بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ بڑی عالی ذات ہے جس کے قبضے میں ملک ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے) دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا فرمایا ہے اور ان دونوں کے پیدا فرمانے میں بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے سب سے اچھا کون ہے مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا میں آتے جاتے ہیں پیدا ہوتے ہیں، زندہ رہتے ہیں پھر مرجاتے ہیں یہ موت وحیات یوں ہی بغیر حکمت کے نہیں ہے، انسان یوں نہ سمجھے کہ میں یوں ہی عبث بغیر کسی حکمت کے پیدا کیا گیا ہوں۔ سورة قیامہ میں فرمایا ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ0036﴾ (کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا) ۔ نہ انسان کی تخلیق عبث ہے نہ اس کی زندگی خوامخواہ ہے اس کے پیدا کرنے والے نے اس کی زندگی کے لیے احکام بھیجے ہیں ان احکام پر عمل کرنا جتنا بھی زیادہ کوئی شخص اچھا عمل کرلے گا اسی قدر اچھا آدمی ہوگا اور خوبی کی صفت سے متصف ہوگا، پھر جب مرے گا تو زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا اور جتنے جس کے اچھے اعمال ہوں گے اسی قدر عالم آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا، دنیا میں جینا ہے عمل کرنا ہے پھر مرنا ہے پھر حساب کتاب ہے اچھے اعمال کا اچھا بدلہ ہے اور برے اعمال کی بری سزا ہے۔ سورة ٴ مومنون میں فرمایا ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 00115﴾ (کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے) سورة ٴ ہود رکوع نمبر ایک میں بھی ﴿لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان ج 2) چہارم : یہ فرمایا ہے کہ وہ عزیز یعنی زبردست ہے کوئی بھی اس کی گرفت اور سلطنت سے باہر نہیں جاسکتا، جسے عذاب دینا چاہے وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا اور وہ غفور بھی ہے جسے بخشنا چاہے کوئی اس کی بخشش کو روک نہیں سکتا۔ پنجم : یہ فرمایا کہ اس نے سات آسمان تہ بہ تہ یعنی اوپر نیچے پیدا فرمائے۔ ششم : یہ فرمایا کہ اے مخاطب تو رحمن جل مجدہ کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں دیکھے گا اس نے جس چیز کو جس طرح چاہا بنایا آسمانوں کو جیسا بنانا چاہا وہ اسی طرح وجود میں آگئے نہ ان میں کوئی شگاف ہے ﴿وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ﴾ اور نہ ایک آسمان دوسرے آسمان پر گرتا ہے۔ بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔ ہر ایک کے درمیان جتنا بعد رکھا ہے اسی کے مطابق قائم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ہر آسمان سے لے کردوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ (كما فی المشکوٰۃ صفحہ 510 عن احمد والترمذی) ہفتم : یہ فرمایا کہ اے مخاطب تو نظر ڈال اور دیکھ کیا تجھے کوئی خلل نظر آتا ہے پھر نظر ڈال اور بار بار دیکھ گہری نظر سے دیکھ غور و فکر و تامل کے ساتھ نگاہ ڈال جب تو نظر ڈالے گا تو تیری نظر ذلیل اور درماندہ اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی تجھے کسی طرح کا رخنہ نظر نہ آئے گا۔ ہشتم : یہ بیان فرمایا کہ ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا (ستارے مراد ہیں) جیسا کہ کہ سورة الصافات میں فرمایا : ﴿اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآء الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِۙ006﴾ (بیشک ہم نے قریب والے آسمان کو بڑی زینت یعنی ستاروں کے ذریعہ زینت دی) ۔ رات کو آسمان کی طرف دیکھو تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے ایک خوبصورتی کا کیف محسوس ہوتا ہے یہ بات اصحاب فرحت و سرور اور اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ نہم : یہ فرمایا کہ ہم نے ان چراغوں یعنی ستاروں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا۔ شیاطین اوپر جاتے ہیں تاکہ اہل سماء یعنی حضرات ملائكہ کی باتیں سنیں۔ ستاروں سے ان کے مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے ضروری نہیں کہ ستارہ خود اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطان کو لے ستاروں میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں جو شیاطین کو مارتی ہیں۔ سورة ٴ حجر میں فرمایا ﴿اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ﴾ (مگر یہ کوئی بات چوری سے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ لیتا ہے) ۔ دہم : یہ فرمایا کہ ہم نے شیاطین کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے شیاطین کی بڑی بڑی شرارتیں ہیں خود بھی کافر ہیں بنی آدم کو بھی کفر پر رکھنا چاہتے ہیں اور جو شخص ایمان لے آئے اس کو گناہوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں جو تکوینی امور سے متعلق ہیں جیسے ہی پہنچتے ہیں، انگاروں اور چنگاریوں کی مار پڑتی ہے جس سے بعض مرجاتے ہیں اور بعض مجنون یعنی دیوانے ہوجاتے ہیں اگر انگارہ لگنے سے پہلے ان میں سے کسی نے ایک آدھ بات سن لی تو زمین پر آ کر اس بات کو کاہن کے کان میں ڈال دیتا ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کردیتا ہے شیاطین اس لیے یہ حرکت کرتے ہیں کہ لوگوں کو کاہنوں کا معتقد بنائیں اور ایمان سے دور رکھیں۔ فائدہ : سورة الملک کے شروع میں جو ﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ ﴾ فرمایا ہے اس سے بظاہر متبادر یہی ہے کہ موت اور حیات دونوں وجودی چیزیں ہیں اگر موت کو عدم الحیاۃ سے تعبیر کیا جائے تو یوں سمجھ آتا ہے کہ ان کی روحیں نکال لی جاتی ہیں روح کا نکالنا یہ تو وجودی چیزیں ہیں اس اعتبار سے موت کو وجودی چیز کہنے میں کسی تامل کی بات نہیں ہے اور اس میں زیادہ غور و فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
Top