بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
شان عظمت وقدرت خداوندی مع بیان جزائے اہل سعادت وتنبیہ وتہدید براہل شقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک ......... الی ............. عذاب السعیر “۔ (ربط) سورة تحریم کا اختتام اس امر پر تھا کہ دین کی حفاظت کے لئے جہاد مع الکفار ضروری ہے اور ایمان وتقوی ہی انسان کی سعادت و کامیابی کی روح ہے تو اب اس مناسبت سے سورة تبارک الذی کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت قدرت کے بیان سے ہورہی ہے اور یہ کہ اہل ایمان اور اہل سعادت کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور منکرین واشقیاء کیسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بھی اشارۃ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ایک گھر کا سرپرست اپنے اہل خانہ کی کسی بےاعتدالی سے اس قسم کی آذیت محسوس کرسکتا ہے اور قلب پر گرانی واقع ہوتی ہے تو کائنات کے رب کو اپنی مخلوق کی بےراہ روی اور خلاف ورزی سے کس قدر اذیت ہوتی ہوگی اس بنیاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر صاحب فہم انسان سعادت وشقاوت کا راز اور اس کا انجام بخوبی سمجھ سکتا ہے ارشاد فرمایا بڑی ہی عظمت و برکت والا ہے وہ پروردگار جس کے ہاتھ میں ہے سلطنت وحکمرانی تمام کائنات کی اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے نہ اس کے ملک سے کوئی نکل سکتا ہے اور نہ قدرت و گرفت سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے علم سے دور ہوسکتی ہے وہی پروردگار ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون ہے بہتر اپنے عمل کے لحاظ سے موت وحیات کا یہ تمام سلسلہ اسی لئے ہے کہ انسان کی پہلی زندگی میں پتہ چل جائے کہ کس کے عمل اچھے ہیں اور کس کے برے اور پہلی زندگی کے اس امتحان کا نتیجہ دوسری زندگی میں مکمل طور پر دکھلادیا جائے حیات نہ ہوتی تو اچھے برے کا علم نہ ہوتا اور موت نہ ہوتی تو نیکی اور بدی کا نتیجہ ظاہر نہ ہوتا اور وہی بڑی عزت والا بخشش کرنے والا ہے کہ وہ اپنی عزت و غلبہ کی وجہ سے قادر ہے کہ بندوں پر جزاء وسزا جاری کرے اور وہ اسی کے ساتھ بڑی مغفرت بھی فرمانے والا ہے کہ بہت سے برے کاموں کی مغفرت بھی فرماتا رہتا ہے جس پروردگار نے سات آسمان پیدا کیے تہہ بر تہہ۔ حاشیہ (جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے کہ ایک آسمان سے اوپر بفاصلہ دراز دوسرا آسمان ہے پھر اس سے اوپر، اس طرح اس سے اوپر اور آسمان یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سات آسمان بیان فرمائے حدیث معراج میں ساتوں آسمان کا ذکر ہے اور اس تفصیل کے ساتھ کہ پہلے آسمان میں آدم (علیہ السلام) کو پایا چھٹے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو۔ بتا اے مخاطب کیا دیکھتا ہے تو رحمن کے بنانے میں کوئی فرق کہ ایک چیز اچھی بن گئی اور دوسری چیز کی تخلیق وتکوین میں کچھ کمی رہ گئی نہیں بلکہ جو بھی اس رحمن نے بنایا وہ اس کی عظیم شان خلاقی کا پیکر اور ثبوت ہے اگر ایک مرتبہ کے دیکھنے سے یہ خیال کرتا ہے کہ یہ سرسری نظر سے دیکھا تھا تو کچھ عیب نظر نہیں آیا تو پھر دوبارہ نگاہ کو لوٹا، اور خوب غور کر پھر بتا کہ کیا نظر آتی ہے تجھ کو کوئی دراڑ اور پھٹن ان آسمانوں میں اگر اس پر بھی ایمان ویقین کی کیفیت قلب و دماغ میں نہ رچے تو پھر دو دو بار لوٹا نگاہ کو کسی نہ کسی طرح اللہ کی مخلوق اور اس کے بنائے ہوئے ان آسمانوں میں اور ان میں جو کواکب وسیارات ہیں ان میں کوئی عیب نظر آجائے تو اس تلاش وتجسس کی بار بار نگاہ کو کچھ بھی کمی نہ آسکے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ نگاہ واپس لوٹے گی تیری طرف اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوگی اور تھکی ہوئی ہوگی۔ حاشیہ (حضرت والد محترم قدس اللہ سرہ کے ایک قصیدہ کا شعر اسی آیت کا ترجمہ ہے فرمایا۔ لقد سافرت فیک العقول فما ربحت الا العنا والتحسرا۔ کہ اے پروردگار تیرے بارے میں انسانی عقول نے بہت ہی سفر کیا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا سوائے تکان وعاجزی اور حسرت کے 12۔ ) دنیا کے مفکرین وفلاسفہ اور محققین ایک بار نہیں کئی کئی مرتبہ مدتوں بھی غور کرتے رہیں، دیکھتے رہیں لیکن اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق آسمانوں، چاند، سورج اور ستاروں میں باوجود مرور مدت طویلہ کوئی بھی رخنہ اور کمی نہیں پائیں گے اور بیشک ہم نے مزین کردیا ہے آسمان دنیا کو اور نزدیک والے آسمان کو جو انسانوں کی نظروں کے سامنے ہے روشن چراغوں سے کہ نظر آنے والے ستاروں کی جگمگاہٹ کیسی حسین اور شاندار معلوم ہوتی ہے یہ قدرتی چراغ ہیں اور انکو بنایا ہے ہم نے پھینک مارنے کا ذریعہ شیاطین کے واسطے کہ بسا اوقات کوئی ستارہ ٹوٹ کر کسی شیطان کو جلاکرخاک کردیتا ہے جیسے کہ فرمایا (آیت) ” الا من استرق السمع فاتبعہ شہاب ثاقب “۔ اور ہم نے تیار کر رکھا ہے انکے واسطے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب اسلیے مجرمین کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کے عذاب سے نہ شیاطین بچ سکتے ہیں اور نہ وہ لوگ جن کو شیاطین گمراہ کرتے ہیں۔ توحید ذات وصفات خداوندی ایمان کی اساس ہے :۔ اس سورة مبارکہ میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اس کی قدرت وخالقیت کے ضمن میں اس کی وحدانیت والوہیت کو ثابت کیا گیا اور یہ کہ وہ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے اور اس کی قدرت قدرت کاملہ ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اسی کی بادشاہت وحکمرانی ساری کائنات میں چل رہی ہے قرآن کریم اور جملہ کتب سماویہ نے اسی مضمون کو بڑی ہی اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور یہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی اپنی قوموں کو دعوت رہی ہے (آیت) ” یقوم اعبدواللہ مالکم من الہ غیرہ “۔ اسی کے ساتھ آخرت کا مسئلہ بھی بیان کردیا گیا اور یہ کہ جزاء وسزا کا مرحلہ ہر انسان کو بلاشبہ پیش آنا ہے قرآن حکیم نے یہ مضامین از اول تا آخر بیان کئے لیکن یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ ہر مرتبہ ایک نئے اسلوب سے ان مضامین کو بیان کیا جاتا ہے واضح مثالوں عام محاورات اور مسلمہ واقعات کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص اپنے مذاق کے موافق ان حقائق کو ذہن نشین کرسکے جو مقصود بیان ہے اس موقعہ پر عالم موجودات ومحسوسات کا تذکرہ کرتے ہوئے (آیت) ” وھو علی کل شیء قدیر “۔ فرما کر یہ ظاہر کردیا کہ جو عالم انسانوں کے ادراک واحساس میں ہے اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسے بیشمار عالم پیدا فرما سکتا ہے۔ لفظ (آیت) ” شیء “ کی بحث شروع میں گزر چکی، از روئے لغت ہر اس چیز کو (آیت) ” شیء “۔ کہا جائے گا جس کے وجود کا ارادہ کیا جائے گا لہذا اس سے حق تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات خارج رہیں گی اسی طرح اس کا اطلامحالات پر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ ان میں مقدور ہونے کی صلاحیت نہیں لہذا جملہ ممکنات (آیت) ” شیء “۔ کا مصداق ہیں اور اس لحاظ سے یہ سوال ہی نہیں ہوسکتا کہ کیا ذات خداوندی اس کی صفات اور محالات بھی تحت القدرت آسکتے ہیں تو واجب وممتنع دونوں (آیت) ” شیء “۔ کا مصداق ہونے سے خارج ہیں۔ (آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ یعنی اس نے موت جو عالم عدم اور حیوۃ جو عالم موجود ہے کہ پیدا کیا گویا اس صفت کو ذکر کرکے تبارک الذی کی دلیل بیان فرمادی پہلی دلیل تو یہ تھی کہ اس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی بادشاہت ہے اسی کا حکم اور تصرف کائنات پر جاری ہے دوسری دلیل ہر شی پر کمال قدرت کو بیان کرکے پیش کردی گئی تیسری دلیل اس کی عظمت وکبریائی کی ”(آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ سے ظاہر فرمائی گئی اس میں عالم آخرت کی نعمتوں کی طف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا کہ موت سے مراد دنیا کی موت اور حیات سے مراد حشر کی حیات ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے جملہ میں دنیا کی بادشاہت کا بیان تھا اب اس جملہ میں آخرت کی بادشاہت کا بیان تھا اب اس جملہ میں آخرت کی بادشاہت بھی بیان فرمادی تو جو ذات دونوں جہان کا بادشاہ ہو اس سے بڑھ کر برکت اور عظمت والی ذات کون ہوسکتی ہے لہذا ہر حالت میں انسان کو اللہ کی طرف ملتجی ہونا چاہیے اس تفسیر کی رو سے (آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ میں لفظ موت کو مقدم کرنے کی حکمت ظاہر ہوتی کہ موت دنیوی حیات اخروی سے مقدم ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ برکات الہیہ میں سے یہ بھی ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات کا مظہر بنا کر علم وادراک سے مزین بنایا خلافت الہیہ کا شرف اس کو بخشا اور اس عظمت و برکت کی تکمیل اس طرح مقدر کی گئی کہ عالم باقی کے لئے وہ نیک کام کرے اور برے کاموں سے پرہیز کرے اس وجہ سے ضروری تھا کہ نیک کاموں پر آمادہ کرنے والی باتیں اور برے کاموں سے بچانے والی چیزیں نازل کی جائیں اور اسی کے لیے موت وزندگی بنائی اور اگر حیات سے دنیوی حیات مراد لی جائے تو پھر موت کی تقدیم اس غرض سے ہوسکتی ہے کہ اس کی فکر اور تیاری سے انسان غافل نہ ہو اور اس کی طرف پوری توجہ رکھے نیز اس وجہ سے بھی کہ حیات عارضی اور چند روزہ ہے اور موت ذاتی ہے تو انسان کو چاہئے کہ چند روزہ زندگی کو ہیچ سمجھے تو اس وجہ سے بھی موت کو حیات پر مقدم ہی کرنا چاہئے تھا کیونکہ ذاتی کو امر عارضی پر تقدم ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت سے وہ حالت مراد لی جائے تو پھر موت کی تقدیم اس غرض سے ہوسکتی کہ اس کی فکر اور تیاری سے انسان غافل نہ ہو اور اس کی طرف پوری توجہ رکھے نیز اس وجہ سے بھی کہ حیات عارضی اور چند روزہ ہے اور موت ذاتی ہے تو انسان کو چاہئے کہ چند روزہ زندگی کو ہیچ سمجھے تو اس وجہ سے بھی موت کو حیات پر مقدم ہی کرنا چاہئے تھا کیونکہ ذاتی کو امر عارضی پر تقدم ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت سے وہ حالت مراد لے جائے جو قبل از وجود ہے وہ حالت نطفہ ہے یہی وہ چیز ہے جو سورة بقرہ کی آیت میں فرمائی گئی ، (آیت) ” وکنتم وامواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم “۔ تو حالت موت کے بعد عطاء حیات کا ذکر کیا اور پھر اس حیات کے بعد موت کا اور پھر موت کے بعدحیات کا جو ظاہر ہے کہ آخری حیات حشر کی حیات ہے نیز اس لیے بھی یہاں موت کو مقدم اور حیات کو مؤخر فرمایا گیا یہاں مقصد کلام (آیت) ” لیبلوکم ایکم احسن عملا “۔ ہے اور اس آزمائش کا ثمرہ اور نتیجہ موت کے بعد اسی حیات میں ظاہر ہوگا جو حشر کی حیات ہے، آسمانوں کے وجود پر قرآن کریم اور الہامی کتابوں کا فیصلہ اور حکماء یونان وفلاسفہ کے خیالات : متعدد آیات قرآنیہ اور تمام آسمانی کتابوں سے آسمانوں کا وجود ثابت ہے اور یہ ستارے جو آسمان کی زینت بنائے گئے ان ہی کو مصابیح فرمایا گیا اور جو کام اللہ رب العزت ان سے لیتا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جنات و شیاطین پر ان کو پھینک کر انہیں جلایا جاتا ہے جیسے کہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں گزر چکا، (آیت) ” انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ ن الکواکب وحفظا من کل شیطن مارد لایسمعون الی الملاء الاعلی ویقذفون من کل جانب دحورا ولھم عذاب واصب الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب “۔ تو اس آیت میں ستاروں سے متعلق دو باتوں کا ذکر کیا گیا کہ آسمانوں کی زینت اور جو جنات و شیاطین ملاء اعلی کی طرف کان لگائیں ان کے واسطے شہاب ثاقب اور جلا کر خاک کردینے والے تیسری بات جو ستاروں سے متعلق ہے وہ آیۃ مبارکہ (آیت) ” وبالنجم ھم یھتدون “ میں فرما دی گئی۔ یہاں (آیت) ” جعلنا ھا “ کی ضمیر جنس مصابیح کی طرف راجع ہے نہ کہ عین مصابیح کی طرف حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ شیاطین پر یہ ستارے نہیں پھینکے جاتے جو آسمان پر ہیں تو اصل یہ ہے کہ لفظ مصابیح یا کو کب ونجوم ان ستاروں پر بھی بولا جاتا ہے جو آسمان پر ہیں اور ان ادخنہ اور شعاعوں کو بھی کہا جاتا ہے جو ستاروں کے ساتھ ہیں یہی ادخنہ اور شعاعیں ٹوٹتی ہیں اور ان ہی کی پھینکا جاتا ہے کو بھی کہا جاتا ہے جو ستاروں کے ساتھ ہیں یہی ادخنہ اور شعاعیں ٹوٹتی ہیں اور ان ہی کو پھینکا جاتا ہے زمین سے جو دخانی مادے اٹھ کر فضا میں اوپر چڑھ جاتے ہیں تو کرۂ نار کے قریب پہنچ کر ان میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ ایسے ہی معلوم ہوتے ہیں جیسے کہ جلتا ہوا کوئی شعلہ پھینکا جارہا ہے یہ ادخنہ ستاروں ہی کی طرح ہوجاتے ہیں اس وجہ سے انکو بھی کواکب ونجوم کی جنس سے شمار کیا گیا مگر بہرکیف یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے جس مادۂ دخانی کو اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ سے اس طرح چلنے اور بکھرنے کا حکم دے گا وہی ایسا ہوگا ورنہ نہیں یعنی ان کا یہ ٹوٹنا اور بکھرنا خود ان کا کوئی طبعی تقاضا نہیں اور چونکہ یہ بھی ستاروں کی ایک قسم ہوگئے اس وجہ سے پھٹنے کے بعد زمین پر نہیں گرتے حالانکہ ان کا میل طبعی زمین کی طرف ہونا چاہئے تھا بلکہ ایک جانب سے دوسری جانب اس طرح بکھر جاتے ہیں جیسا کسی نے پھینک مارا اس قسم کے مشاہدوں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے جو حق تعالیٰ نے ارشاد فرمائی (آیت) ” فاتبعہ شھاب ثاقب “۔ اور فرمایا (آیت) ” وجعلنھا رجوما للشیاطین “۔ الغرض قرآن کریم میں جگہ جگہ آسمانوں کے بنانے کا ذکر ہے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” والسمآء بنینھا باید وانا لموسعون “۔ اسی طرح فرمایا (آیت) ” انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ ن الکواکب “۔ کہ ہم نے پہلے آسمان کو ستاروں سے زینت دی (آیت) ” افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنینھا وزینھا ومالھا من فروج “۔ کیا نہیں دیکھا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو کس طرح بنایا ہم نے اس کو اور کیسی زینت دی اور ان میں کوئی درز بھی نہیں (آیت) ” الذی خلق سبع سموت طباقا ما تری فی خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر ھل تری من فطور ثم ارجع البصر کر تین ینقلب الیک البصر خاسئا وھو حسیر “۔ اس نے سات آسمانوں کو اوپر تلے بنایا اسے دیکھنے والے تجھ کو خدا کی پیدائش میں کچھ تفاوت نہ معلوم ہوگا دوبارہ نظر آسمانوں کی طرف پھرا تیری نگاہ تھک کر خیرہ ہو کر رہ جائے گی وغیرہا من الایات پس اس سے وہی اخیر معنے مراد ہیں کہ جس کو ہماری زبان میں آسمان کہتے ہیں اور ہر زبان میں اس کا نام ہے اور جس کو تمام عرب وعجم ہندو روم اہل یورپ قدیم زمانہ سے اب تک ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ خدا نے آسمانوں کو بنایا ہے ہم ان کو دیکھتے ہیں ان میں کوئی شگاف نہیں کہ جو خدا کی صنعت میں قصور ثابت کرے اور یہ ستارے آسمان پر لگے ہوئے ہیں اگر کسی پڑھے ہوئے سے پوچھئے گا تو وہ بھی یہی کہے گا اور ان پڑھ بلکہ جنگل کے رہنے والے وحشیوں سے دریافت فرمائے گا تو وہ بھی یونہی کہیں گے جس سے معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ بھی منجملہ ان مسائل کے ہے جس کا علم انسان کی فطرت اور جبلت میں یکساں رکھا گیا ہے اور اسی فطری علم پر خدائے تعالیٰ اپنے کلام میں انسان کو مخاطب کرکے اپنے عجائبات قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) بھی اسی نہج پر کلام کرتے چلے آئے ہیں، چناچہ نورات اول کے پہلے باب میں یہ لکھا ہے ” ابتداء “ میں خدا نے آسمان و زمین کو پیدا کیا “ پھر اسی کتاب کے باب 7 میں طوفان نوح کے بیان میں یہ جملہ بھی ہے جب نوح کی عمر چھ سو برس کی ہوئی دوسرے مہینے کی سترہویں تاریخ کو اسی دن بڑے سمندر کی سب سوتیں پھوٹ کر نکلیں اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں اور 8 باب میں یہ جملہ ہے اور آسمان کی کھڑکیاں بند ہوگئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا انجیل متی کے باب 2 میں ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت یحی (علیہ السلام) کے ہاتھ سے اصطباغ یعنی دریا یعنی دریا میں غوطہ لگا کر باہر آئے تو انکے لئے آسمان کھل گیا اور مکاشفات یوحنا کے باب 8 اور دیگر ابواب سے صاف آسمان پر ستاروں کا ہونا اور انکے دروازے کھلنا اور وہاں سے آواز آنا وغیرہ وہ باتیں مذکور ہیں کہ جو قرآن و حدیث کے مطابق ہیں اسی طرح ہنود کے وید اور پارسیوں کے دساتیر سے بھی آسمانوں کی بابت اس طرح کے مضامین مفہوم ہوتے ہیں الغرض ہزار ہا برس سے الہامی اور غیر الہامی کتابوں اور انبیاء (علیہم السلام) اوردیگر لوگوں کا اس امر میں اتفاق ہے لیکن یونان کے فلسفیوں نے جس طرح اور چیزوں کی حقیقت اور ماہیت دریافت کرنے میں عقل کے گھوڑے دوڑائے اور جو باتیں ان کو اپنے قیاس اور تخمین یا تجربہ اور آلات رصد وغیرہا سے دریافت ہوئیں تو انکو قلمبند کیا اور اس کا نام حکمت رکھا جس کی شاخیں ہیئت اور طبیعیات اور الہیات وغیرہا علوم ہیں کہ جن پر بہت سے کوتاہ بینوں کو ناز ہے مگر آسمانوں کی تحقیق میں انکے دو فریق ہوگئے ایک گروہ کے پیشوا کا نام ہے ” فیثا غورس “ وہ کہتے ہیں آسمانوں کا وجود نہیں یہ ستارے بذات خود قائم ہیں کسی میں جڑے ہوئے نہیں پھر خود اس فریق کے بھی دو قول ہیں بعض کہتے ہیں ستارے اور ثوابت متحرک نہیں صرف زمین حرکت کرتی ہے اس کی وجہ سے یہ چیزیں حرکت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جس طرح کہ ریل گاڑی میں درخت اور پتھر حرکت کرتے معلوم ہوتے ہیں دوسرا گروہ کہتا ہے کہ زمین بھی متحرک ہے اور ستارے بھی، آفتاب کو مدار ٹھہرا کر اسکے گرد حرکت کرتے ہیں ہاں چھوٹے چھوٹے ستارے کہ جن کو ثوابت کہتے ہیں وہ حرکت نہیں کرتے انکی حرکت دوری کرتے ہیں اسی طرح زمین بھی اپنے بعد معین پر اس کے اردگرد پھرتی ہے اور ستارے صرف یہ (1) زحل ، (2) مشتری، (3) مریخ ، (4) عطارد، (4) زہرہ ، (5) شمس، (6) ، قمر (7) ہی نہیں انکے سوا اور بھی رصد سے ثابت ہوتے ہیں یہ مذہب فیثا غورس ایک مدت تک تو حکماء کے نزدیک اسکے دیگر اقوال کی طرح مردود اور بیقدر رہا مگر اس صدی میں اس نے یورپ میں بڑا رواج پایا اور یورپ کے بڑے بڑے محقق اسی مقلد ہو کر ان ہی باتوں کو الہامی اور لوح محفوظ کی باتیں سمجھنے لگے بلکہ اپنی تحقیقات سے اس پر اور کچھ بڑھایا اور چاند اور رسیاروں میں پہاڑ اور دیگر اجرام عنصری بلکہ حیوانات کے وجود کے بھی بعض لوگ قائل ہوگئے۔ دوسرے گروہ کے سر دفتر حکیم یطلیموس ہیں وہ کہتے ہیں کہ زمین گول کروی ہے کسی قدر یعنی تخمینا چوتھائی حصہ اس کا ناہمواری کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا ہے باقی اس کے گرد پانی لپٹا ہوا ہے جس کو سمندر کہتے ہیں پانی کے ارد گرد کرۂ ہوا لپٹا ہوا ہے اس کے اوپر آگ کوسوں تک ہر طرف سے لپٹی ہوئی ہے یہ چار کرے عناصر کے ہوتے اب یہ جس قدر زمین پانی سے اوپر اٹھی ہوئی ہے اس پر سب لوگ بستے ہیں ان چاروں کروں کے چو طرف پہلا آسمان ہے جس کو فلک القمر بھی کہتے ہیں یعنی اس آسمان میں چاند ہے جیسا کہ نیلے جسم پر ایک سفید گول نشان ہوجاتا ہے اسکے اوپر فلک العطارد ہے اس کے اوپر فلک زہرہ اس کے اوپر فلک شمس ہے یعنی چوتھا آسمان جہاں آفتاب ہے اسکے اوپر فلک مریخ کو جہاں مریخ ستارہ ہے اس کے اوپر فلک مشتری کہ جہاں مشتری ستارہ ہے اس کے اوپر فلک زحل کہ جہاں زحل ستارہ ہے اس کے اوپر فلک الثوابت کہ جہاں یہ سینکڑوں ان گنت ستارے ہیں کہ جو از خود حرکت کرتے معلوم نہیں ہوتے یعنی ایک جگہ ہمیشہ ثابت رہتے ہیں چونکہ نیچے کے آسمان بلکہ کل آسمان نہایت شفاف اور صاف ہیں وہ اوپر کے ستارے سب نظر آتے ہیں اس کے اوپر فلک الافلاک ہے کہ جس کو فلک اطلس کہتے ہیں یعنی سادہ اس پر کوئی تارہ نہیں وہ دن رات میں مشرق سے مغرب کی طرف ایک جگہ چرخہ کی طرح پھر کر دورہ تمام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے سب آسمان اور تارے دورہ تمام کرتے ہیں کہ جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں یعنی جہاں سامنے آفتاب آگیا وہاں دن ہوگیا اور جہاں سامنے سے بالکل ہٹ گیا وہاں رات ہوگئی اور تمام ستارے از خود بھی ایک حرکت مغرب سے مشرق کی طرف کرکے دورہ تمام کرتے ہیں چاند تو مہینہ بھر میں اس دورہ کو تمام کرلیتا ہے دراصل گھٹتا بڑھتا نہیں بلکہ جس قدر وہ آفتاب کے مقابلہ میں آتا ہے اور اس قدر اس پر روشنی پڑتی ہے اتنا ہی ہم کو دکھائی دیتا ہے ورنہ وہ گول بڑا بھاری جسم ہے زمین سے کہیں زائد ہے اور آفتاب اپنے دورہ کو دائرہ منطقۃ البروج پر برس میں تمام کرتا ہے اسی لیے مختلف فصلیں سردی اور گرمی کی پیدا ہوتی ہیں یہ کل تیرہ (13) کرے ہوئے جن میں نو آسمان ہیں سات تو یہ کہ جن کو شرع نے سبع سموت کہا ہے اور دو وہ کہ جن کو عرش وکرسی کہا ہے کرسی فلک الثوابت عرش، فلک الافلاک ہے اس صورت۔ 1 حاشیہ (..........................) پر اور آسمانوں کا کوئی رنگ نہیں کیونکہ اگر رنگ ہوتا تو اوپر کی چیزیں دکھائی نہ دیتیں اور یہ جو نیلگوں معلوم ہوتا ہے یہ آسمان کی مثفافی اور غبارات کی تیرگی سے پیدا ہوا ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب سفیدی اور سیاہی ملتی ہیں تو نیلی رنگت پیدا ہوجاتی ہے یا یوں کہو کہ اجزاء شفاف میں اجزائے غباری جو کہ سیاہ ہیں انکے ملنے سے یہ نیلگونی پیدا ہوگئی یا یہ کہ ہوا کے اجزاء شفاف میں جب انکو دیکھتے ہیں تو نظر میں ایک تیرگی پیدا ہوتی ہے ان دونوں کے ملنے سے نیلگونی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ سمندر کا پانی نیلا دکھائی دیتا ہے اسکے علاوہ اور بہت سے مسائل اس حکیم اور اس کی جماعت کے ہیں اور چونکہ یہ مسائل کسی قدر الہامی کتابوں کے موافق ہیں اس لئے اس حکمت کا جس طرح حکماء یونان میں رواج ہو اسی طرح جب حکمت یونانیہ عربی میں ترجمہ ہو کر آئی تو اہل اسلام نے بھی اسکو پسند کیا چناچہ اب تک شرح چغمینی اور تذکرہ وغیرہما اسی حکمت کی کتابیں درس میں داخل ہیں بلکہ ایشیائی ملکوں میں ہندو اور ایرانی وغیرہما سب لوگ اور قدیم عیسائی اور یہودی بھی انہی مسائل کے متعقد ہیں لیکن نہ اسلام کو اس ہیئت سے کچھ بحث ہے نہ اس سے کہ اگر یہ غلط ہوا تو اسلام کی صداقت میں کیا نقصان آتا ہے ؟ اور جو وہ سراسر غلط ہو تو کیا نقصان ہے البتہ آسمانوں کی بابت علی سبیل فکر آیات قدرت جو کچھ قرآن یا دیگر کتب الہامیہ میں مذکور ہے اس کے تمام بنی آدم قاتل ہیں وہ علم فطری ہے جب یطلیموس اور فیثا غورس نہ تھے جب بھی لوگ ان باتوں کو مانتے تھے بہرکیف الہامی کتابوں بالخصوص قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ آسمان کوئی مجسم چیز ہے کہ جو قیامت کو پھٹ جاوے گی عام ہے کہ وہ کوئی جسم اور کسی قسم کا ہو قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” اذا السمآء انفطرت “۔ وقال اللہ تعالیٰ (آیت) ” واذا السمآء کشطت۔۔۔۔ وقال اللہ تعالیٰ (آیت) ” اذا السمآء انشقت واذنت لربھا وحقت، وقال اللہ تعالیٰ (آیت) ” ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام “۔ الایۃ اگر آسمان فضا یا بعد موہوم کا نام ہوتا جیسا کہ بعض مقلدین یورپ کا قول ہے تو وہ ایک عدمی چیز ہوتا اس کا پھٹنا اور اس کے چھلکوں یعنی طبقات کا اکھڑنا اور اسکو پیدا کرنا اور بنانا جس طرح کہ زمین اور اس کی چیزیں بنائیں یا اس کی کھڑکیاں کھلنا جس کا کہ تورات میں ذکر ہے اس کو سقف محفوظ کہنا چہ معنی وارد البتہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ وغیرہ اکابر سے جو کچھ آسمان کے باہمی فاصلہ کی نسبت مروی ہے اور یہ کہ فلاں آسمان چاندی کا اور فلاں زبر جد کا اور فلاں اس کا اگر بسند صحیح ثابت ہے تو تشبیہ اور مجاز پر محمول ہے نہ حقیقت پر پھر اس پر اعتراض محض بیجا ہے۔ (کذافی تفسیر الحقانی ج 2 للعلامہ ابو محمد عبدالحق الحقانی الدہلوی (رح))
Top