالانکہ اس میں کوئی شک نہ ہونا چاہیے کہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں۔
  12. اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿12﴾

    کل آپ اسے ہمارے ساتھ (تفریح کے لیے) بھیج دیجیے، تاکہ وہ کھائے پیے، اور کچھ کھیل کود لے۔ اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔
  13. قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ﴿13﴾

    یعقوب نے کہا : تم اسے لے جاؤ گے تو مجھے (اس کی جدائی کا) غم ہوگا۔ اور مجھے یہ اندیشہ بھی ہے کہ کسی وقت جب تم اس کی طرف سے غافل ہو، تو کوئی بھیڑیا اسے کھاجائے۔
  14. قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ﴿14﴾

    وہ بولے : ہم ایک مضبوط جتھے کی شکل میں ہیں، اگر پھر بھی بھیڑیا اسے کھاجائے تو ہم تو بالکل ہی گئے گزرے ہوئے۔
  15. فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿15﴾

    پھر ہوا یہ کہ جب وہ ان کو ساتھ لے گئے، اور انہوں نے یہ طے کر ہی رکھا تھا کہ انہیں ایک اندھے کنویں میں ڈال دیں گے، (چنانچہ ڈال بھی دیا) تو ہم نے یوسف پر وحی بھیجی کہ (ایک وقت آئے گا جب) تم ان سب کو جتلاؤ گے کہ انہوں نے یہ کیا کام کیا تھا۔ اور اس وقت انہیں پتہ بھی نہ ہوگا (کہ تم کون ہو ؟)
  16. وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ﴿16﴾

    اور رات کو وہ سب اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچ گئے۔
  17. قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ﴿17﴾

    کہنے لگے : ابا جی ! یقین جانیے، ہم دوڑنے کا مقابلہ کرنے چلے گئے تھے، اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، اتنے میں ایک بھیڑیا اسے کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے، چاہے ہم کتنے ہی سچے ہوں۔
  18. وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ﴿18﴾

    اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کرلے آئے۔ ان کے والد نے کہا : (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات بنا لی ہے۔ اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔
  19. وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴿19﴾

    اور (دوسری طرف جس جگہ انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالا تھا، وہاں) ایک قافلہ آیا۔ قافلے کے لوگوں نے ایک آدمی پانی لانے کے لیے بھیجا، اور اس نے اپنا ڈول (کنویں میں) ڈالا تو (وہاں یوسف ؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا : لو خوشخبری سنو ! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور قافلے والوں نے انہیں ایک تجارت کا مال سمجھ کر چھپالیا، اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، اللہ کو اس کا پورا علم تھا۔
  20. وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ع﴿20﴾

    اور (پھر) انہوں نے یوسف کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا جو گنتی کے چند درہموں کی شکل میں تھی، اور ان کو یوسف سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
  21. وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿21﴾

    اور مصر کے جس آدمی نے انہیں خریدا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ : اس کو عزت سے رکھنا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا، یا پھر ہم اسے بیٹا بنالیں گے، اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کے قدم جمائے تاکہ انہیں باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائیں، اور اللہ کو اپنے کام پر پورا قابو حاصل ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔
  22. وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿22﴾

    اور جب یوسف اپنی بھرپور جوانی کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا، اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ان کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
  23. وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾

    اور جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے، اس نے ان کو ورغلانے کی کوشش کی، اور سارے دروازوں کو بند کردیا، اور کہنے لگی : آ بھی جاؤ !۔ یوسف نے کہا : اللہ کی پناہ ! وہ میرا آقا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ ظلم کرتے ہیں انہیں فلاح حاصل نہیں ہوتی۔
  24. وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ﴿24﴾

    اس عورت نے تو واضح طور پر یوسف (کے ساتھ برائی) کا ارادہ کرلیا تھا، اور یوسف کے دل میں بھی اس عورت کا خیال آچلا تھا، اگر وہ اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھ لیتے، ہم نے ایسا اس لیے کیا تاکہ ان سے برائی اور بےحیائی کا رخ پھیر دیں۔ بیشک وہ ہمارے منتخب بندوں میں سے تھے۔
  25. وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿25﴾

    اور دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے، اور (اس کشمکش میں) اس عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے کی طرف سے پھاڑ ڈالا۔ اتنے میں دونوں نے اس عورت کے شوہر کو دروازے پر کھڑا پایا۔ اس عورت نے فورا (بات بنانے کے لیے اپنے شوہر سے) کہا کہ : جو کوئی تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ اسے قید کردیا جائے، یا کوئی اور دردناک سزا دی جائے ؟
  26. قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿26﴾

    یوسف نے کہا : یہ خود تھیں جو مجھے ورغلا رہی تھیں، اور اس عورت کے خاندان ہی میں سے ایک گواہی دینے والے نے یہ گواہی دی کہ : اگر یوسف کی قمیص سامنے کی طرف سے پھٹی ہو تو عورت سچ کہتی ہے، اور وہ جھوٹے ہیں۔
  27. وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿27﴾

    اور اگر ان کی قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹ بولتی ہے، اور یہ سچے ہیں۔
  28. فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ﴿28﴾

    پھر جب شوہر نے دیکھا کہ ان کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا کہ : یہ تم عورتوں کی مکاری ہے، واقعی تم عورتوں کی مکاری بڑی سخت ہے۔
  29. یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ع﴿29﴾

    یوسف ! تم اس بات کا خیال نہ کرو، اور اے عورت ! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینی طور پر تو ہی خطاکار تھی۔
  30. وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿30﴾

    اور شہر میں کچھ عورتیں یہ باتیں کرنے لگیں کہ : عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کو ورغلا رہی ہے۔ اس نوجوان کی محبت نے اسے فریفتہ کرلیا ہے۔ ہمارے خیال میں تو یقینی طور پر وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
  31. فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ﴿31﴾

    چنانچہ جب اس (عزیز کی بیوی) نے ان عورتوں کے مکر کی یہ بات سنی تو اس نے پیغام بھیج کر انہیں (اپنے گھر) بلوا لیا۔ اور ان کے لیے ایک تکیوں والی نشست تیار کی، اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چاقو دے دیا۔ اور (یوسف سے) کہا کہ : ذرا باہر نکل کر ان کے سامنے آجاؤ، اب جو ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو انہیں حیرت انگیز (حد تک حسین) پایا، اور (ان کے حسن سے مبہوت ہوکر) اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے، اور بول اٹھیں کہ : حاشا للہ ! یہ شخص کوئی انسان نہیں ہے، ایک قابل تکریم فرشتے کے سوا یہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔
  32. قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ﴿32﴾

    عزیز کی بیوی نے کہا : اب دیکھو ! یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے طعنے دیے تھے۔ یہ بات واقعی سچ ہے کہ میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لیے اس پر ڈورے ڈالے، مگر یہ بچ نکلا، اور اگر یہ میرے کہنے پر عمل نہیں کرے گا، تو اسے قید ضرور کیا جائے گا، اور یہ ذلیل ہو کر رہے گا۔
  33. قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿33﴾

    یوسف نے دعا کی کہ : یا رب ! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں، اس کے مقابلے میں قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ اور اگر تو نے مجھے ان کی چالوں سے محفوظ نہ کیا تو میرا دل بھی ان کی طرف کھنچنے لگے گا، اور جو لوگ جہالت کے کام کرتے ہیں، ان میں میں بھی شامل ہوجاؤں گا۔
  34. فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿34﴾

    چنانچہ یوسف کے رب نے ان کی دعا قبول کی، اور ان عورتوں کی چالوں سے انہیں محفوظ رکھا۔ بیشک وہی ہے جو ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔
  35. ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ع﴿35﴾

    پھر ان لوگوں نے (یوسف کی پاکدامنی کی) بہت سی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی مناسب یہی سمجھا کہ انہیں ایک مدت تک قید خانے بھیج دیں۔
  36. وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿36﴾

    اور یوسف کے ساتھ دو اور نوجوان قید خانے میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے (ایک دن یوسف سے) کہا کہ : میں (خواب میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔ اور دوسرے نے کہا کہ : میں (خواب میں) یوں دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹی اٹھائی ہوئی ہے (اور) پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں۔ ذرا ہمیں اس کی تعبیر بتاؤ، ہمیں تم نیک آدمی نظر آتے ہو۔
  37. قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿37﴾

    یوسف نے کہا : جو کھانا تمہیں (قید خانے میں) دیا جاتا ہے، وہ ابھی آنے نہیں پائے گا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت بتادوں گا یہ اس علم کا ایک حصہ ہے جو میرے پروردگار نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ (مگر اس سے پہلے میری ایک بات سنو) بات یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو آخرت کے منکر ہیں۔
  38. وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿38﴾

    اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید کا عقیدہ) ہم پر اور تمام لوگوں پر اللہ کے فضل کا حصہ ہے، لیکن اکثر لوگ (اس نعمت کا) شکر ادا نہیں کرتے۔
  39. یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ﴿39﴾

    اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں، یا وہ ایک اللہ جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے ؟
  40. مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿40﴾

    اس کے سوا جس جس کی تم عبادت کرتے ہو، ان کی حقیقت چند ناموں سے زیادہ نہیں ہے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حاکمت اللہ کے سوا کسی کو حاصل ہیں ہے، اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
  41. یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ﴿41﴾

    اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! (اب اپنے خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ (قید سے آزاد ہوکر) اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔ رہا دوسرا تو اسے سولی دی جائے گی، جس کے نتیجے میں پرندے اس کے سر کو (نوچ کر) کھائیں گے۔ جس معاملے میں تم پوچھ رہے تھے، اس کا فیصلہ (اسی طرح) ہوچکا ہے۔
  42. وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ع﴿42﴾

    اور ان دونوں میں سے جس کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا، اس سے یوسف نے کہا کہ : اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا۔ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی کہ وہ اپنے آقا سے یوسف کا تذکرہ کرتا۔ چنانچہ وہ کئی برس قید خانے میں رہے۔
  43. وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ﴿43﴾

    اور (چند سال بعد مصر کے) بادشاہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا کہ : میں (خواب میں) کیا دیکھتا ہوں کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، نیز سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں۔ اے درباریو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کا مطلب بتاؤ۔
  44. قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ﴿44﴾

    انہوں نے کہا کہ : یہ پریشان قسم کے خیالات (معلوم ہوتے) ہیں، اور ہم خوابوں کی تعبیر کے علم سے واقف (بھی) نہیں۔
  45. وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ﴿45﴾

    اور ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوگیا تھا، اور اسے ایک لمبے عرصے کے بعد (یوسف کی) بات یاد آئی تھی، اس نے کہا کہ : میں آپ کو اس خواب کی تعبیر بتائے دیتا ہوں، بس مجھے (یوسف کے پاس قید خانے میں) بھیج دیجیے۔
  46. یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿46﴾

    (چنانچہ اس نے قید خانے میں پہنچ کر یوسف سے کہا) یوسف ! اے وہ شخص جس کی ہر بات سچی ہوتی ہے، تم ہمیں اس (خواب) کا مطلب بتاؤ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور دوسرے سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں، شاید میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں (اور انہیں خواب کی تعبیر بتاؤں) تاکہ وہ بھی حقیقت جان لیں۔
  47. قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ﴿47﴾

    یوسف نے کہا : تم سات سال تک مسلسل غلہ زمین میں اگاؤ گے، اس دوران جو فصل کاٹو، اس کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دینا، البتہ تھوڑا سا غلہ جو تمہارے کھانے کے کام آئے، (وہ نکال لیا کرو)۔
  48. ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ﴿48﴾

    پھر اس کے بعد تم پر سات سال ایسے آئیں گے جو بڑے سخت ہوں گے، اور جو کچھ ذخیرہ تم نے ان سالوں کے واسطے جمع کر رکھا ہوگا، اس کو کھا جائیں گے، ہاں البتہ تھوڑا سا حصہ جو تم محفوظ کرسکو گے (صرف وہ بچ جائے گا)
  49. ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ع﴿49﴾

    پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہوگی، اور وہ اس میں انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔
  50. وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ﴿50﴾

    اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو (یعنی یوسف کو) میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ جب ان کے پاس ایلچی پہنچا تو یوسف نے کہا : اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈا لے تھے ؟ میرا پروردگار ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔
  51. قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿51﴾

    بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر ان سے) کہا : تمہارا کیا قصہ تھا جب تم نے یوسف کو ورغلا نے کی کوشش کی تھی ؟ ان سب عورتوں نے کہا کہ : حاشا للہ ! ہم کو ان میں ذرا بھی کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی۔ عزیز کی بیوی نے کہا کہ : اب تو حق بات سب پر کھل ہی گئی ہے۔ میں نے ہی ان کو ورغلانے کی کوشش کی تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ بالکل سچے ہیں۔
  52. ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ﴿52﴾

    (جب یوسف کو قید خانے میں اس گفتگو کی خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ :) یہ سب کچھ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی، اور یہ بھی کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں اللہ ان کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔
  53. وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿53﴾

    اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
  54. وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ﴿54﴾

    اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے خالص اپنا (معاون) بناؤں گا۔ چنانچہ جب (یوسف بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو اس نے کہا : آج سے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا، اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا۔
  55. قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ﴿55﴾

    یوسف نے کہا کہ : آپ مجھے ملک کے خزانوں (کے انتظام) پر مقرر کردیجیے۔ یقین رکھیے کہ مجھے حفاظت کرنا خوب آتا ہے (اور) میں (اس کام کا) پورا علم رکھتا ہوں۔
  56. وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿56﴾

    اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں ایسا اقتدار عطا کیا کہ وہ اس میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنائیں۔ ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیک لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔
  57. وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ع﴿57﴾

    اور آخرت کا جو اجر ہے وہ ان لوگوں کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لاتے اور تقوی پر کاربند رہتے ہیں
  58. وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ﴿58﴾

    اور (جب قحط پڑا تو) یوسف کے بھائی آئے، اور ان کے پاس پہنچے۔ تو یوسف نے انہیں پہچان لیا، اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔
  59. وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ﴿59﴾

    اور جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو ان سے کہا کہ (آئندہ) اپنے باپ شریک بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا۔ کیا تم یہ نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں پیمانہ بھر بھر کردیتا ہوں، اور میں بہترین مہمان نواز بھی ہوں ؟
  60. فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ﴿60﴾

    اب اگر تم اسے لے کر نہ آئے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہوگا، اور تم میرے پاس بھی نہ پھٹکنا۔
  61. قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ﴿61﴾

    وہ بولے : ہم اس کے والد کو اس کے بارے میں بہلانے کی کوشش کریں گے (کہ وہ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں) اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔
  62. وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿62﴾

    اور یوسف نے اپنے نوکروں سے کہہ دیا کہ وہ ان (بھائیوں) کا مال (جس کے بدلے انہوں نے غلہ خریدا ہے) انہی کے کجاووں میں رکھ دیں، تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچیں تو اپنے مال کو پہچان لیں۔ شاید (اس احسان کی وجہ سے) وہ دوبارہ آئیں۔
  63. فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿63﴾

    چنانچہ جب وہ اپنے والد کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے کہا : ابا جان ! آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ لہذا آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، تاکہ ہم (پھر) غلہ لاسکیں، اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔
  64. قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴿64﴾

    والد نے کہا : کیا میں اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اسکے بھائی (یوسف) کے بارے میں تم پر پہلے کیا تھا ؟ خیر ! اللہ سب سے بڑھ کر نگہبان ہے، اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
  65. وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ﴿65﴾

    اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی ان کو لوٹا دیا گیا ہے، وہ کہنے لگے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہمارا مال ہے جو ہمیں لوٹا دیا گیا ہے، اور (اس مرتبہ) ہم اپنے گھر والوں کے لیے اور غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حٖفاظت کریں گے، اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لے کر آئیں گے (اس طرح) یہ زیادہ غلہ بڑی آسانی سے مل جائے گا۔
  66. قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ﴿66﴾

    والد نے کہا : میں اس (بنیامین) کو تمہارے ساتھ اس وقت تک ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لے کر آؤ گے، الا یہ کہ تم (واقعی) بےبس ہوجاؤ۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنے والد کو یہ عہد دے دیا تو والد نے کہا : جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔
  67. وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ﴿67﴾

    اور (ساتھ ہی یہ بھی) کہا کہ : میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا میں اللہ کی مشیت سے تمہیں بچا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔
  68. وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿68﴾

    اور جب وہ (بھائی) اسی طرح (مصر میں) داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے کہا تھا، تو یہ عمل اللہ کی مشیت سے ان کو ذڑا بھی بچانے والا نہیں تھا، لیکن یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو انہوں نے پوری کرلی۔ بیشک وہ ہمارے سکھائے ہوئے علم کے حامل تھے، لیکن اکثر لوگ (معاملے کی حقیقت) نہیں جانتے
  69. وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿69﴾

    اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس خاص جگہ دی، (اور انہیں) بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں، لہذا تم ان باتوں پر رنجیدہ نہ ہونا جو یہ (دوسرے بھائی) کرتے رہے ہیں۔
  70. فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ﴿70﴾

    پھر جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا پیالہ اپنے (سگے) بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے پکار کر کہا کہ : اے قافلے والو ! تم چور ہو، ۔
  71. قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ﴿71﴾

    انہوں نے ان کی طرف مڑ کر پوچھا کہ : کیا چیز ہے جو تم سے گم ہوگئی ہے ؟
  72. قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ﴿72﴾

    انہوں نے کہا کہ : ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ِ اور جو شخص اسے لاکر دے گا، اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (انعام میں) ملے گا، اور میں اس (انعام کے دلوانے) کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
  73. قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ﴿73﴾

    وہ (بھائی) بولے : اللہ کی قسم ! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد پھیلانے کے لیے نہیں آئے تھے، اور نہ ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں۔
  74. قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ﴿74﴾

    انہوں نے کہا کہ : اگر تم لوگ جھوٹے (ثابت) ہوئے تو اس کی کیا سزا ہوگی ؟
  75. قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ﴿75﴾

    انہوں نے کہا : اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے کجاوے میں سے وہ (پیالہ) مل جائے، وہ خود سزا میں دھر لیا جائے۔ جو لوگ ظلم کرتے ہیں، ہم ان کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں،
  76. فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ﴿76﴾

    چنانچہ یوسف نے اپنے (سگے) بھائی کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی، پھر اس پیالے کو اپنے (سگے) بھائی کے تھیلے میں سے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی۔ اللہ کی یہ مشیت نہ ہوتی تو یوسف کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لیتے، اور ہم جس کو چاہتے ہیں، اس کے درجے بلند کردیتے ہیں، اور جتنے علم والے ہیں، ان سب کے اوپر ایک بڑا علم رکھنے والا موجود ہے۔
  77. قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ﴿77﴾

    (بہرحال) وہ بھائی بولے کہ : اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں، کیونکہ) اس کا ایک بھائی اس سے پہلے بھی چوری کرچکا ہے۔ اس پر یوسف نے ان پر ظاہر کیے بغیر چپکے سے (دل میں) کہا کہ : تم تو اس معاملے میں کہیں زیادہ برے ہو۔ اور جو بیان تم دے رہے ہو، اللہ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے۔
  78. قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿78﴾

    (اب) وہ کہنے لگے کہ : اے عزیز ! اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے، اس لیے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو اپنے پاس رکھ لیجیے، ہم آپ کو ان لوگوں میں سے سمجھتے ہیں جو احسان کیا کرتے ہیں۔
  79. قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ع﴿79﴾

    یوسف نے کہا : اس (ناانصافی) سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جس شخص کے پاس سے ہماری چیز ملی ہے، اس کو چھوڑ کر کسی اور کو پکڑ لیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یقینی طور پر ہم ظالم ہوں گے۔
  80. فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ﴿80﴾

    چنانچہ جب وہ یوسف سے مایوس ہوگئے تو الگ ہو کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے۔ ان سب میں جو بڑا تھا، اس نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر عہد لیا تھا، اور اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں جو قصور کرچکے ہو، (وہ بھی معلوم ہے) لہذا میں تو اس ملک سے اس وقت تک نہیں ٹلوں گا جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرمادے۔ اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
  81. اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ﴿81﴾

    جاؤ۔ اپنے والد کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے کہو کہ : ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کرلی تھی اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی ہے، اور غیب کی نگہبانی تو ہمارے بس میں نہیں تھی۔
  82. وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿82﴾

    اور جس بستی میں ہم تھے اس سے پوچھ لیجیے، اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں، اس سے تحقیق کرلیجیے، یہ بالکل پکی بات ہے کہ ہم سچے ہیں۔
  83. قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿83﴾

    (چنانچہ یہ بھائی یعقوب ؑ کے پاس گئے، اور ان سے وہی بات کہی جو بڑے بھائی نے سکھائی تھی) یعقوب نے (یہ سن کر) کہا : نہیں، بلکہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات بنا لی ہے۔ اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے، کچھ بعید نہیں کہ اللہ میرے پاس ان سب کو لے آئے۔ بیشک اس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔
  84. وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ﴿84﴾

    اور (یہ کہہ کر) انہوں نے منہ پھیرلیا، اور کہنے لگے : ہائے یوسف ! اور ان کی دونوں آنکھیں صدمے سے (روتے روتے) سفید پڑگئی تھیں، اور وہ دل ہی دل میں گھٹے جاتے تھے۔
  85. قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ﴿85﴾

    ان کے بیٹے کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ یوسف کو یاد کرنا نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ بالکل گھل کر رہ جائیں گے، یا ہلاک ہو بیٹھیں گے۔
  86. قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿86﴾

    یعقوب نے کہا : میں اپنے رنج و غم کی فریاد (تم سے نہیں) صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔
  87. یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ﴿87﴾

    میرے بیٹو ! جاؤ، اور یوسف اور اس کے بھائی کا کچھ سراغ لگاؤ، اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقین جانو، اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔
  88. فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ﴿88﴾

    چنانچہ جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے (یوسف سے) کہا : اے عزیز ! ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سخت مصیبت پڑی ہوئی ہے، اور ہم ایک معمولی سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں پورا پورا غلہ دے دیجیے، اور اللہ کے لیے ہم پر احسان کیجیے، یقینا اللہ اپنی خاطر احسان کرنے والوں کو بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔
  89. قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ﴿89﴾

    یوسف نے کہا : تمہیں کچھ پتہ ہے کہ تم جب جہالت میں مبتلا تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟
  90. قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿90﴾

    (اس پر) وہ بول اٹھے : ارے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ یوسف نے کہا : میں یوسف ہوں، اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تقوی اور صبر سے کام لیتا ہے، تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
  91. قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ﴿91﴾

    انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے تم کو ہم پر ترجیح دی ہے، اور ہم یقینا خطا کار تھے۔
  92. قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴿92﴾

    یوسف بولے : آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
  93. اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ع﴿93﴾

    میرا یہ قمیص لے جاؤ، اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا، اس سے ان کی بینائی واپس آجائے گی، اور اپنے سارے گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔
  94. وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ﴿94﴾

    اور جب یہ قافلہ (مصر سے کنعان کی طرف) روانہ ہوا تو ان کے والد نے (کنعان میں آس پاس کے لوگوں سے) کہا کہ : اگر تم مجھے یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے، تو مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔
  95. قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ﴿95﴾

    لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ ابھی تک اپنی پرانی غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہیں۔
  96. فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿96﴾

    پھر جب خوشخبری دینے والا پہنچ گیا تو اس نے (یوسف کی) قمیص ان کے منہ پر ڈال دی، اور فورا ان کی بینائی واپس آگئی۔ انہوں نے (اپنے بیٹوں سے) کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے ؟
  97. قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ﴿97﴾

    وہ کہنے لگے : ابا جان ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا فرماییے۔ ہم یقینا بڑے خطا کار تھے۔
  98. قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿98﴾

    یعقوب نے کہا : میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
  99. فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ﴿99﴾

    پھر جب یہ سب لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی، اور سب سے کہا کہ : آپ سب مصر میں داخل ہوجائیں، جہاں انشاء اللہ سب چین سے رہیں گے۔
  100. وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿100﴾

    اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا، اور وہ سب ان کے سامنے سجدے میں گرپڑے، اور یوسف نے کہا : ابا جان ! یہ میرے پرانے خواب کی تعبیر ہے جسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا، اور اس نے مجھ پر بڑا احسان فرمایا کہ مجھے قید خانے سے نکال دیا، اور آپ لوگوں کو دیہات سے یہاں لے آیا۔ حالانکہ اس سے پہلے شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ میرا پروردگار جو کچھ چاہتا ہے، اس کے لیے بڑی لطیف تدبیریں کرتا ہے۔ بیشک وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔
  101. رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ﴿101﴾

    میرے پروردگار ! تو نے مجھے حکومت سے بھی حصہ عطا فرمایا، اور مجھے تعبیر خواب کے علم سے بھی نوازا۔ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا رکھوالا ہے۔ مجھے اس حالت میں دنیا سے اٹھانا کہ میں تیرا فرمانبردار ہوں، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کرنا۔
  102. ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ﴿102﴾

    (اے پیغمبر) یہ تمام واقعہ غیب کی خبروں کا ایک حصہ ہے جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں، اور تم اس وقت ان (یوسف کے بھائیوں) کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے سازش کر کے اپنا فیصلہ پختہ کرلیا تھا (کہ یوسف کو کنویں میں ڈالیں گے)۔
  103. وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿103﴾

    اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، چاہے تمہارا کیسا ہی دل چاہتا ہو۔
  104. وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿104﴾

    حالانکہ تم ان سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتے۔ یہ تو دنیا جہان کے سب لوگوں کے لیے بس ایک نصیحت کا پیغام ہے۔
  105. وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ﴿105﴾

    اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے، مگر یہ ان سے منہ موڑ جاتے ہیں۔
  106. وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ﴿106﴾

    اور ان میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان رکھتے بھی ہیں تو اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔
  107. اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿107﴾

    بھلا کیا ان لوگوں کو اس بات کا ذرا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کے عذاب کی کوئی بلا آکر ان کو لپیٹ لے، یا ان پر قیامت اچانک ٹوٹ پڑے اور انہیں پہلے سے احساس بھی نہ ہو ؟
  108. قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿108﴾

    (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : یہ میرا راستہ ہے، میں بھی پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اور جنہوں نے میری پیروی کی ہے وہ بھی، اور اللہ (ہر قسم کے شر سے) پاک ہے، اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
  109. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿109﴾

    اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھیجے وہ سب مختلف بستیوں میں بسنے والے انسان ہی تھے جن پر ہم وحی بھیجتے تھے۔ تو کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کی قوموں کا انجام کیسا ہوا ؟ اور آخرت کا گھر یقینا ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جنہوں نے تقوی اختیار کیا۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
  110. حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴿110﴾

    (پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ان کی قوموں پر عذاب آنے میں کچھ دیر لگی) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور کافر لوگ یہ سمجھنے لگے کہ انہیں جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں تو ان پیغمبروں کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی (یعنی کافروں پر عذاب آیا) اور جن کو ہم چاہتے تھے، انہیں بچا لیا گیا، اور جو لوگ مجرم ہوتے ہیں، ان سے ہمارے عذاب کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
  111. لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿111﴾

    یقینا ان کے واقعات میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے بڑا عبرت کا سامان ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو جھوٹ موٹ گھڑ لی گئی ہو، بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں آچکی ہیں ان کی تصدیق ہے، اور ہر بات کی وضاحت اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان۔