بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
نہایت بزرگ و برتر ہے 1 وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، 2 اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 3
سورة الْمُلْک 1 تبارک برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ برکت میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات کے مفہومات شامل ہیں۔ اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تبارک بنایا جائے تو اسکے معنی ہوتے ہیں کہ وہ بےانتہا بزرگ و عظیم ہے، اپنی ذات وصفات و افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے با لا تر ہے، بےحدو حساب بھلائیوں کا فیضان اس کی ذات سے ہو رہا ہے، اور اس کے کمالات لازوال ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 43۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 14۔ الفرقان، حواشی 19)۔ سورة الْمُلْک 2 الملک کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں میں نہیں لیا جاسکتا۔ لا محالہ اس سے مراد تمام موجودات عالم پر شاہانہ اقتدار ہی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے ہاتھ میں اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے، بلکہ یہ لفظ محاورہ کے طور پر قبضہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی کی طرح ہماری زبان میں بھی جب یہ کہتے ہیں کہ اختیارات فلاں کے ہاتھ میں ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے۔۔ سورة الْمُلْک 3 یعنی وہ جو کچھ چاہے کرسکتا ہے کوئی چیز اسے عاجز کرنے والی نہیں ہے۔ کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ کرسکے۔
Top