بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بڑا عالی شان ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں (ساری) حکومت ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے،1۔
1۔ ملکیت اور قدرت دونوں اسی ذات واحد کی کامل اور غیر مشترک ہیں۔ کلمہ ملک میں خود ہی یہ مفہوم آگیا تھا۔ آیت کے دوسرے جزء نے اور زیادہ تصریح وتاکید کردی۔ بعض محققین سے یہ نکتہ بھی منقول ہے کہ بادشاہت اور حکومت عموما محل موجود اور کیفیت حاضر تک محدود سمجھی جاتی ہے۔ قدرت اس کے مقابلہ میں عام ووسیع ہے تو آیت کے جزء ثانی نے یہ صاف کردیا کہ صرف موجودات ہی کی بادشاہت و حکومت نہیں بلکہ سارے آیندہ ممکنات پر بھی حق تعالیٰ کی ملکیت اور قدرت اسی طرح وسیع ہے۔ (آیت) ” بیدہ۔ ید کے لفظی معنی ہاتھ کے ہیں۔ لیکن یہاں مراد اس کے مجازی معنی قبضہ یا تصرف کا ہونا بالکل ظاہر ہے، خود اردو میں بھی ایسے موقع پر ” ہاتھ “ سے مراد یہ جسمانی عضو نہیں۔ بلکہ قبضہ، اختیار، ملک و تصرف ہی ہوتی ہے۔ اور حکومت یا بادشاہت کسی بھی بادشاہ کے ” ہاتھ “ میں نہیں بلکہ ملک و تصرف ہی میں ہوتی ہے۔ اس لئے آیت میں (آیت) ” ید “۔ کے مجازی معنی حق تعالیٰ کے اعتبار سے نہیں۔ بلکہ (آیت) ” الملک “۔ ہی کے لحاظ سے کرنا پڑے۔ (آیت) ” الملک “۔ ال استغراق کا ہے یعنی جو کچھ بھی ہے تصور میں آسکے یا نہ آسکے سب اسی کا مملوک و محکوم ہے۔ ملک وقدرت ان دونوں صفات میں مشرک قوموں کو بڑی ٹھوکریں لگی تھیں۔ قرآن مجید اسی لئے اس کثرت سے ان کا اثبات حق تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے۔
Top