11. Hudهود

Hud · Meccan · 123 ayahs · 10 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ﴿1﴾

    الر یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتوں کو (دلائل سے) مضبوط کیا گیا ہے، پھر ایک ایسی ذات کی طرف سے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو حکمت کی مالک اور ہر بات سے باخبر ہے۔
  2. اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ﴿2﴾

    (یہ کتاب پیغمبر کو حکم دیتی ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہیں) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں اس کی طرف سے تمہیں آگاہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔
  3. وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ﴿3﴾

    اور یہ (ہدایت دیتا) کہ : اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ تمہیں ایک مقرر وقت تک (زندگی سے) اچھا لطف اٹھانے کا موقع دے گا، اور ہر اس شخص کو جس نے زیادہ عمل کیا ہوگا، اپنی طرف سے زیادہ اجر دے گا۔ اور اگر تم نے منہ موڑا تو مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
  4. اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿4﴾

    اللہ ہی کے پاس تمہیں لوٹ کر جانا ہے، اور وہ ہر چیز کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
  5. اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿5﴾

    دیکھو یہ (کافر) لوگ اپنے سینوں کو اس سے چھپنے کے لیے دہرا کرلیتے ہیں۔ یاد رکھو جب یہ اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں، اللہ ان کی وہ باتیں بھی جانتا ہے جو یہ چھپاتے ہیں، اور وہ بھی جو یہ علی الاعلان کرتے ہیں، یقینا اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کا (بھی) پورا پورا علم رکھتا ہے۔
  6. وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿6﴾

    اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو وہ اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی جانتا ہے، اور عارضی ٹھکانے کو بھی۔ ہر بات ایک واضح کتاب میں درج ہے۔
  7. وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿7﴾

    اور وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل کے اعتبار سے تم میں کون زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر تم (لوگوں سے) یہ کہو کہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہیں گے کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔
  8. وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿8﴾

    اور اگر ہم ان لوگوں سے کچھ عرصے کے لیے عذاب کو موخر کردیں تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ : آخر کس چیز نے اس (عذاب) کو روک رکھا ہے ؟ ارے جس دن وہ عذاب آگیا تو وہ ان سے ٹلائے نہیں ٹلے گا، اور جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں، وہ ان کو چاروں طرف سے گھیر لے گی۔
  9. وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ﴿9﴾

    اور جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھاتے دیتے ہیں، پھر وہ اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ مایوس (اور) ناشکرا بن جاتا ہے۔
  10. وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ﴿10﴾

    اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے نعمتوں کا مزہ چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ (اس وقت) وہ اترا کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔
  11. اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿11﴾

    ہاں ! مگر جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں، ان کو مغفرت اور بڑا اجر نصیب ہوگا۔
  12. فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ﴿12﴾

    پھر (اے پیغمبر) جو وحی تم پر نازل کی جارہی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ تم اس کا کوئی حصہ چھوڑ بیٹھو ؟ اور اس سے تمہارا دل تنگ ہوجائے ؟ کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (محمد ﷺ پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا، یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آیا ؟ تم تو ایک آگاہ کرنے والے ہو، اور اللہ ہے جو ہر چیز کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔
  13. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿13﴾

    بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ وحی اس (پیغمبر) نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے ؟ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا لاؤ، اور (اس کام میں مدد کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔
  14. فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿14﴾

    اس کے بعد اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو (اے لوگو) یقین کرلو کہ یہ وحی صرف اللہ کے علم سے اتری ہے، اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تو کیا اب تم فرمانبردار بنو گے ؟
  15. مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ﴿15﴾

    جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی سج دھج چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
  16. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿16﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہے، اور جو کچھ کارگزاری انہوں نے کی تھی، وہ آخرت میں بیکار ہوجائے گی، اور جو عمل وہ کر رہے ہیں، (آخرت کے لحاظ سے) کالعدم ہیں۔
  17. اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿17﴾

    بھلا بتاؤ کہ وہ شخص (ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے) جو اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی روشن ہدایت (یعنی قرآن) پر قائم ہو، جس کے پیچھے اس کی حقانیت کا ایک ثبوت تو خود اسی میں آیا ہے، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی (اس کی حقانیت کا ثبوت ہے) جو لوگوں کے لیے قابل اتباع اور باعث رحمت تھی۔ ایسے لوگ اس (قرآن پر) ایمان رکھتے ہیں۔ اور ان گروہوں میں سے جو شخص اس کا انکار کرے، تو دوزخ ہی اس کی طے شدہ جگہ ہے۔ لہذا اس (قرآن) کے بارے میں شک میں نہ پڑو۔ یقین رکھو کہ یہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لارہے۔
  18. وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ﴿18﴾

    اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ ایسے لوگوں کی ان کے رب کے پاس پیشی ہوگی، اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ : یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹی باتیں لگائی تھیں۔ سب لوگ سن لیں کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر۔
  19. الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿19﴾

    جو اللہ کے راستے سے دوسروں کو روکتے تھے، اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور آخرت کے تو وہ بالکل ہی منکر تھے۔
  20. اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ﴿20﴾

    ایسے لوگ روئے زمین پر کہیں بھی اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے، اور اللہ کے سوا انہیں کوئی یارومددگار میسر نہیں آسکتے۔ ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ (حق بات کو نفرت کی وجہ سے) نہ سن سکتے تھے، اور ان کو (حق) سجھائی دیتا تھا۔
  21. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿21﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کرلیا تھا، اور جو معبود انہوں نے گھڑ رکھے تھے، انہیں ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔
  22. لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ﴿22﴾

    لامحالہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
  23. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿23﴾

    (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے آگے جھک کر مطمئن ہوگئے ہیں، تو وہ جنت کے بسنے والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
  24. مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ع﴿24﴾

    ان دو گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا دیکھتا بھی ہو، سنتا بھی ہو۔ کیا یہ دونوں اپنے حالات میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟
  25. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ﴿25﴾

    اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ : میں تمہیں اس بات سے صاف صاف آگاہ کرنے والا پیغمبر ہوں۔
  26. اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ﴿26﴾

    کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ یقین جانو مجھے تم پر ایک دکھ دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
  27. فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ﴿27﴾

    اس پر ان کی قوم کے وہ سردار لوگ جنہوں نے کفر اختیار کرلیا تھا، کہنے لگے کہ : ہمیں تو اس سے زیادہ (تم میں) کوئی بات نظر نہیں آرہی کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو، اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ صرف وہ لوگ تمہارے پیچھے لگے ہیں جو ہم میں سب سے زیادہ بےحیثیت ہیں، اور وہ بھی سطحی طور پر رائے قائم کرکے۔ اور ہمیں تم میں کوئی ایسی بات بھی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے ہم پر تمہیں کوئی فضیلت حاصل ہو، بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم سب جھوٹے ہو۔
  28. قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ﴿28﴾

    نوح نے کہا : اے میری قوم ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی ایک روشن ہدایت پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے خاص اپنے پاس سے ایک رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہے، پھر بھی وہ تمہیں سجھائی نہیں دے رہی، تو کیا ہم اس کو تم پر زبردستی مسلط کردیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو ؟
  29. وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ﴿29﴾

    اور اے میری قوم ! میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر اللہ کے سوا کسی اور نے ذمے نہیں لیا، اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں، میں ان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں، ان سب کو اپنے رب سے جا ملنا ہے۔ لیکن میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کی باتیں کر رہے ہو۔
  30. وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿30﴾

    اور اے میری قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچائے گا ؟ کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دو گے ؟
  31. وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿31﴾

    اور میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے قبضے میں اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی ساری باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ اور جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں، ان کے بارے میں بھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ انہیں کبھی کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر میں ان کے بارے میں ایسی باتیں کہوں تو میرا شمار یقینا ظالموں میں ہوگا۔
  32. قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿32﴾

    انہوں نے کہا کہ : اے نوح ! تم ہم سے بحث کرچکے، اور بہت بحث کرچکے۔ اب اگر تم سچے ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی دھکمی ہمیں دے رہے ہو۔
  33. قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ﴿33﴾

    نوح نے کہا کہ : اسے تو اللہ ہی تمہارے پاس لے آئے گا، اگر چاہے گا، اور تم اسے بےبس نہیں کرسکتے۔
  34. وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ﴿34﴾

    اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں تو میری خیر خواہی اس صورت میں تمہارے کوئی کام نہیں آسکتی جب اللہ ہی نے (تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) تمہیں گمراہی کرنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ وہی تمہارا پروردگار ہے، اور اسی کے پاس تمہیں واپس لے جایا جائے گا۔
  35. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ع﴿35﴾

    بھلا کیا (عرب کے یہ کافر) لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر میں نے اسے گھڑا ہوگا تو میرے جرم کا وبال مجھی پر ہوگا، اور جو جرم تم کر رہے ہو، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
  36. وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ﴿36﴾

    اور نوح کے پاس وحی بھیجی گئی کہ : تمہاری قوم میں سے جو لوگ اب تک ایمان لاچکے ہیں، ان کے سوا اب کوئی اور ایمان نہیں لائے گا۔ لہذا جو حرکتیں یہ لوگ کرتے رہے ہیں، تم ان پر صدمہ نہ کرو۔
  37. وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿37﴾

    اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ، اور جو لوگ ظالم بن چکے ہیں ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا۔ یہ اب غرق ہو کر رہیں گے۔
  38. وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ﴿38﴾

    چنانچہ وہ کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی ان کی قوم کے کچھ سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ نوح نے کہا کہ : اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو جیسے تم ہنس رہے ہو، اسی طرح ہم بھی تم پر ہنستے ہیں۔
  39. فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ﴿39﴾

    عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔
  40. حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ﴿40﴾

    یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا، تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ : اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو کے جوڑے سوار کرلو اور تمہارے گھر والوں میں سے جن کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے (کہ وہ کفر کی وجہ سے غرق ہوں گے) ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو بھی، اور جتنے لوگ ایمان لائے ہیں ان کو بھی (ساتھ لے لو) اور تھوڑے ہی سے لوگ تھے جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔
  41. وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿41﴾

    اور نوح نے (ان سب سے) کہا کہ : اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا بھی اللہ ہی کے نام سے ہے، اور لنگر ڈالنا بھی، یقین رکھو کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
  42. وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ﴿42﴾

    اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔ اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی کہ : بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔
  43. قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ﴿43﴾

    وہ بولا : میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح نے کہا : آج اللہ کے حکم سے کوئی کسی کو بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس کے جس پر وہ ہی رحم فرمادے۔ اس کے بعد ان کے درمیان موج حائل ہوگئی، اور ڈوبنے والوں میں وہ بھی شامل ہوا۔
  44. وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿44﴾

    اور حکم ہوا کہ : اے زمین ! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان ! تھم جا۔ چنانچہ پانی اتر گیا اور سارا قصہ چکا دیا گیا۔ کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ : بربادی ہے اس قوم کی جو ظالم ہو۔
  45. وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ﴿45﴾

    اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ : اے میرے پروردگار ! میرا بیٹا میرے گھر ہی کا ایک فرد ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔
  46. قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿46﴾

    اللہ نے فرمایا : اے نوح ! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔
  47. قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿47﴾

    نوح نے کہا : میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آئندہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔
  48. قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿48﴾

    فرمایا گیا کہ : اے نوح اب (کشتی سے) اتر جاؤ، ہماری طرف سے وہ سلامتی اور برکتیں لے کر جو تمہارے لیے بھی ہیں اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے بھی۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جن کو ہم (دنیا میں) لطف اٹھانے کا موقع دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔
  49. تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿49﴾

    (اے پیغمبر) یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔
  50. وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ﴿50﴾

    اور قوم عاد کے پاس ہم نے ان کے بھائی ہود کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم نے جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں۔
  51. یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿51﴾

    اے میری قوم ! میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر کسی اور نے نہیں، اس ذات نے اپنے ذمے لیا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
  52. وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ﴿52﴾

    اے میری قوم ! اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارشیں برسائے گا، اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا، اور مجرم بن کر منہ نہ موڑو۔
  53. قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿53﴾

    انہوں نے کہا : اے ہود ! تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لے کر نہیں آئے۔ اور ہم اپنے خداؤں کو صرف تمہارے کہنے سے چھوڑنے والے نہیں ہیں، اور نہ ہم تمہاری بات پر ایمان لاسکتے ہیں۔
  54. اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ﴿54﴾

    ہم تو اس کے سوا کچھ اور نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی نے تمہیں بری طرح جھپیٹے میں لے لیا ہے، ہود نے کہا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، اور تم بھی گواہ رہو کہ تم اللہ کے سوا جس جس کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔
  55. مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ﴿55﴾

    اب تم سب کے سب ملکر میرے خلاف چالیں چل لو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔
  56. اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿56﴾

    میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضے میں نہ ہو، یقینا میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔ ۔
  57. فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ﴿57﴾

    پھر بھی اگر تم منہ موڑتے ہو تو جو پیغام دے کر مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا تھا میں نے وہ تمہیں پہنچا دیا ہے، اور (تمہارے کفر کی وجہ سے) میرا پروردگار تمہاری جگہ کسی اور قوم کو یہاں بسا دے گا، اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز کی نگرانی کرتا ہے۔
  58. وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ﴿58﴾

    اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت کے ذریعے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو بچا لیا، اور انہیں ایک سخت عذاب سے نجات دے دی۔
  59. وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ﴿59﴾

    یہ تھے عاد کے لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں کا انکار کیا، اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی، اور ہر ایسے شخص کا حکم مانا جو پرلے درجے کا جابر اور حق کا پکا دشمن تھا۔
  60. وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ع﴿60﴾

    اور (اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ) اس دنیا میں بھی پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی، اور قیامت کے دن بھی۔ یاد رکھو کہ قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا۔ یا درکھو کہ بربادی عاد ہی کی ہوئی، جو ہود کی قوم تھی۔
  61. وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ﴿61﴾

    اور قوم ثمود کے پسا ہم نے ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ لہذا اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقین رکھو کہ میرا رب (تم سے) قریب بھی ہے، دعائیں قبول کرنے والا بھی۔
  62. قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ﴿62﴾

    وہ کہنے لگے : اے صالح ! اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان اس طرح رہے ہو کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیَ جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں کیا تم ہمیں ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو ؟ جس بات کی تم دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں تو ہمیں ایسا شک ہے جس نے ہمیں اضطراب میں ڈال دیا ہے۔
  63. قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ﴿63﴾

    صالح نے کہا : اے میری قوم ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی ایک روشن ہدایت پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے خاص اپنے پاس سے ایک رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہے، پھر بھی اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچا لے ؟ لہذا تم (میرے فرائض سے روک رک) بربادی میں مبتلا کرنے کے سوا مجھے اور کیا دے رہے ہو ؟
  64. وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ﴿64﴾

    اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ لہذا اس کو آزاد چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور اس کو برے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عنقریب آنے والا عذاب آپکڑے۔
  65. فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ﴿65﴾

    پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا، چنانچہ صالح نے کہا کہ : تم اپنے گھروں میں تین دن اور مزے کرلو، (اس کے بعد عذاب آئے گا اور) یہ ایسا وعدہ ہے جسے کوئی جھوٹا نہیں کرسکتا۔
  66. فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ﴿66﴾

    پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے، ان کو اپنی خاص رحمت کے ذریعے نجات دی، اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا، یقینا تمہارا پروردگار بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔
  67. وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ﴿67﴾

    اور جن لوگوں نے ظلم کا راستہ اپنایا تھا، ان کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے پڑے رہ گئے۔
  68. كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ع﴿68﴾

    جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو کہ ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا، یاد رکھو کہ بربادی ثمود ہی کی ہوئی۔
  69. وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ﴿69﴾

    اور ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس (بیٹا پیدا ہونے کی) خوشخبری لے کر آئے۔ انہوں نے سلام کہا، ابراہیم نے بھی سلام کہا، پھر ابراہیم کو کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ (ان کی مہمانی کے لیے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔
  70. فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ﴿70﴾

    مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔
  71. وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ﴿71﴾

    اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔
  72. قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ﴿72﴾

    وہ کہنے لگیں : ہائے ! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں ؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔
  73. قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ﴿73﴾

    فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔
  74. فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ﴿74﴾

    پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی، اور ان کو خوشخبری مل گئی تو انہوں نے ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں (ناز کے ط ور پر) جھگڑنا شروع کردیا۔
  75. اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ﴿75﴾

    حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بردبار، (اللہ کی یاد میں) بڑی آہیں بھرنے والے (اور) ہر وقت ہم سے لو لگائے ہوئے تھے۔
  76. یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ﴿76﴾

    (ہم نے ان سے کہا) ابراہیم ! اس بات کو جانے دو۔ یقین کرلو کہ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے، اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آکر رہے گا جس کو کوئی پیچھے نہیں لوٹا سکتا۔
  77. وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ﴿77﴾

    اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے گھبرائے، ان کا دل پریشان ہوا اور وہ کہنے لگے کہ : آج کا یہ دن بہت کٹھن ہے۔
  78. وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ﴿78﴾

    اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، اور اس سے پہلے وہ برے کام کیا ہی کرتے تھے۔ لوط نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے کہیں زیادہ پاکیزہ ہیں اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے ؟
  79. قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ﴿79﴾

    کہنے لگے : تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کچھ مطلب نہیں، اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟
  80. قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ﴿80﴾

    لو ط نے کہا : کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔
  81. قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ﴿81﴾

    (اب) فرشتوں نے (لوط سے) کہا : اے لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ (کافر) لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لہذا تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے روانہ ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں مگر تمہاری بیوی (تمہارے ساتھ نہیں جائے گی) اس پر بھی وہی مصیبت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آرہی ہے۔ یقین رکھو کہ ان (پر عذاب نازل کرنے) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح بالکل نزدیک نہیں آگئی۔
  82. فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ﴿82﴾

    پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، اور ان پر پکی مٹی کے تہہ بر تہہ پتھر برسائے۔
  83. مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ع﴿83﴾

    جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی (مکہ کے ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔
  84. وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ﴿84﴾

    اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے (ان سے) کہا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی مت کیا کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ خوشحال ہو۔ اور مجھے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔
  85. وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿85﴾

    اور اے میری قوم کے لوگو ! ناپ تول پوراپورا کیا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔
  86. بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ﴿86﴾

    اگر تم میری بات مانو تو (لوگوں کا حق ان کو دینے کے بعد) جو کچھ اللہ کا دیا بچ رہے، وہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے، اور (اگر نہ مانو تو) میں تم پر پہرہ دار مقرر نہیں ہوا ہوں۔
  87. قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ﴿87﴾

    وہ کہنے لگے : اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے تھے، ہم انہیں بھی چھوڑ دیں اور اپنے مال و دولت کے بارے میں جو کچھ ہم چاہیں، وہ بھی نہ کریں۔ ؟ واقعی تم تو بڑے عقل مند، نیک چلن آدمی ہو۔
  88. قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ﴿88﴾

    شعیب نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں، اور اس نے خاص اپنے پاس سے مجھے اچھا رزق عطا فرمایا ہے، (تو پھر میں تمہارے غلط طریقے پر کیوں چلوں ؟) اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ میں جس بات سے تمہیں منع کر رہا ہوں، تمہارے پیچھے جاکر وہی کام خود کرنے لگوں۔ میرا مقصد اپنی استطاعت کی حد تک اصلاح کے سوا کچھ نہیں ہے، اور مجھے جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ کی مدد سے ہوتی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف میں (ہر معاملے میں) رجوع کرتا ہوں۔
  89. وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ﴿89﴾

    اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم پر یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے۔ اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔
  90. وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ﴿90﴾

    تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب بڑا مہربان، بہت محبت کرنے والا ہے۔
  91. قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ﴿91﴾

    وہ بولے : اے شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور آدمی ہو، اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے۔ ہم پر تمہارا کچھ زور نہیں چلتا۔
  92. قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ﴿92﴾

    شعیب نے کہا : اے میری قوم ! کیا تم پر میرے خاندان کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے بالکل ہی پس پشت ڈال رکھا ہے۔ یقین جانو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، میرا پروردگار اس سب کا پورا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
  93. وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ﴿93﴾

    اور اے میری قوم ! تم اپنے حال پر رہ کر (جو چاہو) عمل کیے جاؤ، میں بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب نازل ہوگا جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کون ہے جو جھوٹا ہے ؟ اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔
  94. وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ﴿94﴾

    اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے، ان کو اپنی خاص رحمت سے بچا لیا، اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انہیں ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، اور وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے منہ گرے رہ گئے۔
  95. كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ع﴿95﴾

    جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو ! مدین کی بھی ویسی ہی بربادی ہوئی جیسی بربادی ثمود کی ہوئی تھی۔
  96. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ﴿96﴾

    اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ پیغمبر بنا کر۔
  97. اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ﴿97﴾

    فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی۔ حالانکہ فرعون کی بات کوئی ٹھکانے کی بات نہیں تھی۔
  98. یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ﴿98﴾

    وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا، اور ان سب کو دوزخ میں لا اتارے گا۔ اور وہ بدترین گھاٹ ہے جس پر کوئی اترے۔
  99. وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ﴿99﴾

    اور پھٹکار اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے، اور قیامت کے دن بھی۔ یہ بدترین صلہ ہے جو کسی کو دیا جائے۔
  100. ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ﴿100﴾

    یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ (بستیاں) وہ ہیں جو ابھی اپنی جگہ کھڑی ہیں، اور کچھ کٹی ہوئی فصل (کی طرح بےنشان) بن چکی ہیں۔
  101. وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ﴿101﴾

    اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
  102. وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ﴿102﴾

    اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔
  103. اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ﴿103﴾

    ان ساری باتوں میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ وہ ایسا دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ ایسا دن ہوگا جسے سب کے سب کھلی آنکھوں دیکھیں گے۔
  104. وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ﴿104﴾

    ہم نے اسے ملتوی کیا ہے تو بس ایک گنی چنی مدت کے لیے ملتوی کیا ہے۔
  105. یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ﴿105﴾

    جب وہ دن آجائے گا تو کوئی اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا۔ پھر ان میں کوئی بدحال ہوگا، اور کوئی خوشحال۔
  106. فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ﴿106﴾

    چنانچہ جو بدحال ہوں گے وہ دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کی چیخنے چلانے کی آوازیں آئیں گی۔
  107. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ﴿107﴾

    یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو یقینا تمہارا رب جو ارادہ کرلے، اس پر اچھی طرح عمل کرتا ہے۔
  108. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ﴿108﴾

    اور جو لوگ خوشحال ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو۔ یہ ایک ایسی عطا ہوگی جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آئے گی۔
  109. فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ع﴿109﴾

    لہذا (اے پیغمبر) یہ (مشرکین) جن (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، ان کے بارے میں ذرا بھی شک میں نہ رہنا۔ یہ تو اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جیسے ان کے باپ دادے پہلے ہی عبادت کیا کرتے تھے، اور یقین رکھو کہ ہم ان سب کو ان کا حصہ پورا پورا چکا دیں گے، جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
  110. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ﴿110﴾

    اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا تھا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ ان کو پورا عذاب آخرت میں دیا جائے گا) تو ان کا فیصلہ (یہیں دنیا میں) ہوچکا ہوتا۔ اور یہ لوگ اس کے بارے میں (ابھی تک) سخت قسم کے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
  111. وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿111﴾

    اور یقین رکھو کہ سب لوگوں کا معاملہ یہی ہے کہ تمہارا پروردگار ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا۔ یقینا وہ ان کے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
  112. فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿112﴾

    لہذا (اے پیغمبر) جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق تم بھی سیدھے راستے پر ثابت قدم رہو، اور وہ لوگ بھی جو توبہ کر کے تمہارے ساتھ ہیں، اور حد سے آگے نہ نکلو۔ یقین رکھو کہ جو عمل بھی تم کرتے ہو وہ اسے پوری طرح دیکھتا ہے۔
  113. وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ﴿113﴾

    اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔
  114. وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ﴿114﴾

    اور (اے پیغمبر) دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو۔ یقینا نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ ایک نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت مانیں۔
  115. وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿115﴾

    اور صبر سے کام لو، اس لیے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
  116. فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴿116﴾

    تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، بھلا ان میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جن کے پاس اتنی بچی کھچی سمجھ تو ہوتی کہ وہ لوگوں کو زمین میں فساد مچانے سے روکتے ؟ ہاں تھوڑے سے لوگ تھے جن کو ہم نے (عذاب سے) نجات دی تھی۔ اور جو لوگ ظالم تھے، وہ جس عیش و عشرت میں تھے، اسی کے پیچھے لگے رہے، اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔
  117. وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ﴿117﴾

    اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں پر ظلم کر کے انہیں تباہ کر دے جبکہ ان کے باشندے صحیح روشن پر چل رہے ہوں۔
  118. وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ﴿118﴾

    اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنا دیتا، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے۔
  119. اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴿119﴾

    البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گا، ان کی بات اور ہے (کہ اللہ انہیں حق پر قائم رکھے گا) اور اسی (امتحان) کے لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے رب کی وہ بات پوری ہوگی جو اس نے کہی تھی کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا۔
  120. وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿120﴾

    اور (اے پیغمبر) گذشتہ پیغمبروں کے واقعات میں سے وہ سارے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں جن سے ہم تمہارے دل کو تقویت پہنچائیں۔ اور ان واقعات کے ضمن میں تمہارے پاس جو بات آئی ہے وہ خود بھی حق ہے اور تمام مومنوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی بھی ہے۔
  121. وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ﴿121﴾

    اور جو لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں، ان سے کہو کہ : تم اپنی موجودہ حالت پر عمل کیے جاؤ، ہم بھی (اپنے طریقے پر) عمل کر رہے ہیں۔
  122. وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ﴿122﴾

    اور تم بھی (اللہ کے فیصلے کا) انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔
  123. وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿123﴾

    آسمانوں اور زمین میں جتنے پوشیدہ بھید ہیں، وہ سب اللہ کے علم میں ہیں، اور اسی کی طرف سارے معاملات لوٹائے جائیں گے۔ لہذا (اے پیغمبر) اس کی عبادت کرو، اور اس پر بھروسہ رکھو۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو، تمہارا پروردگار اس سے بیخبر نہیں ہے۔