بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mafhoom-ul-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ اللہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے ” بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے تشریح : جیسا کہ سورت کے نام سے ظاہر ہے ” ملک “ مطلب ہے بادشاہی۔ دنیا کا نظام بناتے ہوئے جس حکمت کا اندازہ ہوتا ہے وہ کسی بندے بشر کے بس کی بات نہیں۔ جب ہم اس کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رحمت اور برکت کا بھی کوئی شمار نہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات سے نہ تو غافل ہے اور نہ ہی لاعلم ” اس کو ہر چیز کا علم ہے اور وہ مہربانیوں کا رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ موت اور زندگی کسی کے اختیار میں ہرگز کسی صورت بھی نہیں یہ مرحلہ بھی بڑا غور طلب ہے۔ موت ختم ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسری دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے جیسے زندگی اس دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس حقیقت کو ہم فرمانِ الٰہی کی روشنی میں یوں واضح کرسکتے ہیں۔ فرمایا : (قیامت کے دن) لوگ کہیں گے اے رب ہمارے ماراتو نے ہم کو، دوبارہ اور تو نے ہم کو دو بار زندہ کیا۔ (سورۃ مومن :11) دوسری جگہ فرمایا اور تھے تم مردہ پھر زندہ کیا تم کو پھر کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو ؟ پھر موت دے گا تم کو ” پھر زندہ کرے گا تم کو اور آخر اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے۔ (بقرہ 28) موت و زندگی کا سلسلہ بڑی وضاحت سے بیان کیا جاچکا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ سلسلہ کس لیے بنایا گیا ؟ جو وجہ قرآن پاک میں ہمیں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ زندگی اس دنیا کی زندگی کا مقصدانسانوں کو آزمانا ہے۔ ہمارے سامنے اللہ کی تمام نعمتیں موجود ہیں اور ہمیں اس نے ان تمام نعمتوں سے آگاہ بھی کردیا ہے کہ کیسے کس نعمت کو استعمال کرنا ہے۔ اور قرآن و سنت کی سب سے بڑی نعمت دی جو ہمیں ہر قدم پر نیکی و بدی کی تمیز کرواتا ہے۔ اس کے بعد کیونکہ ہم اشرف المخلوقات ہیں اس لیے ہمیں علم کے ساتھ ارادہ بھی دے دیا عقل بھی دے دی اب ہمیں خود یہ تعین کرنا ہے کہ شیطان سے دوستی کریں یا اللہ سے۔ پھر ہمیں یہ بھی خبر دے دی کہ تم بالکل آزاد اور بےلگام نہیں چھوڑ دئیے گئے بلکہ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے وہ تمہارے ہر عمل نیت اور ارادے سے پوری طرح واقف ہے۔ لہٰذا نیک راہ اختیار کرو کیونکہ آدم کی اولاد ہو غلطی کا امکان تمہیں وراثت میں ملا ہے تو اس کے لیے بتا دیا ہے۔ حالانکہ قرآن کتاب ہدایت ہے مگر اللہ کی کبریائی وحدانیت اور وجود کی دلیل میں بیشمار ایسی آیات قرآن میں ملتی ہیں جو طبیعیات فزکس بیالوجی فلکیات ریاضی وغیرہ وغیرہ غرض تمام علوم کی طرف واضح اشارات مہیا کرتی ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ مظاہر قدرت پر غور وفکر کرو کیونکہ ایک تو اس طرح نئی نئی معلومات اور انکشافات ہوتے ہیں دوسرا اللہ کی قربت حاصل ہوتی ہے ایمان و یقین میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور روحانی بلندی حاصل ہوتی ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ سائنس کی اگلی جست روحانیت ہے۔ یہاں آیت 3 اور چار انسان کو کائنات کی وسعت کا شعور دلا رہی ہیں کیونکہ ان آیات میں بڑے ہی جامع اور مختصر انداز میں کائناتی و فلکیاتی نکات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مثلاً سات آسمانوں کی موجودگی پہلے آسمان دنیا میں ستاروں کا جھلمل کرنا اور پوری کائنات کا یوں منظم بغیر کسی خرابی کے مسلسل چلتے چلے جانا کہ ماہر ترین حضرات بھی اگر اس پر پورا غوروفکر کریں تو اس نظام میں ہرگز کوئی کمی بیشی کوئی نقص کوئی خرابی بتا نہ سکیں۔ اور ساتھ ہی تحقیق و جستجو کی ترغیب بھی دی جارہی ہے۔ تاکہ آسمانی فضا کے راز ” فضائی درجہ حرارت ” زمین کی متوازن کشش ثقل ” فضاء کی اشعاعی توانائی اور کرہ باد کا فضائے بسیط میں استحکام ” اوزون کی تہہ وغیرہ وغیرہ ان سب پر انسان غور کرے اور اللہ کی حمد وثناء کرے اس کی عظمت کا یقین زیادہ اچھی طرح کرلے۔ یہ سب کچھ تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کے ایمان کمزور ہوتے ہیں ورنہ لا الہ الا اللہ تو سب سے پہلے ان لوگوں نے کہا جو اس وقت علم وعرفان سے بہت دور تھے اور کفروشرک کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔ اصل ایمان تو ان لوگوں کا ہی ہے جنہوں نے نبی کے کہنے پر اسلام قبول کرلیا اور ایمان کے ایسے پکے نکلے کہ جان دیدی مگر ایمان سے منکر نہ ہوئے۔ آسمانوں اور ستاروں کا ذکر تفصیلاً ہوچکا ہے۔ یہاں ایک بار پھر اعلان عام کیا جا رہا ہے کہ منکرین ” مشرکین اور شیطان کے دوست آخرت میں جہنم کی آگ میں ضرور ڈالے جائیں گے۔ یہ قرآن کی دی ہوئی خبر ہے اس قرآن کی جس میں ہرگز کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
Top