بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی (اس ساری کائنات کی) اور وہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے1
1: برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کی۔ اور وہ ذات اتنی بڑی برکتوں والی ہے کہ اس کی خیرات و برکات کا کوئی کنارہ نہیں ‘ ایک ایک لمحہ و لحظہ ‘ میں اپنی جن بےپایاں رحمتوں اور برکتوں سے وہ ذات اقدس و اعلیٰ اپنی گوناگوں اور قسما قسم کی مخلوق کو جس طرح نوازتی ہے اس کا شمار وبیان بھی کسی کے حیطہ امکان و اختیار میں نہیں ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " وان تعدوا نعمۃ اللہ لاتخصوھا " (ابراہیم ؛34) ۔ پھر کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلق جل جلالہ سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکتے اور اس کی عاجز و بےبس مخلوق کے سامنے جگہ جگہ اور طرح طرح سے ذلیل ہوتے اور ان کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تبارک کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے معنی پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ بھی مبالغے کا صیغہ ہے ‘ اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی عظمت اور فیض والی ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں اس کائنات کی باگ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے ساتھ ہی اس کی شان علی کل شیء قدیر کی شان ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ اس کے لئے نہ کچھ مشکل ہے اور نہ اس کی قدرت سے باہر۔ اور یہ صفت و شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ اس لئے معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا مقتضی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 2: ساری کائنات کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حضر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے یعنی اس ساری کائنات کی بادشاہی اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس بادشاہ حقیقی وہی اور صرف وہی وحدہ ‘ لاشریک ہے۔ اور اس دنیا میں جس کسی کو بھی عارضی و ظاہری طور پر جو کوئی حکومت اور بادشاہی ملتی ہے ‘ وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتی ہے کہ عزت و ذلت اور اخذ وعطاء کے سارے حقوق و اختیار اسی قادر مطلق کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " توتی الملک من التشاء و تنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر " (آل عمران :26) ۔ پس کس قدر محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے مانگنے کی بجائے کہیں لکڑی پتھر کے بےجان بتوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں ‘ کہیں کسی آستانے کے چکر کاٹتے اور کسی قبر کے گرد طواف کرتے اور پھیرے لگاتے ہیں اور کہیں کسی ملنگ یا سادھو کے ہاتھوں سر جھکا کر جوتے کھاتے اور اس سے فحش اور ننگی گالیاں سنتے ہیں ‘ وغیرہ وغیرہ والعیاذ باللہ العظیم اور وہ ذات اقدس اعلیٰ انتہائی بابرکت اور باعظمت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر چیز پر پوری قدرت بھی رکھتی ہے ‘ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی اس کے حیطہ قدرت و امکان سے باہر نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی عبادت و بندگی سے سرفراز و سرشار رکھے اور ہر قسم کے شر و فتن سے ہمیشہ اور ہر حال میں محفوظ رکھے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں صراط مستقیم ہی پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Top